لاہور،پشاور ۔کرک اگین رپورٹ ۔ رضوان کی پریکٹس مگر کس لیول پر اور کیا پابندی لگ سکتی ہے ،بریکنگ نیوز
پاکستان کرکٹ کے اسٹار وکٹ کیپر بیٹر اور سابق کپتان محمد رضوان ان دنوں ایک ایسے مبہم اور غیر اعلانیہ بحران کا شکار ہیں، جس نے پاکستان کرکٹ بورڈ کے ایوانوں اور مداحوں میں کھلبلی مچا رکھی ہے۔ ایک طرف ملک میں ڈومیسٹک کرکٹ کا میلہ سجا ہوا ہے، دوسری طرف قومی ٹیم کے کیمپ اور ٹریننگ سیشنز جاری ہیں، انٹرنیشنل کرکٹ ہو رہی ہے،لیکن ان سب سرگرمیوں کے بیچ محمد رضوان پر ایک ایسی پراسرار خاموشی مسلط ہے جو کسی بڑی طوفان کا پیش خیمہ دکھائی دیتی ہے۔
تحقیقاتی ادارے میں پیشیاں الزامات اور جوابات کا معمہ
ذرائع کے مطابق محمد رضوان نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی کے سامنے پیش ہو رہے ہیں۔ حالیہ رپورٹس کے مطابق انگلینڈ کے دورے کے دوران کھلاڑیوں کے موبائل فونز ضبط کر کے تحقیقاتی ادارے کو بھیجے گئے تھے، جہاں ڈریسنگ روم کی معلومات لیک کرنے اور آن لائن بیٹنگ/جوئے سے متعلق الزامات کے تحت ان سے بازپرس کی جا رہی ہے۔
اگرچہ رضوان نے ان الزامات کی سختی سے تردید کی ہے اور لاہور ہائی کورٹ میں بھی درخواست دائر کی تھی، لیکن پی سی بی ظاہری طور پر قانون کو اپنا راستہ لینے کا مشورہ دے رہا ہے جبکہ اندرون خانہ صورتحال انتہائی کشیدہ ہے۔ بورڈ نے رضوان کو اس معاملے پر میڈیا ٹاک کرنے کی اجازت دینے سے بھی دو بار صاف انکار کر دیا ہے، جس کی وجہ سے رضوان کا موقف کھل کر سامنے نہیں آ پا رہا۔
غیر اعلانیہ پابندی اور پریکٹس کی ‘انڈر گراؤنڈ’ کوششیں
محمد رضوان اس وقت عملاً کسی بھی قسم کی بین الاقوامی یا ملکی کرکٹ کھیلنے سے قاصر ہیں۔ چونکہ ایک پروفیشنل کھلاڑی کرکٹ اور پریکٹس کے بغیر نہیں رہ سکتا، اس لیے رضوان اپنی فٹنس برقرار رکھنے اور فارم کی بحالی کے لیے ذاتی سطح پر کلب لیول پر جا کر بیٹنگ پریکٹس کرنے پر مجبور ہیں۔
سوشل میڈیا پر رضوان کی ان خفیہ پریکٹس سیشنز کی ویڈیوز اور فوٹیجز منظرِ عام پر آنا شروع ہو گئی ہیں، جس نے پی سی بی حکام کو مزید چوکس کر دیا ہے۔ کرکٹ حلقوں میں یہ چہ مگوئیاں عروج پر ہیں کہ کیا پی سی بی رضوان کی ان سرگرمیوں کا بھی سخت نوٹس لینے جا رہا ہے اور ممکنہ طور پر ان کی کلب لیول پریکٹس پر بھی آفیشل پابندی عائد کی جا سکتی ہے یا نہیں۔
