حافظ محمد عمران عثمانی
لارڈز میں پاکستان کی بادشاہت داؤ پر، ایک شکست سےدو بڑے نقصانات کا خطرہ
پاکستان کی اگلی منزل، ہوم آف کرکٹ لارڈز اور ریکارڈ بچانے کا چیلنج۔کرکٹ کے تازہ ترین آرٹیکلز،کرکٹ بریکنگ نیوز اور تازہ ترین کرکٹ خبر میں سے ایک
پاکستان کرکٹ ٹیم کی اگلی منزل ہوم آف کرکٹ ہے۔ کرکٹ کا اصل اور بنیادی گھر لارڈز (لندن) کو کہا جاتا ہے، جہاں 27 اگست سے پاکستان اور انگلینڈ کے درمیان دوسرا ٹیسٹ میچ شروع ہو رہا ہے۔ سیریز بچانے کے لیے پاکستانی ٹیم کو اس میچ میں ہر صورت شکست سے بچنا ہوگا، چاہے میچ کا نتیجہ ڈرا ہی کیوں نہ ہو۔ اگر پاکستان یہ میچ ہار گیا تو اسے بیک وقت دو بڑے نقصان اٹھانے پڑیں گے۔ پہلا نقصان ہونگے۔ایک سیریز ہارنے کی شکل میں ہوگا، لیکن دوسرا نقصان اس سے بھی بڑا اور خوفناک ہوگا۔ اس دوسرے نقصان کی طرف فی الحال کرکٹ تجزیہ نگاروں اور مورخین کی نگاہیں بہت کم ہیں لیکن بعد میں جب تصویر بالکل واضح ہوگی تب سب کو اندازہ ہوگا کہ اصل میں کیا ہوا ہے۔
لارڈز میں پاکستان کا شاندار تاریخی ریکارڈ
پاکستان کا اس تاریخی ٹیسٹ سینٹر پر انگلینڈ کے خلاف ریکارڈ ایک طویل عرصے سے مثالی اور شاندار رہا ہے۔ ماضی قریب پر نظر ڈالیں تو پاکستان نے مئی 2018 میں یہاں ٹیسٹ میچ 9 وکٹوں سے جیتا تھا، جبکہ اس سے قبل جولائی 2016 کی سیریز کے دوران بھی 75 رنز سے کامیابی حاصل کی تھی۔ دوسری طرف انگلینڈ نے یہاں پاکستان کے خلاف 2010 میں ایک اننگز اور 225 رنز کی بڑی فتح اپنے نام کی تھی۔
اگر تاریخ کے جھروکوں میں جھانکیں تو پاکستان نے جب پہلی بار یہاں ٹیسٹ کھیلا تھا، تو وہ ڈرا ہوا تھا۔ اس کے بعد 1982 میں جب پاکستان نے لارڈز میں ٹیسٹ میچ جیتا، تو اس میدان پر یہ اس کی پہلی کامیابی تھی۔ اس سے قبل کھیلے گئے میچز یا تو انگلینڈ نے جیتے تھے یا ڈرا ہوئے تھے۔ لیکن 1982 کے بعد سے یہاں کھیلے گئے 10 ٹیسٹ میچوں میں پاکستان نے 5 جیتے، 2 ڈرا کیے اور صرف 3 ہارے۔ مجموعی طور پر لارڈز کے میدان پر کھیلے گئے 15 میچوں میں پاکستان کا ریکارڈ انگلینڈ کی 4 فتوحات کے مقابلے میں 5 فتوحات کے ساتھ بہت اونچا اور شاندار ہے۔
موجودہ ٹیم کی کمزوریاں اور لارڈز کا خوفناک نقصان
اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ ہیڈنگلے (لیڈز) ٹیسٹ میں بدترین شکست سے دوچار ہونے والی اس پاکستانی ٹیم سے کیا امید کی جا سکتی ہے؟ موجودہ ٹیم کے پاس نہ تو ماضی جیسا پیس اٹیک ہے، نہ کوالٹی اسپنرز ہیں اور نہ ہی اعلیٰ پائے کے بیٹرز۔ بابر اعظم پہلا ٹیسٹ نہیں کھیل سکے تھے، اب اگر وہ دوسرے میچ میں واپسی کرتے بھی ہیں تو ان کا اعتماد کہاں ہوگا؟ گزشتہ طویل عرصے سے ان کی جو فارم اور پوزیشن رہی ہے، وہ انہیں کس مقام پر کھڑا کرے گی؟ یہی حال دیگر بیٹرز کا ہے؛ عبداللہ شفیق، سعود شکیل، امام الحق اور خود کپتان شان مسعود کی فارم پر سوالات ہیں، جبکہ محمد رضوان کی شرکت بھی مشکوک ہے۔ ایسے میں یہ بیٹنگ لائن اپ کیا پرفارم کرے گی۔
پاکستان کو سب سے بڑا خسارہ اپنی بولنگ میں ہے۔ ایک وقت میں دنیا کے بہترین پیس اٹیک کی شہرت رکھنے والے پاکستان کے پاس اب محمد عباس جیسے میڈیم پیسر ہیں، جن کی نپی تلی بولنگ تو مشہور ہے لیکن وہ میچ وننگ بولنگ نہیں کر سکے۔ ان کے ساتھ دینے والا بھی کوئی دوسرا بڑا بولر موجود نہیں ہے۔ اسپنرز کی بات کریں تو انگلینڈ کبھی ایسی پچ نہیں بنائے گا جو اسپنرز کو بہت زیادہ مدد دے، وہاں پیسرز کے لیے گرین ٹاپ وکٹ چھوڑی جا سکتی ہے۔
ان حالات میں پاکستان کے لیے ‘ہوم آف کرکٹ’ لارڈز میں دو بڑے نقصان سامنے کھڑے ہیں۔ پہلا نقصان تو سیریز ہارنے کا ہوگا، لیکن دوسرا بڑا نقصان یہ ہوگا کہ اگر پاکستان یہ میچ ہارا تو لارڈز کے میدان پر پاکستان اور انگلینڈ کی فتوحات کی تعداد برابر ہو جائے گی۔ یوں پاکستان کی وہ تاریخی برتری ختم ہو جائے گی جو ایک طویل عرصے سے چلی آ رہی تھی۔ یہ پاکستان کے لیے انتہائی عبرت ناک بات ہوگی کہ کرکٹ کے اس تاریخی گھر میں، جہاں ہمیشہ اس کا رعب، عزت اور برتری قائم تھی، وہ ریکارڈ بھی ہاتھ سے نکل جائے گا۔
ریکارڈ کا دباؤ اور ایجبسٹن کا اگلا چیلنج
ایک دلچسپ حقیقت یہ بھی ہے کہ لارڈز میں اتنا شاندار ریکارڈ رکھنے کے باوجود، پاکستان کرکٹ ٹیم اس تاریخی میدان پر کبھی بھی 445 سے زائد رنز اسکور نہیں کر سکی، جبکہ یہاں پاکستان کا کم سے کم اسکور 74 رنز رہا ہے۔ اہم بات یہ ہے کہ گزرے وقتوں میں پاکستان نے انگلینڈ کو ہمیشہ ان کے ہوم گراؤنڈ پر شدید مشکلات سے دوچار کیا، لیکن آج حالات بالکل بدل چکے ہیں۔ آج انگلش میڈیا، غیر ملکی مبصرین اور تجزیہ کار پاکستانی کرکٹ ٹیم کو کسی کھاتے میں شمار نہیں کر رہے ہیں۔
اب صرف ایک ہی چیز پاکستان کو اس عبرت ناک نقصان سے بچا سکتی ہے؛ وہ ہے لارڈز کا اپنا تاریخی ریکارڈ، اور میچ کے دوران کسی کھلاڑی کی قسمت کا جاگ جانا،چاہے وہ بابر اعظم ہوں یا کوئی اور بیٹر۔ بولنگ میں بھی اگر کسی ایک بولر کا دن اچھا رہا، تو شاید پاکستان اس تاریخی ریکارڈ کی بدولت بجھتے ہوئے دیے میں ایک ایسی سرسراہٹ پیدا کر دے جس سے روشنی ذرا تیز ہو جائے۔ تاہم، یہ فتح اگر ملی بھی، تو ایک عارضی کامیابی ہوگی، مستقل نہیں،کیونکہ اس کے بعد اگلا ٹیسٹ میچ ایجبسٹن میں ہے اور وہاں کے حالات پاکستان کے لیے کسی طور اچھے نہیں ہوں گے۔
لارڈز کرکٹ گراؤنڈ لندن سے تازہ ترین صورتحال
کرکٹ کے تازہ ترین آرٹیکلز، بریکنگ نیوز اور کرکٹ اپڈیٹس میں یہ تفصیلات اس وقت نمایاں طور پر زیرِ بحث ہیں۔ ہمارا تجزیہ بھی یہی ہے کہ پاکستان کرکٹ ٹیم کے لیے اس اہم ترین میچ میں بہت زیادہ مشکلات ہوں گی۔ اس کی سب سے بڑی وجہ یہ ہے کہ ٹیم ذہنی طور پر ہاری ہوئی دکھائی دیتی ہے اور موجودہ حالات بالکل سازگار نہیں ہیں۔ ٹیسٹ میچ ایک بہت بڑا امتحان ہوتا ہے اور لارڈز کے میدان پر برطانوی کنڈیشنز میں پورے پانچ دن کھیل جانا ہی اس ٹیم کے لیے ایک بڑی بات ہوگی۔
اگر لارڈز کرکٹ گراؤنڈ لندن میں پاکستان کے مجموعی ریکارڈ پر نظر دوڑائی جائے تو یہ اب تک بہت شاندار رہا ہے۔ پاکستان نے یہاں اب تک کُل 15 ٹیسٹ میچ کھیلے ہیں، جن میں سے 5 میچوں میں کامیابی حاصل کی ہے، جبکہ 4 میچوں میں اسے شکست کا سامنا کرنا پڑا ہے اور 6 ٹیسٹ میچ ڈرا ہوئے ہیں۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ میزبان انگلینڈ فتوحات کے معاملے میں یہاں پاکستان سے ایک میچ پیچھے ہے۔ کسی بھی مہمان ٹیم کا ‘ہوم آف کرکٹ’ لارڈز میں ایسا شاندار ریکارڈ ہونا ایک بہت بڑا اعزاز ہے، جس کا تحفظ اس وقت پاکستانی ٹیم کا سب سے بڑا چیلنج ہے۔
