شارجہ۔ کرک اگین رپورٹ۔
افغانستان نے زمبابوے کو کچل کر ٹرائی ون ڈے سیریز جیت لی، فائنل کے بعد سکندر رضا کا وہ ردِعمل جس نے سب کو حیران کر دیا۔یہ کرکٹ بریکنگ نیوز ہے۔
کرکٹ کی تازہ ترین خبریں یہ ہیں کہ شارجہ کے تاریخی میدان میں افغانستان کی کرکٹ ٹیم نے شاندار کارکردگی کا مظاہرہ کرتے ہوئے زمبابوے کو فائنل میچ میں یکطرفہ مقابلے کے بعد 7 وکٹوں سے عبرتناک شکست دے دی ہے۔ اس بڑی جیت کے ساتھ ہی افغانستان نے نہ صرف تین ملکی ون ڈے کپ کی ٹرافی اپنے نام کر لی ہے بلکہ ایک روزہ کرکٹ میں اپنی مسلسل 7 ویں کامیابی بھی سمیٹ لی ہے۔ اس ٹرائی سیریز کی تیسری ٹیم بنگلہ دیش تھی جو فائنل کی دوڑ سے پہلے ہی باہر ہو گئی تھی۔
شارجہ میں کھیلے گئے اس فائنل ٹاکرے میں زمبابوے کی کرکٹ ٹیم ٹاس جیت کر پہلے بیٹنگ کرتے ہوئے افغان بولرز کے سامنے ریت کی دیوار ثابت ہوئی۔ پوری ٹیم 43 اوورز 3 گیندوں میں محض 169 رنز بنا کر ڈھیر ہو گئی۔ زمبابوے کی جانب سے صرف کپتان سکندر رضا ہی افغان بولنگ کا سامنا کر سکے اور انہوں نے لڑکھڑاتی ہوئی بیٹنگ لائن کو سنبھالا دیتے ہوئے 68 رنز کی اننگز کھیلی۔ افغانستان کی طرف سے اسٹار اسپنر راشد خان نے تباہ کن بولنگ کی اور 41 رنز دے کر 3 وکٹیں حاصل کیں، وہ پورے ٹورنامنٹ میں 11 وکٹیں لے کر سرفہرست بولر رہے ہیں۔ ان کے علاوہ محمد نبی اور فضل حق فاروقی نے دو دو کھلاڑیوں کو پویلین کی راہ دکھائی۔
آسان ہدف افغانستان کی مضبوط بیٹنگ لائن کے لیے کوئی مشکل ثابت نہیں ہوا۔ افغان اوپنرز نے ٹیم کو 68 رنز کا جاندار آغاز فراہم کیا جہاں رحمان اللہ گرباز 36 رنز بنا کر آؤٹ ہوئے، تاہم دوسرے اوپنر ابراہیم زدران نے گراؤنڈ کے چاروں اطراف شاندار شاٹس کھیلے اور 70 رنز بنا کر ناٹ آؤٹ رہے۔ ان کا ساتھ کپتان رحمت شاہ نے دیا جنہوں نے 43 رنز بنا کر ٹیم کو چیمپئن بنانے میں اہم کردار ادا کیا۔ افغانستان نے یہ ہدف انتہائی آسانی سے صرف 3 وکٹوں کے نقصان پر 34.3 اوورز میں عبور کر لیا۔
فائنل کے بعد خیر سگالی کا جذبہ
میچ کے دوران اگرچہ زمبابوے کے فیلڈر نے ایک ناقابلِ یقین اور شاندار کیچ پکڑا، لیکن سب سے زیادہ توجہ میچ کے بعد کے مناظر نے سمیٹی۔ شکست کے باوجود زمبابوے کے کپتان سکندر رضا روایتی اخلاقیات کا مظاہرہ کرتے ہوئے مسکراتے رہے اور انہوں نے افغان کھلاڑیوں سے گلے مل کر انہیں ٹرافی جیتنے پر مبارکباد دی۔ شارجہ کا میدان اس شاندار خیر سگالی کے جذبے سے گونج اٹھا، تاہم کرکٹ فینز سوشل میڈیا پر اس کا موازنہ پاک افغان میچز سے کر رہے ہیں۔ کرکٹ حلقوں کا کہنا ہے کہ جب بھی افغانستان کا مقابلہ پاکستان سے ہوتا ہے تو میچ کا اختتام ایسے پرامن یا دوستانہ جذبات پر نہیں ہوتا، بلکہ میدان کا ماحول کچھ اور ہی رخ اختیار کر لیتا ہے، چاہے نتیجہ کسی کے بھی حق میں ہو۔
