لاہور ۔کرک اگین رپورٹ۔
کرکٹ بریکنگ نیوز ہے کہ سری لنکا کے خلاف ٹیسٹ سیریز کے لیے پاکستان سکواڈ کا اعلان، رضوان اور شان مسعود سمیت 5 بڑے نام ڈراپ۔
پاکستان کرکٹ بورڈ نے سری لنکا کے خلاف ہوم ٹیسٹ سیریز کے لیے 14 رکنی ٹیسٹ سکواڈ کا اعلان کر دیا ہے، جس کی قیادت ایک بار پھر بابر اعظم کے ہاتھوں میں سونپی گئی ہے۔ اس کرکٹ اپ ڈیٹ کے آتے ہی کرکٹ حلقوں میں کھلبلی مچ گئی ہے کیونکہ پاکستان کے لیے وکٹ کیپنگ کے مستقل فرائض سرانجام دینے والے بنیادی کھلاڑی محمد رضوان کو ٹیم سے ڈراپ کر دیا گیا ہے۔ ذرائع کے مطابق اس ڈراپ کی بظاہر کوئی وجہ نہیں بتائی گئی، جسے مبصرین ایک غیر اعلانیہ پابندی قرار دے رہے ہیں۔
عاقب جاوید فلاسفی کا یوٹرن اور بڑے کھلاڑیوں کی چھٹی
رپورٹ کے مطابق برمنگم میں انگلینڈ کے خلاف آخری ٹیسٹ کھیلنے والی الیون میں سے 5 کھلاڑیوں کو یکسر نکال دیا گیا ہے۔ ان سرکردہ کھلاڑیوں میں سابق کپتان شان مسعود بھی شامل ہیں، جن کے بارے میں دعویٰ تو یہ کیا جا رہا ہے کہ وہ انجری کا شکار ہیں لیکن حقیقت یہ لگتی ہے کہ انہیں گھر کا راستہ دکھا دیا گیا ہے۔ برمنگھم میں انگلینڈ کے خلاف اخری ٹیسٹ کھیلنے والی سائیڈ سےدیگر ڈراپ ہونے والے کھلاڑیوں میں صائم ایوب، عبداللہ شفیق، عمران رندھاوا اور محمد علی شامل ہیں۔ اس کے ساتھ ہی عاقب جاوید کی فلاسفی نے بھی یوٹرن لے لیا ہے۔ اسٹار اسپنر ساجد خان کو ڈراپ کر دیا گیا ہے، حالانکہ پاکستان گزشتہ دو سال سے ہوم سیزن پر سب سے زیادہ ان پر انحصار کر رہا تھا۔
نئے چہروں کی انٹری اور سیریز کا شیڈول
اس حیران کن الٹ پھیر کے بعد سکواڈ میں سمیر منہاس، محمد طحہ اور محمد سلیمان کو پہلی دفعہ منتخب کیا گیا ہے۔ وکٹ کیپنگ کے لیے غازی غوری اور سعد بیگ کے نام شامل ہیں۔ اس کے علاوہ عبداللہ فضل، عرفات منہاس، اذان اویس، محمد عباس، رضا اللہ، سعود شکیل، سلمان علی آغا اور لیفٹ آرم اسپنر علی عثمان بھی سکواڈ کا حصہ ہیں۔
پی سی بی نے سری لنکا کے خلاف تین روزہ وارم اپ میچ کے لیے بھی 13 رکنی پیٹرنز سکواڈ کا اعلان کیا ہے جس کی کپتانی سعد بیگ کریں گے۔ اس میچ کے اختتام پر پیٹرنز سکواڈ سے مزید دو فاسٹ باؤلرز ٹیسٹ سکواڈ میں شامل ہوں گے۔
پاکستان اور سری لنکا کے درمیان وارم اپ میچ 4 سے 6 نومبر کو اسلام آباد کلب میں کھیلا جائے گا، جبکہ سیریز کا پہلا ٹیسٹ 9 سے 13 نومبر کو راولپنڈی اور دوسرا ٹیسٹ 17 سے 21 نومبر کو قذافی سٹیڈیم لاہور میں کھیلا جائے گا۔
