برمنگھم ۔کرک اگین رپورٹ ۔
کرکٹ بریکنگ نیوز۔پاکستانی کرکٹ کا اگلا پڑاؤ اب برمنگھم بن چکا ہے، جہاں طویل سفر کے بعد ٹیم گراؤنڈ پر اتری تو برستے بادلوں نے ان کا استقبال کیا۔ کرکٹ کے دیوانوں کے لیے اس سیریز کی سب سے چونکا دینے والی تازہ ترین کرکٹ خبر یہ ہے کہ ایک نئے کوچ کی اچانک انٹری تھی، جس نے انڈور اکیڈمی میں مسکراتے چہرے کے ساتھ لڑکوں کا استقبال تو کیا۔تازہ ترین آرٹیکلز میں تجزیہ یہ ہوا کہ دوسری طرف، سوشل میڈیا پر وائرل تصاویر میں کھلاڑیوں کے مرجھائے ہوئے چہرے اور اڑی ہوئی ہوائیاں صاف دیکھی جا سکتی ہیں۔
یہ اداسی صرف پچھلی ہار کا ملال ہے یا کہانی کچھ اور ہے؟ یہ وہ سوال ہے جو ہر کوئی پوچھ رہا ہے۔ سچی بات تو یہ ہے کہ پاکستان کرکٹ اس وقت ایک سرکس کا روپ دھار چکی ہے، جس پر پوڈ کاسٹرز اور ڈیجیٹل میڈیا خوب چٹخارے لے کر تبصرے کر رہا ہے۔ ایجبسٹن کے انڈور گراؤنڈ میں بارش کی وجہ سے پریکٹس تو جیسے تیسے ہو گئی، مگر پاکستانی کرکٹ کا یہ تماشہ اب کھل کر دنیا کے سامنے آ گیا ہے۔قصہ صرف یہاں ختم نہیں ہوتا، بلکہ لیڈز اور لارڈز کی شرمناک عبرت کے بعد جو تماشا ہوا وہ سب کے سامنے ہے۔
ہار کے فوراً بعد سات سینیئر کھلاڑیوں کو پہلی ہی فلائٹ سے عید پر وطن واپس بھیجنے کی عجلت، اور پھر ہیڈ کوچ سرفراز احمد اور بولنگ کوچ عمر گل کی اچانک چھٹی نے کئی کہانیاں جنم دیں۔ ستم ظریفی دیکھیے کہ ان مڈل آرڈر اور بولنگ کے لیجنڈز کو ہٹا کر ایک ایسے شخص کو وائٹ بال کا ہیڈ کوچ بنا دیا گیا، جس کا اپنا نہ تو کوئی انٹرنیشنل کرکٹ کا ریکارڈ ہے اور نہ ہی فرسٹ کلاس کا کوئی خاص تجربہ۔ حد تو یہ ہے کہ اب یہی صاحب پاکستان کے تینوں فارمیٹس کے ‘سیاہ و سفید’ کے مالک بن چکے ہیں۔ ٹریننگ کے دوران سامنے کھڑے کھلاڑیوں کی بجھی ہوئی باڈی لینگویج، ان کے مرجھائے چہرے اور پریکٹس کی سستی صاف بتا رہی تھی کہ ڈریسنگ روم کا شیرازہ بکھر چکا ہے اور اب جو بھی نتیجہ آئے گا، وہ دیوار پر لکھا ہوا صاف نظر آ رہا ہے۔
برمنگھم کے تاریخی ایجبسٹن کرکٹ اسٹیڈیم میں شیڈول یہ پریکٹس سیشن آؤٹ ڈور ہونا تھا، مگر بادلوں کی ضد کے آگے کسی کی نہ چلی اور بارش نے پورے سیشن کو متاثر کیا۔ نتیجہ یہ ہوا کہ قومی کھلاڑیوں کو انڈور نیٹ کا رخ کرنا پڑا، جہاں کوچز کی سخت نگرانی میں بیٹنگ اور بولنگ کی خامیاں دور کرنے کی کوشش کی گئی۔
اس اکھاڑ پچھاڑ کے بیچ، سکواڈ میں شامل ہونے والے نئے خون عمران رندھاوا، عبداللہ فضل اور عرفات منہاس نے بھی پہلی بار نیٹ پر خوب پسینہ بہایا اور اپنی موجودگی کا احساس دلایا۔ اب نظریں صائم ایوب، محمد عمران جونیئر، سعد بیگ اور رضا اللہ پر ہیں، جو آج ہی ٹیم کو جوائن کر رہے ہیں۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ اندرونی خلفشار اور بارش کے اس سائے میں، یہ نئی کھیپ پاکستان کرکٹ کی ڈوبتی کشتی کو کیسے کنارے لگاتی ہے۔
