دبئی ،ڈھاکہ۔ کرک اگین رپورٹ۔
کھیلوں کی دنیا سے اس وقت کی سب سے سنسنی خیز اور حیران کن خبر سامنے آئی ہے، جس نے ایشیائی کرکٹ میں ہلچل مچا دی ہے۔ بنگلہ دیش اور افغانستان کرکٹ بورڈ کے درمیان پسِ پردہ چلنے والی سرد جنگ اب کھل کر سامنے آ گئی ہے۔ بنگلہ دیش کرکٹ بورڈ نے افغان کرکٹ بورڈ کو ایک ایسا سنگین اور تیکھا خط لکھا ہے جس نے دونوں ممالک کے کرکٹ حلقوں میں آگ لگا دی ہے۔
یہ پورا تنازع مسقط میں کھیلی گئی انڈر-19 ون ڈے سیریز کے دوران پیش آیا۔ کرکٹ کی معتبر ویب سائٹ کرک انفو کے مطابق بنگلہ دیشی ٹیم کے ہیڈ کوچ حنان سرکار نے اپنی آفیشل رپورٹ میں ایسے سنسنی خیز انکشافات کیے ہیں جنہیں سن کر آئی سی سی بھی سر پکڑ کر بیٹھ جائے۔
سب سے بڑا دھماکہ۔ 50 اوورز کے میچ میں 11 اوورز کا جادو۔
رپورٹ کے مطابق سیریز کے تیسرے میچ میں کرکٹ قوانین کی دھجیاں اڑاتے ہوئے افغان انڈر-19 کپتان سہیل خان نے 10 اوورز کی قانونی حد کو پار کرتے ہوئے الیون (11) اوورز کرا ڈالے۔ حد تو یہ ہے کہ جب بنگلہ دیشی مینجمنٹ نے میچ ریفری یاسر لطیف زئی کو گراؤنڈ پر گھیرا اور ثبوت دکھائے، تو بعد میں آفیشل ریکارڈ میں وہ اوور شاہ فیصل رحیمی کے نام درج کر دیا گیا۔
امپائر کو ٹوپی دی اور خود اوور کرلیا
میدان میں شاطرانہ چالیں چلیں گئیں۔ کپتان نے پہلے ایک دوسرے بولر کو بلایا، اس نے اپنی کیپ امپائر کو دی تاکہ لگے کہ وہ اوور کرانے لگا ہے، لیکن امپائر کی نظر گھومتے ہی گیند خود کپتان نے پکڑ لی اور اوور کرا دیا۔ بنگلہ دیشی مینجمنٹ نے میچ ریفری کو ایل بی ڈبلیو کے غلط فیصلوں کی ویڈیو فوٹیج بھی تھمائی جس میں امپائرنگ کا جنازہ نکلتے ہوئے دیکھا جا سکتا ہے۔
چوتھے میچ کے بعد گراؤنڈ میں ماحول اس وقت انتہائی گرم ہو گیا جب بنگلہ دیش اور افغانستان کے کوچنگ اسٹاف کے درمیان شدید جھگڑا ہوا۔ بنگلہ دیش کی ڈیولپمنٹ کمیٹی نے اب افغانستان کو آفیشل ای میل کر کے واضح وارننگ جاری کر دی ہے کہ مسقط میں جو کچھ ہوا وہ ناقابلِ برداشت ہے اور اگلی بار ایسا کچھ ہوا تو بنگلہ دیش خاموش نہیں بیٹھے گا۔
