لندن۔کرک اگین رپورٹ
انٹرنیشنل کرکٹ دنیا اور عالمی سیاست میں اس وقت ایک ایسا تگڑا بھونچال آ چکا ہے جس نے اسلام آباد سے لے کر لندن تک مقتدر حلقوں کو ہلا کر رکھ دیا ہے۔کرکٹ تازہ ترین ،کرکٹ بریکنگ نیوز اور تازہ ترین آرٹیکلز ۔پاکستان کرکٹ ٹیم کے سابق کپتان اور سابق وزیراعظم عمران خان کی جیل میں بگڑتی ہوئی صحت اور بنیادی حقوق کے حوالے سے اب ان کے بیٹوں، سلیمان خان اور قاسم خان نے میڈیا کے سامنے آ کر ایسے دردناک انکشافات کیے ہیں جنہوں نے بین الاقوامی ضمیر کو جھنجھوڑ کر رکھ دیا ہے۔
گزشتہ چھ ماہ کے دوران یہ مسلسل دوسری بار ہوا ہے جب دنیا کے 21 مایہ ناز کپتانوں نے متحد ہو کر پاکستانی حکومت کو ہنگامی خطوط لکھے ہیں۔ اب صورتحال یہ ہو چکی ہے کہ اس عالمی دباؤ کے بعد دنیا بھر کا پریس اس معاملے پر ابل پڑا ہے۔لندن سے بین الاقوامی میڈیا سے بات کرتے ہوئے عمران خان کے بیٹوں نے انتہائی دکھی لہجے میں بتایا کہ ہم نے پچھلے چھ ماہ سے اپنے والد سے فون پر ایک جملہ تک نہیں بولا، نہ ہمیں بات کرنے دی جا رہی ہے اور نہ ہی ہم نے کئی سالوں سے انہیں دیکھا ہے۔ انہوں نے حکومتِ پاکستان کے رویے پر سخت افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ہمیں اپنے والد سے ملنے کے لیے ویزے تک جاری نہیں کیے جا رہے، یہ کیسا انصاف ہے؟ سلیمان اور قاسم نے عالمی برادری کو بتایا کہ حکومتِ پاکستان خود اپنے ملک کی سپریم کورٹ کے فیصلوں کو ہوا میں اڑا رہی ہے، جس میں عدالت نے عمران خان کو ہسپتال منتقل کرنے اور بیٹوں سے بات کرانے کا حکم دیا تھا، مگر کسی عدالتی حکم کی پرواہ نہیں کی جا رہی۔ انہوں نے اقوامِ متحدہ ، امریکی کانگریس اور برطانوی پارلیمنٹ سمیت تمام عالمی فورمز کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ اب یہ معاملہ صرف پاکستان کا نہیں رہا، بلکہ یہ بنیادی انسانی حقوق کا ایک بہت بڑا بلیک آؤٹ بن چکا ہے۔
اس انسانی المیے پر سرحد پار روایتی حریف بھارت کے لیجنڈز نے بھی حیران کن اور تگڑی وکالت کی ہے۔ بھارت کے سابق ورلڈ کپ وننگ کپتان کپل دیو کا بیان اس وقت پوری دنیا میں وائرل ہے۔ کپل دیو کا کہنا ہے کہ ہم عمران خان کے لیے اس لیے آواز اٹھا رہے ہیں کیونکہ ہم نے ان کے ساتھ کرکٹ کھیلی ہے، ہم نے ہمیشہ بطور کھلاڑی ان کی عظمت کو تسلیم کیا ہے اور وہ اس لائق ہیں کہ انہیں بنیادی طبی سہولیات فراہم کی جائیں۔ جب ان سے پوچھا گیا کہ پاکستان کے اندر سے کوئی سابق کھلاڑی عمران خان کے لیے آواز بلند کیوں نہیں کر رہا، تو کپل دیو نے ایک ایسا دھماکے دار جملہ بولا جس نے پاکستانی کرکٹ کے نامور اسٹارز کے چہروں سے پردہ ہٹا دیا۔ انہوں نے دو ٹوک کہا کہ “پاکستان کے بڑے بڑے سابق کھلاڑی عمران خان کے حق میں اس لیے نہیں بول سکتے کیونکہ وہ پاکستان کے اندر رہتے ہیں۔
بھارتی کپتان اور عمران خان کے بیٹوں کی اس گونج کے ساتھ ہی ادھر انگلینڈ سے مائیکل ایتھرٹن، ناصر حسین اور سر الیسٹر کک سمیت 21 مایہ ناز عالمی کپتانوں کا ایک تازہ ترین مشترکہ خط سامنے آگیا ہے، جس کی قیادت آسٹریلیا کے گریگ چیپل کر رہے ہیں۔ انگلش کپتانوں نے واضح الفاظ میں کہا ہے کہ ریاست عمران خان کا نام و نشان تاریخ سے مٹانے کے درپے ہے، لیکن یہ ڈیجیٹل اور سوشل میڈیا کا دور ہے جہاں عوامی مقبولیت اور ایک لیجنڈ کی محبت کو ریاستی بلیک آؤٹ کے ذریعے قید نہیں کیا جا سکتا۔ جتنا نام مٹانے کی کوشش کی جائے گی، عالمی سطح پر یہ آواز اتنی ہی گونجے گی۔عالمی سطح پر اٹھنے والے اس شدید انسانی دباؤ کے بعد اب پاکستان کے سابق کپتان رمیز راجہ بھی خاموش نہ رہ سکے اور انہوں نے بھی اس حساس معاملے پر اپنی لب کشائی کی ہے۔ تاہم، انہوں نے پاکستان میں رہنے کے باعث انتہائی محتاط اور نپی تلی گفتگو کا راستہ چنا۔ رمیز راجہ نے عمران خان کی بطور کھلاڑی تاریخی خدمات کی تعریف کی اور تصدیق کی کہ وہ تین سال سے جیل میں شدید تنہائی اور دائیں آنکھ کی بینائی جیسے سنگین طبی مسائل سے جوجھ رہے ہیں۔ رمیز راجہ کا یہ انتہائی نپا تلا اور ڈرا ہوا انداز کپل دیو کے اس بیان کی 100 فیصد تصدیق کرتا ہے کہ پاکستان میں موجود کرکٹرز حالات کے ہاتھوں مجبور ہیں اور صرف اتنا ہی بول سکتے ہیں جتنی انہیں اجازت دی جاتی ہے۔ بیٹوں کی فریاد اور سرحد پار سے اٹھنے والی یہ آوازیں یہ ثابت کرتی ہیں کہ عمران خان کا یہ کیس اب پاکستان کی ڈومیسٹک سیاست سے نکل کر بین الاقوامی سطح پر انسانی حقوق کی سب سے بڑی مہم بن چکا ہے۔
