لندن۔کرک اگین تازہ ترین رپورٹ ۔
بدترین ٹیم کے بعد بدترین پی سی بی ایڈمنسٹریشن ، ناصر حسین اور مائیکل ایتھرٹن کے قہقہے۔
کرکٹ کا تازہ ترین آرٹیکلز ۔بریکنگ نیوز اور تازہ ترین خبر یہ ہے کہ 50 سال کی تاریخ کی سب سے کمزور پی سی بی ایڈمنسٹریشن، انگلش میڈیا کے پاکستان کرکٹ پر وار اور ناصر حسین کا تیکھا پوسٹ مارٹم۔
پاکستان کرکٹ ٹیم کے حالیہ بحران اور انگلینڈ کے خلاف عبرت ناک شکست نے عالمی سطح پر پاکستان کرکٹ کا تماشہ بنا دیا ہے۔ لیڈز ٹیسٹ کے دوران جب انگلش میڈیا نے یہ دعویٰ کیا تھا کہ یہ گزشتہ 50 سالوں میں انگلینڈ کا دورہ کرنے والی پاکستان کی سب سے گندی اور کمزور ترین ٹیم ہے، تو پاکستانی میڈیا نے اسے ایکا کر کے ‘مائنڈ گیمز’ قرار دیا تھا۔ مقامی مبصرین کا موقف تھا کہ انگلش میڈیا سوچے سمجھے منصوبے کے تحت پاکستانی کھلاڑیوں کو ذہنی دباؤ کا شکار کر رہا ہے۔ لیکن حالیہ لارڈز ٹیسٹ کی بدترین شکست کے بعد کہانی نے ایک نیا اور انتہائی شرمناک رخ اختیار کر لیا ہے۔ اب بات صرف کھلاڑیوں کی کارکردگی تک محدود نہیں رہی، بلکہ پاکستان کرکٹ بورڈ کا اندرونی ڈھانچہ بھی دنیا کے سامنے بے نقاب ہو چکا ہے۔انگلینڈ کے سابق کپتان ناصر حسین اور مائیکل ایتھرٹن نے اپنے تازہ ترین کرکٹ پوڈ کاسٹ میں پاکستان کرکٹ بورڈ (PCB) کی کارکردگی پر ایسے تابڑ توڑ حملے کیے ہیں جنہوں نے ہلا کر رکھ دیا ہے۔
ناصر حسین کا کہنا تھا کہ لارڈز ٹیسٹ کے بعد پاکستان کرکٹ کے حوالے سے جو کچھ ہوا، وہ ایک تماشہ تھا اور اس سے بڑی اور کوئی ‘سرکس’ ہو نہیں سکتی۔ انہوں نے کہا کہ ٹیم کی پرفارمنس تو خراب تھی ہی، لیکن اس کے بعد بورڈ حکام کا ردعمل، ان کے ایکشنز اور پبلک میں دیے جانے والے غیر ذمہ دارانہ بیانات انتہائی مضحکہ خیز ہیں۔ ناصر حسین نے ماضی کو یاد کرتے ہوئے جذباتی انداز میں کہا، “ہم نے وہ پاکستان ٹیم دیکھی ہے جس میں وسیم اکرم، وقار یونس، سعید انور اور انضمام الحق جیسے لیجنڈز تھے، جہاں وکٹیں بھی ملتی تھیں اور سنچریاں بھی بنتی تھیں۔ مجھے اس عظیم ٹیم کو آج اس حالت میں دیکھ کر بہت دکھ ہوتا ہے، لیکن اس کا ذمہ دار کون ہے؟ کھلاڑی تو ہرگز اس کے ذمہ دار نہیں ہو سکتے۔”اس 37 منٹ کے طویل پوڈ کاسٹ میں مہمان کے ساتھ مل کر پاکستان کرکٹ ٹیم اور بورڈ کا ایسا کڑوا آپریشن کیا گیا، جس کی مثال پاکستانی میڈیا میں بھی نظر نہیں آتی۔ ناصر حسین نے پی سی بی کے فیصلوں کو شرمناک، کھلاڑیوں کی تذلیل اور فینز کے لیے شدید مایوس کن قرار دیا۔ انہوں نے عاقب جاوید کے حالیہ متنازع بیانات پر سخت ردعمل دیتے ہوئے پوچھا کہ کوئی چیف سلیکٹر پبلک میں آ کر بغیر کسی انکوائری کے یہ کیسے کہہ سکتا ہے کہ کسی کھلاڑی کی انجری ‘فیک’ ہے؟ یہ سراسر غیر پیشہ ورانہ رویہ ہے۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ اگر پاکستان اگلا ٹیسٹ ہار جاتا ہے، تو جو ‘کلین اپ آپریشن’ ابھی دکھایا گیا ہے، اس کے بعد بابر اعظم کا کیریئر اور کپتانی دونوں چلی جائے گی، اس لیے جو کچھ تم کر رہے ہو تو پھر اس کو اس کی انتہا تک پہنچاؤ۔پوڈ کاسٹ کے دوران جب نئے شامل کیے گئے سات کھلاڑیوں پر بات ہوئی، تو پی سی بی کے فیصلوں کا خوب مذاق اڑایا گیا۔
بتایا گیا کہ ان میں سے پانچ کھلاڑیوں کو تو اب تک ڈومیسٹک کیپس ہی نہیں ملیں، اور جو دو کھلاڑی بلائے گئے ہیں انہوں نے گزشتہ تین چار سالوں میں بمشکل دو چار فرسٹ کلاس میچ کھیلے ہیں، جس پر پروگرام میں موجود تمام لوگ ہنس پڑے۔ طنزاً پوچھا گیا کہ کیا اگلے ٹیسٹ میں صائم ایوب ڈبل سنچری کر جائے گا تو پاکستان ترقی کر جائے گا؟ دو سال پہلے ملتان اور راولپنڈی میں ہونے والی سیریز کا حوالہ دیتے ہوئے سوال اٹھایا گیا کہ پاکستان بے شک وہ سیریز دو ایک سے جیت گیا تھا، لیکن جو پلان انہوں نے اختیار کیا کیا وہ شارٹ ٹرم تھا یا لانگ ٹرم؟ کیا بورڈ کو نظر نہیں آ رہا تھا کہ آگے کیا ہوگا؟ اس پورے سسٹم اور مینجمنٹ کا تمسخر اڑانے کے بعد اب بڑا سوال یہ ہے کہ کیا پاکستانی میڈیا بورڈ کے ان فیصلوں اور اس عالمی رسوائی کا کوئی جواب دے گا یا نہیں؟بات صرف سینئر ٹیم تک ہی محدود نہیں رہی، بلکہ اس پوڈ کاسٹ میں پاکستان کی انڈر 19 ٹیم کا تذکرہ بھی چھڑ گیا۔ اس وقت انگلینڈ کے دورے پر موجود پاکستان کی انڈر 19 ٹیم نے وہاں اپنا ایک لسٹ اے میچ شروع کیا، تو مبصرین نے اس جونیئر ٹیم کی پرفارمنس کو پاکستان کی قومی کرکٹ ٹیم کی حالیہ کارکردگی سے کہیں بہتر قرار دے دیا۔ اس موازنے کے ذریعے پی سی بی کے فیصلوں کا باقاعدہ مذاق اڑایا گیا اور پوری دنیا کے سامنے پاکستان کرکٹ کا تمسخر اڑایا گیا۔ اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ بین الاقوامی سطح پر اٹھنے والے ان تیکھے سوالات اور اس جگ ہنسائی کا جواب کون دے گا؟ کیا یہ سب درست ہے یا غلط؟ میرا خیال ہے کہ اب پاکستان کے نیشنل میڈیا کی بھی کلاس لینی چاہیے اور ان کی ‘ڈیوٹی’ لگانی چاہیے کہ وہ پریس کانفرنسز میں پی سی بی حکام سے اس عالمی تماشے کا بھی جواب مانگیں، تاکہ سب کے سامنے دودھ کا دودھ اور پانی کا پانی ہو سکے۔
اور آخری بات پروگرام میں، پاکستان میں کرکٹ بورڈ اور پاکستان ٹیم کی اس پرفارمنس کی ایک وجہ پاکستان کے حالات، سیاسی حالات ،پاکستانی حکومت اور بہت کچھ بھی ڈسکس کیا گیا۔
