حافظ محمد عمران عثمانی کی تحریر
عالمی کپتانوں کی خان کے لیے پکار، 21 دستخط، اپنے ہی دیس کا ہر ہیرو گونگا اور بہرا کیوں ۔کرکٹ کے تازہ ترین آرٹیکلز میں سے ایک کو پاکستان کی سیاسی،عدالت اور ریاست کیلئے مدد گار ہیں۔بریکنگ نیوز ۔
ہر رات کے بعد ایک صبح مقرر ہے، ہر گہری تاریکی کے پیٹ سے سحر جنم لیتی ہے۔ کائنات کا اصول ہے کہ سورج طلوع ہوتا ہے تو اجالا پھیلتا ہے، لیکن اسے بھی ایک طے شدہ وقت کے لیے غروب ہونا پڑتا ہے۔ قدرت نے رات کے اندھیرے کو چاند کا استعارہ دیا، تو اسی تاریکی میں امید کا ایک دیا، روشنی کا ایک راستہ بھی رکھ دیا۔ دن کے اجالے میں انسان کو اختیار ملا ہے کہ وہ چاہے تو غفلت کا پردہ اوڑھ لے، یا یہ سوچے کہ یہ روشنی عارضی ہے۔ میں یہ الفاظ دوسری بار لکھ رہا ہوں، اور یقین جانیے، لکھتے ہوئے دل شدید اذیت اور تکلیف کی گرفت میں ہے۔ بالکل چھ ماہ قبل بھی میں نے اسی درد کو کاغذ پر اتارا تھا، جب دنیا کے 14 نامور کپتانوں نے عمران خان کے انسانی حقوق کے لیے آواز بلند کی تھی، مگر خان کے سائے تلے کھیلنے والے اور ان کے نقشِ قدم پر چلنے والے اپنے ہی کھلاڑیوں کے ہونٹ سلے رہے تھے۔ آج تو حد ہی ہو گئی! دنیا کے 21 عظیم کپتانوں نے عمران خان کے حق میں چٹھی لکھی، اپنے دستخط ثبت کیے، مگر اس پوری فہرست میں ایک بھی پاکستانی نام شامل نہیں ہے۔ آخر یہ کیسی مصلحت ہے۔
آسٹریلیا اور نیوزی لینڈ دنیا کے اس کونے میں ہیں جہاں سال کا آغاز سب سے پہلے ہوتا ہے، اور دوسری طرف امریکی جزائر ہیں جہاں دن کا اختتام سب سے آخر میں ہوتا ہے۔ روشنی کا یہ اتار چڑھاؤ بدل سکتا ہے، مگر قدرت کا نظام اپنے فکس راستے پر چلتا ہے۔ بھارت سیاسی اور کرکٹ کے میدان میں ہر اعتبار سے پاکستان کا کٹر مخالف ہے، دنیا اس سچائی سے واقف ہے۔ لیکن دیکھیے کہ بھارت کے سابق کپتان، کپل دیو جیسے لیجنڈز سیاسی حدود سے بالاتر ہو کر پاکستان کے سابق کپتان اور سابق وزیراعظم کے لیے آواز بلند کرتے ہیں، اور ایسا وہ دوسری بار کر رہے ہیں۔ آسٹریلیا کے کلاسک کھلاڑی ہوں، چیپل برادران ہوں، یا وہاں کی خواتین کرکٹرز۔سب بول رہے ہیں۔ نیوزی لینڈ اور انگلینڈ کے نامور کھلاڑی دوسری بار اس مہم کا حصہ بنے ہیں۔ امریکہ، جہاں کرکٹ کا کوئی بڑا ہیرو نہیں ہے، وہاں سے بھی انسانیت کی بنیاد پر تائید آ رہی ہے۔ اس کے ساتھ موجود جزائر غرب الہند سے دنیا کے کامیاب ترین کپتان نے سائن کئے ہیں۔ جی ہاں! ویسٹ انڈیز سے .دنیا کا ہر خطہ بول رہا ہے، لیکن اگر آواز کہیں سے نہیں آ رہی، تو صرف اس دیس سے جہاں عمران خان خود بستا ہے۔یہ وہی پاکستان ہے جہاں وسیم اکرم، وقار یونس اور رمیز راجہ جیسے نام عمران خان کا حوالہ دے کر اپنا چہرہ بڑا کرنے کی کوشش کرتے ہیں، پبلک میں اپنا وزن بناتے ہیں۔ مگر جب حق بات کہنے اور سچ کا ساتھ دینے کی باری آتی ہے، تو ایسی بزدلی دکھاتے ہیں کہ سوشل میڈیا پر رسوائی ان کا مقدر بن جاتی ہے۔ اب جب سوشل میڈیا پر ہر طرف سے لعن طعن ہوگی، تو چھ ماہ پہلے کی طرح کوئی ایک آدھ کھلاڑی صبح سویرے اٹھے گا اور اپنا فرض پورا کرنے کے لیے ایک بے جان سا ٹویٹ داغ دے گا۔ اب خبریں ہیں کہ جاوید میانداد عمران خان سے ملاقات کے لیے سپریم کورٹ سے رجوع کر رہے ہیں۔ بھئی! عدالت جانے سے پہلے آپ سیدھے اڈیالہ جیل کیوں نہیں چلے جاتے؟ مشکل وقت سب پر آتے ہیں۔ یہاں بحث یہ نہیں کہ کون صحیح ہے اور کون غلط، بلکہ بات انسانی حقوق، ذاتی تعلق اور اس نام کے حق کی ہے جس نے آپ کو پہچان دی۔ کرکٹرز نے تو جیسے کانوں میں انگلیاں ٹھونس رکھی ہیں، چاہے وہ ہوں جنہیں خان نے اپنے ہاتھ سے تراشا، یا وہ جو ان کے جانے کے بعد ان کے نقشِ قدم پر چل کر سپر اسٹار بنے۔ سب ایسے گونگے، بہرے اور خوفزدہ بیٹھے ہیں جیسے کوئی وجود ہی نہ ہو۔
عمران خان کیلئے پوری عالمی کرکٹ برادری اٹھ کھڑی ہوئی۔22 کپتانوں کا بڑا خط
ایک ہوتی ہے رائے، ایک ہوتی ہے انسان کی اپنی ذاتی سوچ، لیکن ان سب سے اوپر ایک چیز ہوتی ہے جسے ‘انسانیت’ کہتے ہیں۔ جہاں معاملہ انسانیت کا ہو، جہاں بنیادی حقوق سلب ہو رہے ہوں اور جہاں ظلم و ستم حد سے بڑھ جائے، وہاں تمام تر ذاتی اور سیاسی اختلافات اٹھا کر باہر پھینک دیے جاتے ہیں۔ میں حیران بھی ہوں اور شدید پریشان بھی، کیا اتنے بڑے پاکستان میں ایک بھی ایسا دلیر کرکٹر نہیں بچا جو اس ناانصافی پر کھل کر بول سکے؟ میں ریاست کے ان طاقتور اور ذمہ دار لوگوں کی عقل پر بھی حیران ہوں کہ ان میں سے بھی کسی ایک کو غیرت نہ آئی۔ آپ نے کسی سے سیاسی اختلاف رکھنا ہے، شوق سے رکھیے، دشمنی نبھانی ہے، کھل کر نبھائیے، لیکن دشمنی میں آپ کسی کو اس کے بنیادی اور ذاتی انسانی حقوق سے کیسے معطل کر سکتے ہیں؟ یہ چلن تو صرف جنگل کا ہوتا ہے۔ کیا ہم واقعی کسی جنگل میں رہ رہے ہیں؟ اگر ایسا ہی ہے، اور موجودہ حالات دیکھ کر یقیناً یہی لگ رہا ہے، تو پھر چلیے ہم فرض کر لیتے ہیں کہ ہم انسان نہیں بلکہ جنگل کے باسی ہیں، اور جنگل کا تو اصول ہی یہی ہے کہ وہاں جس کی لاٹھی ہوتی ہے، اسی کی بھینس ہوتی ہے اور جتنی جس کی طاقت ہوتی ہے، وہ ویسے ہی راج کرتا ہے۔سلام ہے دنیا کے ان 21 کپتانوں کو جنہوں نے انسانی حقوق کے اس نازک موڑ پر ایک بار پھر ضمیر کی آواز کو زندہ رکھا۔ آواز بلند کرنا آپ کا فرض ہے، اس کا نتیجہ کیا نکلتا ہے، یہ آپ کے اختیار میں نہیں ہے۔ ہم دعا گو ہیں کہ پاکستان کے سابق کپتان اور سابق وزیراعظم عمران خان کو کم سے کم طبی بنیادوں پر وہ تمام سہولیات اور حقوق ملیں جن کا حکم پاکستان کی سب سے بڑی عدالت، سپریم کورٹ بھی دے چکی ہے۔ اس مسلمہ اصول پر کوئی دو رائے نہیں ہو سکتیں، اور اس کی مخالفت کرنے والے صرف ذاتی دشمن ہی ہو سکتے ہیں، جن کے پاس کوئی منطق باقی نہیں بچی۔
