کیپ ٹاؤن ۔کرک اگین نیوز۔
کرکٹ بریکنگ نیوزہے کہ کیپ ٹاؤن ٹیسٹ کا تیسرا دن ختم، آسٹریلیا میچ پر حاوی، جنوبی افریقہ شدید مشکلات کا شکار۔
آسٹریلیا اور جنوبی افریقہ کے درمیان کھیلی جا رہی تین میچوں کی سیریز کے فیصلہ کن اور آخری ٹیسٹ میچ کے تیسرے دن کے اختتام تک کینگروز بدستور ڈرائیونگ سیٹ پر موجود ہیں۔آسٹریلیا نے شاندار کارکردگی کا مظاہرہ کرتے ہوئے جنوبی افریقہ کی دوسری اننگز میں صرف 140 رنز پر 4 اہم کھلاڑیوں کو پویلین کی راہ دکھا دی ہے۔ پہلی اننگز میں 100 رنز کے خسارے کے بعد اب جنوبی افریقہ کی مجموعی برتری صرف 40 رنز ہے جبکہ اس کی 4 وکٹیں گر چکی ہیں۔
کرکٹ کی تازہ ترین خبریں کے مطابق میزبان ٹیم کو سب سے بڑا نقصان دن کے اختتامی لمحات میں کپتان ٹیمبا باووما کی شکل میں اٹھانا پڑا، جو تجربہ کار اسپنر نیتھن لائن کی ایک شاندار گھومتی ہوئی گیند پر 35 رنز بنا کر کلین بولڈ ہو گئے۔انہوں نے آؤٹ ہونے سے قبل 115 گیندوں کا سامنا کرتے ہوئے وکٹ بچانے کی سرتوڑ کوشش کی۔ جنوبی افریقہ کی جانب سے مارکس ایکرمین 62 رنز بنا کر نمایاں رہے، جبکہ اوپنر ایڈن مارکرم صرف 1 رن بنا کر سستے میں آؤٹ ہو گئے۔ آسٹریلیا کی جانب سے تیز گیند باز مچل اسٹارک نے دوسری اننگز میں 2 وکٹیں حاصل کی ہیں، یاد رہے کہ انہوں نے پہلی اننگز میں تباہ کن باؤلنگ کرتے ہوئے 72 رنز کے عوض 6 کھلاڑیوں کو آؤٹ کیا تھا۔
اس سے قبل آسٹریلیا کی ٹیم اپنی پہلی اننگز میں 429 رنز بنا کر آؤٹ ہوئی، جس کی بدولت اسے پہلی اننگز میں 100 رنز کی انتہائی قیمتی اور مضبوط برتری حاصل ہوئی۔ مہمان ٹیم کی طرف سے جوش انگلس نے شاندار بیٹنگ کا مظاہرہ کرتے ہوئے اپنے ٹیسٹ کیریئر کی دوسری سنچری اسکور کی اور وہ 102 رنز بنا کر نمایاں رہے۔ ان کا بھرپور ساتھ وکٹ کیپر بلے باز ایلکس کیری نے دیا جنہوں نے 80 رنز کی پراعتماد اننگز کھیلی۔ جنوبی افریقہ کی جانب سے اسپنر سائمن ہارمر نے 104 رنز دے کر 4 وکٹیں حاصل کیں، جبکہ پیسر مارکو جانسن نے 3 کھلاڑیوں کو آؤٹ کیا۔
میچ پر تبصرہ اور تجزیہ
کیپ ٹاؤن ٹیسٹ کے تین دن کا کھیل مکمل ہو چکا ہے اور اب میچ کے دو دن باقی ہیں۔ موجودہ صورتحال کو دیکھا جائے تو جنوبی افریقہ کے پاس میچ اور سیریز میں واپسی کا اب صرف ایک ہی راستہ بچا ہے۔ میزبان ٹیم کی باقی ماندہ 6 وکٹوں کو چوتھے دن شاندار مزاحمت دکھانی ہوگی اور کم از کم مزید 160 سے 180 رنز جوڑنے ہوں گے۔
اگر جنوبی افریقہ آسٹریلیا کو چوتھی اننگز میں نفسیاتی طور پر 200 یا اس سے زائد رنز کا ہدف دینے میں کامیاب ہو جاتا ہے، تو نیولینڈز کی اسپن ہوتی ہوئی پچ پر کینگروز کو شدید دباؤ میں لایا جا سکتا ہے۔ بصورت دیگر، اگر چوتھے دن کے پہلے سیشن میں جنوبی افریقی ٹیم جلد ڈھیر ہو گئی، تو آسٹریلیا یہ میچ اور سیریز آسانی سے اپنے نام کر لے گا کیونکہ فی الحال میچ پوری طرح آسٹریلیا کی مٹھی میں نظر آ رہا ہے۔
