راولپنڈی ۔کرک اگین رپورٹ۔کرکٹ بریکنگ نیوز ہے کہ
پنڈی اسٹیڈیم میں کرکٹ کی تاریخ کا سب سے بڑا ڈراما۔ ہیری بروک کی ورلڈ ریکارڈ ڈبل سنچری رائیگاں، سری لنکا نے 430 رنز کا پہاڑ جیسا ہدف عبور کر کے دنیا کو حیران کر دیا۔تاریخ کا دوسرا بڑا کامیاب ٹوٹل عبور کیا۔
راولپنڈی کا پنڈی کرکٹ اسٹیڈیم ایک روزہ کرکٹ کی تاریخ کے ایک ایسے ناقابل یقین اور سنسنی خیز مقابلے کا گواہ بن گیا جس کی توقع خود انگلش کپتان ہیری بروک اور ان کی پوری ٹیم نے بھی نہیں کی تھی۔ ٹرائی نیشن کرکٹ سیریز کے اس میچ میں سری لنکا نے وہ کارنامہ انجام دے دیا جو ون ڈے کرکٹ کی تاریخ میں ہمیشہ یاد رکھا جائے گا۔
آئی لینڈرز نے ایک روزہ کرکٹ کی تاریخ کا دوسرا سب سے بڑا ہدف کامیابی سے عبور کر کے انگلینڈ کو عبرتناک شکست سے دوچار کر دیا۔
میچ کی سیکنڈ لاسٹ گیند جیسے ہی باؤنڈری لائن پار کر گئی، پنڈی اسٹیڈیم کا میدان سری لنکن جشن سے گونج اٹھا، جب کہ انگلش کیمپ پر سکتہ طاری ہو گیا۔ کپتان ہیری بروک اس قدر مایوس اور شدید صدمے میں دکھائی دیے کہ گراؤنڈ سے باہر جاتے ہوئے شدید بے اعتمادی کے عالم میں چنگم زمین پر پھینکتے نظر آئے۔ انگلینڈ نے پہلے بیٹنگ کرتے ہوئے بورڈ پر 429 رنز کا پہاڑ کھڑا کیا تھا، لیکن سری لنکا نے 430 رنز بنا کر پنڈی کی فلیٹ پچ پر نئی تاریخ لکھ ڈالی۔
ہیری بروک کا ورلڈ ریکارڈ اور انگلش بولنگ کا زوال
اس میچ کی سب سے بڑی ٹریجڈی انگلش کپتان ہیری بروک کی اننگز رہی۔ انہوں نے پنڈی اسٹیڈیم کے چاروں اطراف چوکے اور چھکوں کی برسات کرتے ہوئے 202 رنز کی تاریخی اننگز کھیلی۔ بروک کی یہ باری ون ڈے انٹرنیشنل کرکٹ کی تاریخ کی سب سے تیز ترین ڈبل سنچری ہے،انہوں نے 114 گیندوں پر یہ کارنامہ سر انجام دیا . کچھ دن قبل بھارت کے شبمان گل نے 117 گنوں پر ڈبل سنچری کی تھی ویسٹ انڈیز کے خلاف اور وہ ایک روزہ کرکٹ میں ڈبل سنچری اسکور کرنے والے پہلے انگلش بلے باز بھی بن گئے ہیں۔ بروک کی اس جادوئی بیٹنگ نے یقینی طور پر انگلینڈ کو ایک بڑی جیت کی پوزیشن پر کھڑا کر دیا تھا، لیکن ان کی اس جرات اور ذہانت کو انگلش بولرز کی انتہائی ناقص کارکردگی نے مٹی میں ملا دیا۔ راولپنڈی کے میدان پر یہ مقابلہ کسی سسپنس فلم کی طرح سامنے آیا، جہاں انگلینڈ کا مضبوط بولنگ اٹیک بے بس نظر آیا اور اپنی ہی کمزوریوں کے باعث میچ حریف کی جھولی میں ڈال دیا۔
پاور پلے کی تباہی اور مڈل آرڈر کا پلٹ وار
430 رنز کے اس پہاڑ جیسے ہدف کے تعاقب میں سری لنکا کا آغاز انتہائی مایوس کن رہا اور ان کے دونوں اوپنرز پاور پلے کے دوران ہی پویلین لوٹ گئے۔ اس مشکل مرحلے پر اویشکا فرنینڈو اور پاون رتھنایاکے نے انگلش بولرز کے سامنے ڈھال بن کر 166 رنز کی عمدہ اور ذمہ دارانہ شراکت قائم کی۔ اویشکا فرنینڈو بدقسمتی سے محض 3 رنز کی دوری پر اپنی سنچری مکمل نہ کر سکے اور 97 رنز بنا کر آؤٹ ہوئے۔پاون رتھنایاکے نے ایک اینڈ سنبھالے رکھا اور کمال کا کھیل پیش کرتے ہوئے 130 رنز کی شاندار اننگز کھیلی۔ رتھنایاکے نے مڈل آرڈر میں دو بڑی سنچری پارٹنرشپس قائم کر کے سری لنکا کی پوزیشن کو مستحکم بنائے رکھا۔ انہیں سابق کپتان داسن شناکا کا بھرپور ساتھ ملا، جنہوں نے 97 رنز کی دھواں دار اننگز کھیل کر رتھنایاکے کا زبردست بیک اپ کیا۔ ان دونوں بلے بازوں نے انگلش بولنگ اٹیک کو بے بس کرتے ہوئے محض 79 گیندوں پر 133 رنز کی ماردھاڑ سے بھرپور شراکت داری قائم کر کے میچ کا پورا رخ ہی بدل دیا۔ لیکن سنسنی ابھی باقی تھی۔ 44 ویں اوور کے اختتام تک یہ دونوں سیٹ بلے باز یکے بعد دیگرے آؤٹ ہو گئے۔
آخری اوورز کا سسپنس اور جانیت لیاناگے کا جادو
دونوں سیٹ کھلاڑیوں کے آؤٹ ہونے پر سری لنکا کی ٹیم ایک بار پھر دباؤ میں آگئی، کیونکہ اب انہیں آخری 6 اوورز میں 67 رنز درکار تھے۔ ایسے میں جانیت لیاناگے نے پنڈی اسٹیڈیم میں وہ جادوئی اننگز کھیلی جس نے تماشائیوں کے دل جیت لیے۔ میچ کے آخری اوور میں سری لنکا کی دو وکٹیں گرنے کے باوجود لیاناگے کے اعصاب قابو میں رہے۔ انہوں نے ایک فلک شگاف چھکا لگا کر ٹیم کو تاریخی فتح دلائی۔ جانیت لیاناگے محض 27 گیندوں پر 61 رنز کی طوفانی اننگز کھیل کر ناقابلِ شکست رہے۔ سری لنکا نے اس تاریخی رن چیس کے ساتھ ٹرائی نیشن سیریز میں پہلی فتح سمیٹی ہے، جبکہ انگلینڈ کو ایونٹ میں مسلسل دوسری ہار کا منہ دیکھنا پڑا ہے۔
ون ڈے کرکٹ میں سب سے بڑا ہدف کا ریکارڈ جنوبی افریقہ کے پاس ہے جو اس کا آسٹریلیا کو 435 رنز کے ساتھ ہرا کر قائم کر رکھا ہے۔
