کرک اگین سپیشل رپورٹ ۔
عمران خان کیلئے پوری عالمی کرکٹ برادری اٹھ کھڑی ہوئی۔22 کپتانوں کا بڑا خط۔کرکٹ بریکنگ نیوز
عمران خان کی ٹی شرٹ پہنے فینز کو روکنے پر کرکٹ آسٹریلیاکا یوٹرن،اجازت دے دی،پاکستان میں کیا
کرکٹ کے نامور کھلاڑیوں کی عمران خان کے لیے تشویش۔دنیا بھر کے 22 مشہور کرکٹ کپتانوں نے ایک بار پھر پاکستان کے سابق کپتان اور سابق وزیراعظم عمران خان کے حق میں آواز اٹھائی ہے۔ ان کھلاڑیوں نے حکومتِ پاکستان کو ایک اور نیا خط لکھا ہے۔ خط میں کہا گیا ہے کہ اس ہفتے عمران خان کی صحت کے حوالے سے جو خبریں سامنے آئی ہیں، وہ انتہائی پریشان کن اور بنیادی انسانی حقوق کے خلاف ہیں۔ اس سے پہلے بھی دنیا کے کئی بڑے کرکٹرز نے حکومت کو خط لکھا تھا، لیکن اس پر کوئی عملدرآمد نہیں ہوا۔ اب اس تازہ ترین خط کے ذریعے ایک بار پھر سابق وزیراعظم کی گرتی ہوئی صحت پر گہری تشویش کا اظہار کیا گیا ہے۔
خط کے اہم نکات اور بین الاقوامی کپتانوں کے مطالبات۔ اس بار دنیا بھر کے سابق انٹرنیشنل کپتانوں نے عمران خان کے ساتھ جیل میں ہونے والے سلوک پر براہِ راست پاکستان کے وزیراعظم کو خط بھیجا ہے۔ یاد رہے کہ ان کھلاڑیوں نے اس سے قبل بھی ایک ایسا ہی خط لکھا تھا، اور اب دوبارہ خط لکھنے کی ضرورت اس لیے پیش آئی کیونکہ سپریم کورٹ کے احکامات پر پوری طرح عمل نہیں کیا جا رہا۔ ان کرکٹرز نے حکومت کے سامنے تین اہم مطالبات رکھے ہیں۔
طبی معائنہ: عدالت کے حکم پر جو میڈیکل بورڈ بنایا گیا ہے (جس میں عمران خان کے ذاتی ڈاکٹر بھی شامل ہیں) اسے خان صاحب کا تفصیلی اور آزادانہ معائنہ کرنے دیا جائے۔ خاص طور پر ان کی دائیں آنکھ کی بینائی کمزور ہونے کی جو خبریں آ رہی ہیں، ان کی جانچ کی جائے۔
خاندانی ملاقاتیں۔عدالت نے عمران خان کی اپنے گھر والوں سے ہر ہفتے ملاقات کی جو اجازت دی تھی، اسے بغیر کسی دباؤ یا جیل انتظامیہ کی رکاوٹ کے باقاعدگی سے جاری رکھا جائے۔
فوری علاج۔چیک اپ کے بعد ڈاکٹر جو بھی علاج تجویز کریں، اس میں کوئی تاخیر نہ کی جائے اور وہ سہولت فوراً دی جائے۔طبی معائنے پر تحفظات اور جیل واپس
یاس خط میں آگے لکھا گیا ہے کہ پاکستان کی سب سے بڑی عدالت (سپریم کورٹ) نے خود یہ حکم دیا تھا کہ عمران خان کو اسپتال لے جایا جائے تاکہ ایک خاص میڈیکل بورڈ ان کا چیک اپ کر سکے۔ اس بورڈ میں خان صاحب کے اپنے ذاتی ڈاکٹر اور ان کی بہن ڈاکٹر عظمیٰ خان کا ہونا لازمی قرار دیا گیا تھا۔ اس کے ساتھ ہی عدالت نے ان کے گھر والوں سے ہر ہفتے ملاقات کا سلسلہ بھی دوبارہ شروع کرانے کا کہا تھا، جو کہ ایک بہت اچھا فیصلہ تھا۔ لیکن افسوس کی بات یہ ہے کہ عمران خان کو صرف چند گھنٹوں کے لیے ہی اسپتال میں رکھا گیا۔ عدالت کے بتائے ہوئے بورڈ کے بجائے سرکاری ڈاکٹروں کی ٹیم نے ان کا معائنہ کر کے جلدی سے “طبی طور پر فٹ” قرار دے دیا، اور بورڈ کا کام پورا ہونے سے پہلے ہی انہیں واپس اڈیالہ جیل منتقل کر دیا گیا۔
کپتانوں کا ماضی کا خط اور غیر سیاسی موقف
یہ نیا خط پچھلے چھ مہینوں کے دوران ان سابق کرکٹرز کی طرف سے پاکستان کے وزیراعظم کو بھیجی جانے والی دوسری درخواست ہے۔ اس سے قبل لکھے گئے خط میں انہوں نے عمران خان کی آنکھوں کی تکلیف پر سخت پریشانی کا اظہار کیا تھا، کیونکہ خان صاحب کے گھر والوں نے خدشہ ظاہر کیا تھا کہ جیل میں علاج معالجے کی کمی اور غفلت کی وجہ سے وہ اپنی ایک آنکھ کی بینائی تقریباً پوری طرح کھو چکے ہیں۔ خط پر دستخط کرنے والے ان کھلاڑیوں کا کہنا ہے کہ وہ کسی سیاسی مقصد کے تحت یہ بات نہیں کر رہے، بلکہ وہ عمران خان کے پرانے ساتھی اور حریف ہیں جن کا کرکٹ کے میدان کی وجہ سے ایک مضبوط رشتہ ہے۔ انہوں نے اس بات کا خاص خیال رکھا ہے کہ وہ پاکستان کے اندرونی عدالتی یا قانونی معاملات میں کسی قسم کی مداخلت نہیں کرنا چاہتے۔
خط پر دستخط کرنے والے دنیا کے مایہ ناز کپتانوں کے نام
عمران خان کے حق میں لکھے گئے اس خط پر دنیا بھر کے جن نامور کھلاڑیوں نے دستخط کیے ہیں، ان میں مائیکل ایتھرٹن، ایلکس بلیک ویل, ایلن بارڈر، مائیکل بریرلی، گریگ چیپل، ایان چیپل، بیلنڈا کلارک، الیسٹر کک، مائیکل گیٹنگ، سنیل گواسکر، لی جرمون، ایڈم گلکرسٹ، ڈیوڈ گوور، کم ہیوز، ناصر حسین، کلائیو لائیڈ، کپل دیو، ارجنا راناتونگا، شان پولاک، دلیپ وینگسرکار، اسٹیو وا اور جان رائٹ شامل ہیں۔ کرکٹ کی تاریخ کے ان عظیم کپتانوں کا ایک ساتھ آنا اس معاملے کی عالمی اہمیت کو واضح کرتا ہے۔
