لکھنؤ ۔ کرک اگین رپورٹ۔
لکھنؤ میں بھارت اور ویسٹ انڈیز کے درمیان کھیلا گیا پہلا ٹی 20 میچ اپنے کھیل سے زیادہ سنسنی خیز ڈراموں اور امپائرنگ تنازعات کی وجہ سے یاد رکھا جائے گا۔ اس سنسنی خیز مقابلے میں بھارت نے 8 وکٹوں سے میدان مار لیا۔ میچ کے اصل ہیرو کپتان شریاس آئیر رہے، جنہوں نے میدان کے چاروں طرف چھکے چوکوں کی برسات کرتے ہوئے صرف 42 گیندوں پر 102 رنز کی طوفانی اننگز کھیلی اور ناٹ آؤٹ رہے۔ ویسٹ انڈیز کی ٹیم پہلے بیٹنگ کرتے ہوئے 171 رنز بنا سکی تھی، جسے بھارتی الیون نے آئیر کی بدولت محض 14 اوورز میں ہی باآسانی حاصل کر لیا۔
کرکٹ بریکنگ نیوز کے مطابق اس میچ میں اصل ہنگامہ اس وقت ہوا جب امپائرنگ کے فیصلوں پر یکے بعد دیگرے ڈرامائی مناظر دیکھنے کو ملے۔ ایک موقع پر دیپک چاہر کی گیند بلے باز کے پاس سے گزرتی ہوئی کیپر کے دستانوں میں چلی گئی۔ نہ تو بولر نے اپیل کی اور نہ ہی کیپر پرجوش دکھائی دیے۔ امپائر خود بھی اسے وائیڈ بال دینے والے تھے، لیکن مڈ آف پر کھڑے ہاردک پانڈیا کے ہلکے سے اشارے پر امپائر نے اچانک اپنا فیصلہ بدل کر بغیر کسی باقاعدہ اپیل کے بیٹر کو آؤٹ قرار دے دیا۔ حیرت کی بات یہ تھی کہ بلے باز نے بھی ریویو لیے بغیر پویلین کی راہ لی۔ بعد میں ٹی وی ریپلے سے واضح ہوا کہ گیند کا بلے سے کوئی تعلق ہی نہیں تھا، جس پر سوشل میڈیا صارفین خوب لوٹ پوٹ ہو رہے ہیں۔
اسی اننگز کے دوران ایک اور گرما گرمی دیکھنے کو ملی جب ایشان کشن کے شاٹ پر ویسٹ انڈین فیلڈر میتھیو فورڈ نے زمین کے بالکل قریب کیچ پکڑنے کا دعویٰ کیا۔ مہمان ٹیم نے جشن منانا شروع کیا، لیکن تھرڈ امپائر نے ریپلے دیکھنے کے بعد اسے ناٹ آؤٹ قرار دیا کیونکہ گیند زمین کو چھو چکی تھی۔ اس فیصلے پر ویسٹ انڈیز کے کھلاڑی آپے سے باہر ہو گئے اور امپائر پر ہوم ٹیم کی طرف داری کا الزام لگاتے ہوئے کافی دیر تک تکرار کرتے رہے۔
تنازعات کا یہ سلسلہ یہیں ختم نہیں ہوا۔ مہمان ٹیم کی بیٹنگ کے دوران شیمرون ہٹمائر نے ایک رن چرانے کی کوشش کی، لیکن شریاس آئیر نے چیتے جیسی فرتی دکھا کر گیند وکٹوں پر دے ماری۔ ہٹمائر نے ڈائیو تو لگائی اور ان کا بیٹ لائن کے اندر پہنچ بھی گیا، لیکن وہ ہوا میں معلق تھا۔ امپائر نتن مینن نے قوانین کے تحت انہیں رن آؤٹ قرار دیا۔ ہٹمائر اس فیصلے پر بری طرح تلملا اٹھے اور غصے میں امپائر سے بحث کرتے رہے کیونکہ ان کا خیال تھا کہ وہ کریز میں محفوظ تھے۔ غرض یہ کہ کرکٹ کے لحاظ سے میچ جتنا شاندار تھا، ان تنازعات نے اس میں سسپنس کا تڑکا لگا کر اسے مزید یادگار بنا دیا۔
