لندن ۔کرک اگین رپورٹ
در بدر کھلاڑیوں کو شاہی تقریب میں شرکت کا حکم،ایک نے انکار کردیا،پاکستان کرکٹ سے ایک اور تماشا نیوز۔
پاکستان کرکٹ ٹیم اس وقت انگلینڈ کے اہم دورے پر موجود ہے، جہاں کھلاڑیوں نے پی سی بی چیئرمین محسن نقوی کی سربراہی میں برطانوی بادشاہ چارلس سے خصوصی ملاقات کی ہے، جس کی اندرونی تفصیلات اب کھل کر سامنے آ رہی ہیں۔ اس پورے واقعے میں سب سے بڑی کرکٹ بریکنگ نیوز یہ ہے کہ لارڈز ٹیسٹ کے بعد جن سات کھلاڑیوں کو اسکواڈ سے ڈراپ کیا گیا تھا، انہیں اچانک اس شاہی تقریب میں شرکت کا حکم دیا گیا تاکہ کرکٹ حکام کو وہاں تعداد کی کمی کی وجہ سے کسی شرمندگی کا سامنا نہ کرنا پڑے۔ ان میں سے ایک کھلاڑی نے شرکت کر کے کرکٹ بورڈ کو صاف انکار کیا ہے۔دراصل بورڈ کو اندازہ تھا کہ موجودہ اسکواڈ کے ارکان کم ہیں اور ان کی جگہ لینے والے متبادل کھلاڑی ابھی پاکستان سے انگلینڈ کے راستے میں تھے اور وہاں پہنچے نہیں تھے، اسی لیے بڑے دربار میں حاضری کے وقت اس کمی کو چھپانے کے لیے ڈراپ شدہ کھلاڑیوں کو دوبارہ بلایا گیا۔
جہاں اس دورے سے جڑی کرکٹ تازہ ترین خبریں سوشل میڈیا پر بحث کا مرکز بنی ہوئی ہیں، وہیں ذرائع کا کہنا ہے کہ ان سات میں سے چار کھلاڑیوں علی عثمان، عامر جمال، خرم شہزاد اور محمد اویس ظفر نے انتظامیہ کے دباؤ کے بعد بادلِ نخواستہ شرکت تو کر لی، لیکن اندرونی طور پر وہ اس سلوک پر شدید نالاں تھے اور انہوں نے چاہتے نہ چاہتے ہوئے حاضری لگائی۔ ایسے ہی اندرونی حقائق اور گہرے تجزیوں پر مبنی کرکٹ تازہ ترین ارٹیکلز پڑھنے والے شائقین کے لیے یہ صورتحال انتہائی حیران کن ہے کیونکہ ایک کھلاڑی نے اپنے ساتھ ہونے والے ناروا سلوک اور خراب طبی دیکھ بھال کے خلاف بطور احتجاج تقریب میں جانے سے ہی صاف انکار کر دیا جو کہ اس وقت کی سب سے بڑی خبر ہے۔اس ہتک آمیز صورتحال کو نمایاں الفاظ میں بے نقاب کیا گیا ہے کہ پی سی بی حکام نے شاہی محل میں کم تعداد کے باعث ہونے والی عالمی شرمندگی سے بچنے کے لیے ان کھلاڑیوں کو دوبارہ طلب کرنا لازمی سمجھا، جنہیں محض چار دن پہلے ناکام کارکردگی کا مہرہ بنا کر اسکواڈ سے باہر کر دیا گیا تھا۔
برطانیہ کے بادشاہ چارلس سے پاکستان کرکٹ ٹیم کی ملاقات، سفارتی کامیابی یا بحران چھپانے کی کوشش
اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ وہ پانچواں کھلاڑی کون ہے جس نے اپنے علاج کے خلاف احتجاج میں برطانوی بادشاہ سے ملاقات کا بائیکاٹ کیا؟ وہ کھلاڑی کوئی اور نہیں بلکہ ۔۔۔۔موجودہ سخت گیر مزاج اور حکم عدولی کے خلاف تادیبی کارروائیوں کی تاریخ کو دیکھتے ہوئے یہ احتجاجی فیصلہ ان کے مستقبل کو شدید خطرات میں ڈال سکتا ہے۔ تاہم، چونکہ یہ معاملہ اب بین الاقوامی میڈیا کی زینت بن چکا ہے، اس لیے بورڈ کی جانب سے کسی بھی یکطرفہ سخت فیصلے کو شائقین اور سابق کرکٹرز کی جانب سے شدید ردعمل کا سامنا کرنا پڑے گا کیونکہ کھلاڑیوں کے ساتھ بھیجا جانے والا یہ تضحیک آمیز رویہ خود کرکٹ بورڈ کی ساکھ کے لیے ایک بڑا سوالیہ نشان بن چکا ہے۔یہ نیوز ٹیلی گراف نے بریک کی ہے ۔
