لاہور۔کرک اگین رپورٹ
عدالت کیوں گئے،رضوان کیلئے نئی چارج شیٹ تیار
پاکستان کرکٹ میں احتساب کا اصول یا قانونی حدود سے تجاوز ۔کرکٹ بریکنگ نیوز ہے کہ پاکستان کرکٹ ٹیم کے سابق کپتان محمد رضوان اور پاکستان کرکٹ بورڈ کے درمیان پسِ پردہ چلنے والی سرد جنگ اب کھل کر سامنے آ چکی ہے۔ تازہ ترین کرکٹ خبر کے مطابق اور ذرائع کے مطابق محمد رضوان کی جانب سے وفاقی تحقیقاتی ادارے کے سائبر کرائم ونگ کے خلاف لاہور ہائی کورٹ سے رجوع کرنے کے فیصلے نے مبینہ طور پر اعلیٰ حکام اور بورڈ حکام کو برہم کر دیا ہے۔ اگرچہ کھلاڑی نے یہ قانونی چارہ جوئی ایک سرکاری ادارے کے خلاف کی ہے، تاہم کرکٹ بورڈ اسے بالواسطہ طور پر اپنے اختیارات کو چیلنج کرنے اور ادارے کی ساکھ کو متاثر کرنے کی کوشش سمجھ سکتا ہے۔
اطلاعات ہیں کہ بورڈ حکام اس وقت ان کے خلاف جاری تحقیقات پر توجہ مرکوز کیے ہوئے ہیں، لیکن پسِ چلمن رضوان پر ایک اور فردِ جرم تیار کی جا رہی ہے جس میں یہ سوال اٹھایا جائے گا کہ انہوں نے بورڈ کے داخلی طریقہ کار کو نظر انداز کر کے عدالت کا دروازہ کیوں کھٹکھٹایا۔یاد رہے کہ گزشتہ روز لاہور ہائی کورٹ نے ان کی درخواست مسترد کر دی تھی۔
محمد رضوان کا نیا قدم،آئی سی سی سے رابطہ،کیا کہا،مکمل تفصیلات
دوسری جانب، آزاد ذرائع اور قانونی ماہرین نے اس پورے معاملے کے طریقہ کار پر کئی سنجیدہ سوالات اٹھا دیے ہیں۔آزاد ذرائع سے سامنے آنے والی تفصیلات کے مطابق، لندن میں محمد رضوان سے ان کا ذاتی موبائل فون حاصل کرنے کے لیے جو طریقہ اپنایا گیا، وہ خود کئی شکوک و شبہات کو جنم دیتا ہے۔ رضوان اپنا فون دینے کے حق میں نہیں تھے، مگر بورڈ حکام کے ہمراہ ایک مبینہ سرکاری اہلکار کا تعارف کروا کر “ملکی مفاد اور پاکستان کے نام پر” ان سے فون لے لیا گیا۔ یہ فون پہلے کرکٹ بورڈ اور پھر ایک سرکاری ایجنسی کے پاس گیا اور کئی ہفتوں تک کھلاڑی کو واپس نہیں ملا۔ قانونی حلقوں میں یہ سوال شدت سے گونج رہا ہے کہ کسی بھی کھلاڑی کا ذاتی ڈیٹا اس طرح حاصل کرنے کا قانونی یا معاہداتی اختیار کیا تھا؟موجودہ ڈیجیٹل دور میں سوشل میڈیا پر کوئی بھی سنسنی خیز الزام چند سیکنڈز میں لاکھوں لوگوں تک پہنچ جاتا ہے۔ ایسے میں خبر رساں اداروں اور صحافیوں کی ذمہ داری محض کسی کے کہے ہوئے بیان کو آگے بڑھانا نہیں ہے۔
محمد رضوان کے کیس میں درج ذیل پہلوؤں پر حقیقت کا مشاہدہ کرنا ضروری ہے۔اگر یہ پروپیگنڈا کیا جا رہا ہے کہ رضوان نے ٹیم کی ذمہ داری چھوڑ کر مسجد کا رخ کیا، تو تحقیقاتی نظام کو واضح کرنا ہوگا کہ کھلاڑی نے کون سی سرکاری ذمہ داری چھوڑی؟ کیا کوئی اہم ٹیم میٹنگ یا تربیت کا سیشن متاثر ہوا؟ کیا میچ کے دوران نظم و ضبط کی کوئی خلاف ورزی ہوئی یا ٹیم کا طے شدہ وقت توڑا گیا؟ اسی طرح اگر معاملے میں بیٹنگ، آن لائن جوئے یا مشکوک مالی لین دین کا ذکر ہے، تو بورڈ کو ابہام دور کرنا چاہیے کہ کون سا مخصوص بینکنگ یا نقد لین دین زیرِ تحقیق ہے؟ کیا یہ معاملہ محض کسی برانڈ کی تشہیر کا ہے، جوئے کا ہے، یا میچ فکسنگ اور اندرونی معلومات کی فراہمی کا ہے؟ کسی نوٹس میں محض ایسے الفاظ لکھ دینے سے جرم ثابت نہیں ہو جاتا۔ جب تک ٹھوس شواہد سامنے نہ آئیں، کسی کھلاڑی کا میڈیا ٹرائل کرنا ناانصافی ہے۔
اگر پاکستان کرکٹ میں شفافیت کا نظام قائم کرنا ہے، تو کرکٹ بورڈ کو چند بنیادی سوالات کے واضح جوابات ریکارڈ پر لانے ہوں گے۔ اگر کارروائی مرکزی معاہدے کی مخصوص شق کے تحت ہوئی، تو اس کی باقاعدہ تحریری رپورٹ کہاں ہے؟ کھلاڑی کا قیمتی اور ذاتی فون تحویل میں لیتے وقت کوئی قانونی رسید کیوں جاری نہیں کی گئی؟ اگر انٹرنیشنل کرکٹ کونسل کے اینٹی کرپشن کوڈ کا سہارا لیا گیا، تو عالمی ادارے کی تحریری درخواست کہاں ہے اور اس میں اس کا اپنا کیا کردار تھا؟ اگر فون رضاکارانہ طور پر دیا گیا، تو کھلاڑی کی طرف سے ڈیٹا تک رسائی کی حدود کیا تھیں؟ اور سب سے بڑھ کر یہ کہ برطانیہ کی سرزمین پر کسی پاکستانی شہری کا فون ضبط کرنے کا وہاں کے قوانین کے تحت کیا جواز تھا؟کھلاڑی کے حقوق کا تحفظ کرنے کا ہرگز یہ مطلب نہیں کہ اسے احتساب یا انکوائری سے استثنا دیا جائے۔ احتساب کرکٹ کی بقا کے لیے ضروری ہے، لیکن اس کا طریقہ کار قانون کے دائرے میں ہونا چاہیے۔ کسی بھی کھلاڑی کو ثبوت اور جرم ثابت ہونے سے پہلے ہی مجرم بنا کر پیش کرنا انصاف کے اصولوں کے خلاف ہے۔ اگر کھلاڑی سے ضابطے کی پابندی مانگی جاتی ہے، تو مقتدر ادارے کو بھی مروجہ قوانین کا پابند ہونا پڑے گا۔
رضوان نے آخری اپڈیٹ کے مطابق آئی سی سی اینٹی کرپشن یونٹ سے رابطہ کیا ہے اور ذرائع کے مطابق انہیں جواب بھی موصول ہو گیا ہے۔
