لاہور۔ کرک اگین بریکنگ نیوز۔
کرکٹ بریکنگ نیوز۔فائنل کے فوراً بعد بابر اعظم اور کپتان شاہین شاہ آفریدی آمنے سامنے۔لڑائی یا کچھ اور؟ بڑی حقیقت سامنے آ گئی۔
لاہور میں کھیلے گئے سہ ملکی ون ڈے کپ کے فائنل سمیت پورے ٹورنامنٹ میں ناکامی کے بعد پاکستان کے مایہ ناز بیٹر بابر اعظم اور قومی ٹیم کے کپتان شاہین شاہ آفریدی ایک دوسرے کے مدمقابل آ گئے ہیں۔ کرکٹ کے حلقوں میں یہ بریکنگ نیوز جنگل کی آگ کی طرح پھیل چکی ہے کہ فائنل ختم ہوتے ہی دونوں سٹار کھلاڑیوں کے درمیان کچھ بڑا ہوا ہے۔
سوشل میڈیا پر مداحوں کی جانب سے سوالات اٹھائے جا رہے ہیں کہ کیا فائنل کے بعد دونوں کے درمیان کوئی لڑائی، جھگڑا، تلخ کلامی یا بحث ہوئی ہے؟ لیکن حقیقت اس کے بالکل برعکس ہے۔
کرکٹ کی تازہ ترین خبر یہ ہے کہ ان کے آمنے سامنے آنے کی وجہ کوئی تنازع نہیں بلکہ میدانِ جنگ کی ایک نئی تیاری ہے۔
پورے ایونٹ میں آؤٹ آف فارم رہنے کے بعد سابق کپتان بابر اعظم نے اپنی کھوئی ہوئی فارم اور پرفارمنس کو دوبارہ بحال کرنے کے لیے فوری طور پر ڈومیسٹک کرکٹ کا رخ کرنے کا ایک بڑا اور جرات مندانہ فیصلہ کیا ہے۔ حیران کن بات یہ ہے کہ اگلے چند ہی گھنٹوں میں شروع ہونے والے اس ڈومیسٹک میچ میں بابر اعظم جس ٹیم کے خلاف میدان میں اتریں گے، اس میں کوئی اور نہیں بلکہ خود پاکستان کے موجودہ کپتان شاہین شاہ آفریدی موجود ہوں گے۔ یوں دونوں ورلڈ کلاس کھلاڑی ڈومیسٹک میچ میں ایک دوسرے کے خلاف اِن ایکشن دکھائی دیں گے۔
چونکہ پاکستان کی ون ڈے کرکٹ میں اگلے دو ماہ تک کوئی مصروفیات نہیں ہیں اور اب صرف ٹیسٹ کرکٹ کا سیزن شروع ہو رہا ہے، اس لیے بابر اعظم طویل طرز کی کرکٹ کے لیے اپنی فارم کی بحالی کے لیے فکر مند ہیں اور انہوں نے وقت ضائع کیے بغیر فوری طور پر ریڈ بال کرکٹ کھیلنے کا فیصلہ کیا۔
اس سنسنی خیز معاملے کا انکشاف خود کپتان شاہین شاہ آفریدی نے سہ ملکی سیریز کا فائنل جیتنے کے بعد پریس کانفرنس کے دوران کیا۔
سری لنکا کو آؤٹ کلاس کر کے پاکستان 18 سال بعد ٹرائی سیریز کا چیمپئن بن گیا
شاہین نے صحافیوں کے تیکھے سوالات کے جوابات دیتے ہوئے بابر اعظم کے اس فیصلے کی تصدیق کی اور ان کے اس جذبے کو سراہا۔ پریس کانفرنس میں کپتان نے فائنل کے ہیرو فخر زمان کی اننگز کی دل کھول کر تعریف کی اور کرکٹ بورڈ سمیت مداحوں پر زور دیا کہ وہ مشکل وقت میں سینیئر کھلاڑیوں کو بیک کریں۔ شاہین شاہ آفریدی نے ٹرائی سیریز کی جیت کو انتہائی اہم قرار دیتے ہوئے واضح کیا کہ ابھی سے اگلے ورلڈ کپ کے لیے کوئی رائے یا حتمی ٹیم قائم کرنا قبل از وقت ہوگا کیونکہ اس سفر میں ابھی بہت سے میچز اور پاپولر کرکٹ باقی ہے۔
