ابو ظہبی۔کرک اگین رپورٹ ۔
ابوظہبی ٹیسٹ۔ بنگلہ دیشی فیلڈرز کے ہاتھ پاؤں پھول گئے، افغانستان نے ہسٹری کا سنسنی خیز ترین میچ ڈرا کر دیا۔کرکٹ بریکنگ نیوز ہے یہ کہ
ابوظہبی میں کھیلے گئے واحد ٹیسٹ میچ کے آخری گھنٹے میں سنسنی خیزی اور ڈرامے کے تمام ریکارڈ ٹوٹ گئے۔تازہ ترین کرکٹ خبر کے مطابق بنگلہ دیش نے پورے 5 دن میچ پر اپنی گرفت مضبوط رکھی، لیکن آخری دن افغان بیٹنگ لائن نے حواس باختگی کے ماحول میں ناقابلِ یقین فائٹ بیک کرتے ہوئے ہاری ہوئی بازی کو ڈرا میں بدل دیا۔
میچ کے آخری سیشن اور خاص طور پر آخری 60 منٹوں میں دونوں ٹیموں کے اعصاب کا امتحان تھا۔ بنگلہ دیشی فیلڈرز دباؤ کا سامنا نہ کر سکے۔انہوں نے اہم کیچ چھوڑے اور رن آؤٹ کے 2 یقینی مواقع بھی ضائع کیے۔
اس دوران اسٹار لیگ اسپنر راشد خان، جو اس میچ کا حصہ نہیں تھے، باؤنڈری لائن کے پاس کرسی پر بیٹھے شدید پریشان اور معذرت خواہانہ انداز میں میچ دیکھتے رہے۔
بنگلہ دیش نے اپنی پہلی اننگز میں 346 رنز بنائے اور دوسری اننگز 372 رنز 7 وکٹوں پر ڈکلیئر کر کے افغانستان کو 479 رنز کا پہاڑ جیسا ہدف دیا۔ افغانستان کی ٹیم پہلی اننگز میں صرف 240 رنز پر ڈھیر ہو گئی تھی، جس کے بعد اسے میچ بچانے کے لیے تقریباً 145 اوورز تک بیٹنگ کرنا تھی۔ افغان بیٹرز نے وقت گزارنے اور گیندیں گننے کی شاندار حکمتِ عملی اپنائی اور آخری دن کھیل کے اختتام تک 8 وکٹوں کے نقصان پر 346 رنز بنا کر میچ ڈرا کر دیا۔
صدیق اللہ اٹال نے 322 گیندوں پر 111 رنز کی صابرانہ سنچری کھیلی، جبکہ احمد شاہ نے 121 گیندوں پر 51 رنز بنا کر ان کا بھرپور ساتھ دیا۔ آخری لمحات میں قیس احمد بنگلہ دیشی باؤلرز کے سامنے فولادی دیوار بن گئے، جنہوں نے 80 گیندوں پر 49 رنز کی ناقابلِ شکست اننگز کھیل کر میچ بچا لیا۔ بنگلہ دیش کی طرف سے عبادت حسین اور مہدی حسن مرزا نے 3، 3 وکٹیں حاصل کیں۔
اس میچ میں بنگلہ دیش کی جانب سے کئی تاریخی ریکارڈز بھی بنے۔ وکٹ کیپر لٹن داس نے پہلی اننگز میں سنچری اور دوسری اننگز میں 50 رنز بنانے کے ساتھ ساتھ وکٹوں کے پیچھے 9 شکار کیے۔ ٹیسٹ کرکٹ کی تاریخ میں آج تک کوئی بھی وکٹ کیپر ایک ہی میچ میں یہ تینوں کارنامے انجام نہیں دے سکا۔ دوسری طرف، حسن محمود نے ہیٹ ٹرک سمیت 5 وکٹیں لے کر بنگلہ دیش کے لیے نئی تاریخ رقم کی۔ تاہم، میچ ڈرا ہونے کی وجہ سے بنگلہ دیش کی ان تمام تاریخی پرفارمنسز پر پانی پھر گیا اور میدان میں افغان کرکٹ کے جذبے کی فتح ہوئی۔
