ہرارے ۔کرک اگین رپورٹ ۔ آسٹریلیا زمبابوے کے ہاتھوں ون ڈے میچ کی تاریخی شکست سے بال بال بچ گیا۔
ہرارے ون ڈے ،زمبابوے کے خلاف آسٹریلیا ہارتی ہارتی بچ گئی،کرکٹ بریکنگ نیوز ہے کہ قسمت نے کینگروز کو ہزیمت سے بچا لیا۔
تازہ ترین کرکٹ اپ ڈیٹ یہ کہ
گزشتہ ماہ بنگلہ دیش کے خلاف طویل فارمیٹ میں تاریخی شکست کھانے والی آسٹریلوی کرکٹ ٹیم آج ون ڈے فارمیٹ میں زمبابوے جیسی نسبتاً کمزور ٹیم کے خلاف ہارتے ہارتے بال بال بچ گئی۔ سچ تو یہ ہے کہ میچ کے ایک موقع پر آسٹریلوی کھلاڑی خود بھی شکست تسلیم کر چکے تھے، لیکن قسمت نے ان کا ساتھ دیا اور وہ ایک بڑی سبکی سے محفوظ رہے۔
ہرارے میں کھیلے گئے تین میچوں کی سیریز کے آخری ون ڈے مقابلے میں زمبابوے نے آسٹریلیا کو اپنے چنگل میں جکڑ لیا تھا۔ آخری چار سے پانچ اوورز کا کھیل اس قدر سنسنی خیز تھا کہ سانسیں رکنے لگی تھیں، مگر میچ کی آخری گیند سے محض ایک گیند قبل آسٹریلیا نے یہ معرکہ صرف ایک وکٹ سے اپنے نام کر لیا۔
زمبابوے کی اننگز،کپتان سکندر رضا کی شاندار بیٹنگ
ٹاس جیت کر پہلے بیٹنگ کرتے ہوئے زمبابوے کا آغاز اچھا نہ تھا اور اوپنر بین کرن صرف 7 رنز بنا کر پویلین لوٹ گئے۔ اس کے بعد برینڈن ٹیلر بھی محض 9 رنز ہی بنا سکے، تاہم دیگر بیٹرز نے ذمہ داری کا مظاہرہ کیا۔ انوسینٹ کایا نے 55 رنز کی عمدہ اننگز کھیلی اور کریک ایون نے بھی 59 رنز بنا کر ٹیم کو سنبھالا۔ لیکن اصل کمال کپتان سکندر رضا نے دکھایا، جنہوں نے آسٹریلوی بولرز کا ڈٹ کر مقابلہ کیا اور صرف 72 گیندوں پر 81 رنز کی جارحانہ و ناقابلِ شکست اننگز کھیل کر مجموعے کو 8 وکٹوں کے نقصان پر 271 رنز تک پہنچا دیا۔ آسٹریلیا کی جانب سے نیتھن ایلس نے 50 رنز دے کر 3 اور ایڈم زیمپا نے 53 رنز کے عوض 2 وکٹیں حاصل کیں۔
آسٹریلیا کی ہچکولے کھاتی بیٹنگ اور جوش انگلس کی سنچری
پھر 272 رنز کے ہدف کے تعاقب میں آسٹریلوی ٹیم کا آغاز بھی انتہائی مایوس کن رہا اور اس کی وکٹیں وقفے وقفے سے گرتی رہیں۔ ایلکس کیری نے 34 رنز بنا کر کچھ مزاحمت کی، لیکن دوسرے اینڈ سے کوئی بھی بیٹر وکٹ پر ٹکنے کو تیار نہیں تھا۔ ایسے میں جوش انگلس نے مردِ بحران کا کردار ادا کیا اور ون ڈے کرکٹ میں اپنی شاندار سنچری مکمل کی۔ وہ 103 رنز کی بہترین اننگز کھیل کر آؤٹ ہوئے، لیکن ان کے جاتے ہی آسٹریلوی بیٹنگ لائن لڑکھڑا گئی۔
نیتھن ایلس کا جادو اور آخری اوورز کا سسپنس
ایک موقع پر آسٹریلیا کی 9 وکٹیں محض 245 رنز پر گر چکی تھیں اور اسے جیت کے لیے اب بھی 27 رنز درکار تھے۔ آسٹریلوی خیمے میں ہو کا عالم تھا اور شکست سامنے نظر آ رہی تھی۔ ایسے میں 3 وکٹیں لینے والے نیتھن ایلس کریز پر موجود تھے اور ان کا ساتھ دینے کے لیے آخری بیٹر سپینسر جانسن آئے۔ نیتھن ایلس نے کمالِ صبر اور اعصاب پر قابو رکھتے ہوئے 44 گیندوں پر 36 رنز کی ناقابلِ یقین اور ناقابلِ شکست اننگز کھیلی۔ انہوں نے سپینسر جانسن کے ساتھ مل کر میچ کی سیکنڈ لاسٹ (پہلی اننگز کی آخری سے پہلی) گیند پر ٹیم کو 1 وکٹ سے سنسنی خیز ترین فتح دلا دی۔اخری اوور میں درکار 9 رنز کا چیلنج بھی قبول کیا۔
حالیہ عرصے میں کسی بھی کمزور ٹیم کے خلاف آسٹریلیا کی یہ سب سے مشکل اور سنسنی خیز جیت ہے۔ زمبابوے کی طرف سے بریڈ ایونز نے 47 رنز دے کر 4 وکٹیں حاصل کیں، لیکن وہ اپنی ٹیم کو تاریخی جیت نہ دلا سکے۔
