راولپنڈی ۔کرک اگین رپورٹ۔ شاداب خان اور سفیان مقیم پہلے میچ سے کیوں باہر،ٹاس۔
کرکٹ کی دنیا سے اس وقت کی سب سے بڑی بریکنگ نیوز سامنے آ رہی ہے جس نے شائقینِ کرکٹ کو حیرت میں ڈال دیا ہے کہ آخر ایسا کیا ہوا کہ پاکستان کرکٹ ٹیم کے دو اہم ترین رسٹ اسپنرز، شاداب خان اور سفیان مقیم تین ملکی کپ کےپہلے ون ڈے میچ سے اچانک باہر ہو گئے۔ کیا ان پر ٹیم مینجمنٹ کا کوئی اندرونی دباؤ تھا، یا پھر کہانی کے پیچھے کچھ اور ہی محرکات ہیں؟ اس اچانک فیصلے نے سوشل میڈیا پر بحث کا ایک نیا بازار گرم کر دیا ہے اور ہر کوئی اس پراسرار تبدیلی کی اصل وجہ جاننے کے لیے بے تاب ہے۔
پردے کے پیچھے کی اصل حقیقت اور پاکستان کرکٹ بورڈ کی آفیشل اپ ڈیٹ کے مطابق ان دونوں کھلاڑیوں کے پہلے ون ڈے سے باہر ہونے کی وجہ کوئی دباؤ نہیں بلکہ شدید علالت (بیماری) ہے۔ یہ دونوں باصلاحیت اسپنرز پاکستان، سری لنکا اور انگلینڈ کے درمیان شروع ہونے والی اس اہم ترین ون ڈے ٹرائی سیریز (سہ فریقی سیریز) کے پہلے میچ سے قبل اچانک بیمار پڑ گئے۔
رپورٹس کے مطابق شاداب خان اور سفیان مقیم کو فوری طور پر ٹیم کے میڈیکل اسٹاف کی سخت نگرانی میں دے دیا گیا ہے، جہاں ان کا علاج جاری ہے۔ میڈیکل بورڈ مسلسل ان کی صحت اور ریکوری کا جائزہ لے رہا ہے اور صحت یابی کے بعد ہی انہیں اگلے میچز کے لیے سلیکشن کا حصہ بنایا جائے گا۔
اس بڑی تبدیلی کے ساتھ ہی پاکستان اور سری لنکا کے درمیان اس ٹرائی سیریز کے پہلے ہائی وولٹیج ٹکراؤ کا کاؤنٹ ڈاؤن شروع ہو چکا ہے۔ میچ کے بڑے ایونٹ کی تازہ ترین اپ ڈیٹ یہ ہے کہ سری لنکا نے ٹاس جیت کر پہلے باؤلنگ کرنے کا فیصلہ کیا ہے اور پاکستان کو بیٹنگ کی دعوت دی ہے۔ شاداب اور سفیان کی عدم موجودگی میں پاکستانی ٹیم مینجمنٹ نے ایک بڑا سرپرائز دیتے ہوئے نوجوان وکٹ کیپر بیٹر سعد بیگ کو پاکستان کی جانب سے ون ڈے ڈیبیو کروا دیا ہے، جن پر آج سب کی نظریں ہوں گی۔
پہلے ون ڈے کے لیے پاکستان کی جو فائنل الیون میدان میں اتری ہے، اس میں صائم ایوب اور فخر زمان پر مشتمل جارحانہ اوپننگ جوڑی شامل ہے، جبکہ مڈل آرڈر کو مضبوط بنانے کے لیے اسٹار بیٹر بابر اعظم، حسن نواز اور سلمان علی آغا موجود ہیں۔ آل راؤنڈر کے طور پر عرفات منہاس اور فہیم اشرف الیون کا حصہ ہیں، جبکہ فاسٹ بولنگ کے شعبے میں نسیم شاہ اور حارث رؤف کی جوڑی سری لنکا کے بلے بازوں کی وکٹیں اڑانے کے لیے پوری طرح تیار ہے۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ بدلی ہوئی پاکستانی ٹیم سری لنکا کے اس بولنگ کے فیصلے کے سامنے کتنا بڑا ہدف کھڑا کرنے میں کامیاب ہوتی ہے۔
