کرک اگین سپیشل رپورٹ ۔ ٹرائی سیریز،پاکستان سکواڈ فائنل،رضوان باہر،وکٹ کیپر کا نیا پلان ۔
پاکستان کا ہوم سیزن،ون ڈے اسکواڈ کی تیاری اور سابق کپتان محمد رضوان کے کیریئر پر منڈلاتے خطرات۔کرکٹ کی تازہ ترین خبریں یہ ہے کہ پاکستان کرکٹ ٹیم کے ہوم سیزن کے لیے ون ڈے اسکواڈ کی تیاریاں آخری مراحل میں داخل ہو چکی ہیں، مگر اس کے ساتھ ہی سابق کپتان محمد رضوان کا معاملہ ایک انتہائی سنگین اور پیچیدہ رخ اختیار کر گیا ہے۔
ایک طرف جہاں قومی سلیکٹرز نے انگلینڈ اور سری لنکا کے خلاف آئندہ ماہ ہونے والی سہ ملکی ون ڈے سیریز اور ٹی 2ط میچز کے لیے ابتدائی ہوم ورک مکمل کرتے ہوئے اسکواڈ کو حتمی شکل دے دی ہے، وہیں دوسری طرف محمد رضوان لاہور ہائی کورٹ سے ریلیف نہ ملنے کے بعد وفاق کے تحقیقاتی ادارے کے شکنجے میں ہیں۔
رضوان نے تفتیشی کمیٹی کو اپنا تفصیلی جواب تو جمع کروا دیا ہے، مگر ساتھ ہی انہوں نے الٹا انکوائری کے طریقہ کار پر ہی سنگین سوالات اٹھا دیے ہیں۔ ان کا موقف ہے کہ اگر معاملہ کرپشن کا ہے، تو ضابطے کے تحت اسے انٹرنیشنل کرکٹ کونسل (آئی سی سی) کے اینٹی کرپشن یونٹ کو بھیجا جانا چاہیے تھا۔ رضوان کا کہنا ہے کہ انہیں بند کمرے میں بلا کر صرف یہ کہا گیا کہ وہ جوئے کی کسی کمپنی کے ساتھ انوالو ہیں، لیکن نہ تو الزامات کی کوئی ٹھوس تفصیل دی گئی اور نہ ہی ان کا مبینہ کردار واضح کیا گیا۔ذرائع کے مطابق تحقیقات کے دوران محمد رضوان سے انتہائی ذاتی اور تفصیلی سوالات پوچھے گئے، جن میں ان کی تاریخِ پیدائش، ولدیت، گزشتہ 10 سال کا کرکٹ ریکارڈ، سوشل میڈیا اکاؤنٹس اور بینک اسٹیٹمنٹس تک شامل ہیں۔
ان سخت سوالات کی نوعیت دیکھ کر لگتا ہے کہ رضوان کو جان بوجھ کر کسی بڑے تنازع میں الجھانے کی کوشش کی گئی ہے۔ دوسری طرف آئی سی سی کا واضح قانون ہے کہ انٹرنیشنل میچز یا سیریز کے دوران ایسے کسی بھی مشکوک معاملے پر عالمی باڈی کو اعتماد میں لینا ضروری ہوتا ہے، لیکن پاکستان کرکٹ بورڈ نے اس معاملے میں آئی سی سی کو بائی پاس کیا۔ اس پورے قضیے پر پڑوسی ملک بھارت کے کرکٹ حلقوں میں بھی حیرت کا اظہار کیا جا رہا ہے، جہاں رضوان کی نیک نامی اور مضبوط کردار کو دیکھتے ہوئے ان الزامات کو شک کی نگاہ سے دیکھا جا رہا ہے۔ دنیا بھر کے معروف کرکٹ ماہرین بھی اس انکوائری کو درست تسلیم کرنے سے قاصر ہیں۔
ان تمام تر تنازعات کے باوجود، کرکٹ گراؤنڈ سے آنے والی اچھی خبر یہ ہے کہ ون ڈے اسکواڈ میں بابر اعظم اپنی جگہ بنانے میں کامیاب رہے ہیں جبکہ محمد رضوان اور امام الحق نکال دیاگیا ہے۔ اس ہوم سیزن کا باقاعدہ آغاز سری لنکا کے خلاف ٹی ٹوئنٹی سیریز سے ہوگا، جس کے بعد پاکستان، انگلینڈ اور سری لنکا کے درمیان تاریخی ون ڈے انٹرنیشنل ٹرائی سیریز کا میلہ سجے گا اور پھر اگلے ماہ سری لنکا کے خلاف دو ٹیسٹ میچوں کی سیریز بھی کھیلی جائے گی۔ سلیکشن میں ملتان میں کھیلے گئے حالیہ نیشنل چیمپیئنز کپ کے پرفارمرز اور مختلف ٹی ٹوئنٹی لیگز میں چمکنے والے کھلاڑیوں کو ترجیح دی جا رہی ہے اور اسکواڈ کا باقاعدہ اعلان جلد ہی متوقع ہے۔ بڑا سوال یہ ہے کہ محمد رضوان کا مستقبل اب کیا ہوگا؟ کیا ان کا شاندار کیریئر اور ون ڈے ورلڈ کپ کھیلنے کا خواب ہمیشہ کے لیے ختم ہو رہا ہے؟ اور وہ خود اس نازک صورتحال میں کیا فیصلہ کرنے والے ہیں۔
لاہور ہائیکورٹ،محمد رضوان کی درخواست مسترد،عدالت میں کیا ہوا
ذرائع کا کہنا ہے کہ رضوان اس وقت شدید ذہنی تکلیف اور اذیت سے گزر رہے ہیں، جس کی وجہ سے انہوں نے اپنے قریبی دوستوں اور خاندان کے بڑوں سے مشاورت کا سلسلہ شروع کر دیا ہے۔ ان کی اولین ترجیح یہ ہے کہ ان پر لگنے والے الزامات سے پہلے انہیں مکمل کلیئرنس ملے، اور وہ انکوائری کے اس جال سے پاک ہو کر ہی میڈیا اور حکام کو کوئی حتمی جواب دیں۔
