لندن۔کرک اگین رپورٹ ۔
کرکٹ کے میدان سے سنسنی خیز بریکنگ نیوژ آئی ہے کہ افغانستان پریمیئر لیگ تنازعات کا شکار ہوگئی۔ خواتین کھلاڑیوں کا بڑا دھماکا۔کرکٹ کی تازہ ترین خبر کے مطابق متحدہ عرب امارات میں رواں سال دسمبر کے مہینے میں افغان مردوں کی فرنچائز لیگ کا میلہ سجنے کی امید تو ہے، مگر انٹرنیشنل کرکٹ کونسل (آئی سی سی) نے تاحال اس ایونٹ کو اپنی ہری جھنڈی نہیں دکھائی۔
اس نامکمل منظوری کے بیچ ہی ایک نیا پنڈورا باکس کھل گیا ہے کیونکہ افغانستان کی جلاوطن خواتین کرکٹرز نے اس لیگ کے خلاف ایک زبردست جنگ چھیڑ دی ہے۔ میدان میں اترنے والی افغان خواتین کرکٹرز کا غصہ اس وقت ساتویں آسمان پر پہنچ گیا جب انہوں نے اس ایونٹ کا حصہ بننے والے نامور غیر ملکی سٹارز کو کڑے ہاتھوں لیا اور ان کی شرکت کو افغان خواتین کے زخموں پر نمک چھڑکنے کے مترادف قرار دیا۔
پردیس میں پناہ لینے والی افغان بلے باز فیروزہ امیری نے اس حساس معاملے پر دنیا بھر کے کرکٹرز کو جھنجھوڑتے ہوئے کہا کہ جو بھی انٹرنیشنل کھلاڑی اس لیگ کی چکا چوند کا حصہ بننے کا سوچ رہا ہے، اس کے کندھوں پر اب یہ بھاری ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ خود سے کچھ مشکل سوالات ضرور پوچھے۔ انہوں نے مزید واضح کیا کہ کھلاڑیوں کو یہ حق حاصل ہے کہ وہ جہاں چاہیں کھیلیں اور جس مرضی ایونٹ کی نمائندگی کریں، مگر اس کھلی آزادی کے ساتھ ساتھ یہ ذمہ داری بھی جڑی ہے کہ وہ ان ظالمانہ نظاموں کو سمجھیں جن کی انجانے میں وہ مدد کر رہے ہیں۔
رواں موسم گرما میں انگلینڈ کی سرزمین پر ‘افغانستان ریفیوجی ویمنز الیون’ کی کمان سنبھالنے والی ناہیدہ سپن نے اپنے دل کا غبار نکالتے ہوئے کہا کہ گزشتہ پانچ برسوں سے افغان دھرتی پر لڑکیوں سے نہ صرف کرکٹ کھیلنے کا حق چھینا گیا بلکہ ان کے بنیادی حقوق بھی پامال کیے جا رہے ہیں۔ ناہیدہ سپن نے دوٹوک الفاظ میں کہا کہ ان کے لیے افغانستان کی ماؤں بہنوں کی آزادی، عزت اور حقوق کسی بھی کرکٹ لیگ یا کھیل کے منافع بخش موقع سے کہیں بڑھ کر ہیں۔ ان کا ماننا ہے کہ افغان دھرتی پر خواتین کے ساتھ ہونے والے مظالم کو نظرانداز کر کے اس ٹورنامنٹ میں حصہ لینے سے دنیا کو یہ انتہائی غلط پیغام جائے گا کہ ان کی تکلیف کی کوئی اہمیت نہیں ہے۔
سال 2021 میں جب طالبان دوبارہ اقتدار میں آئے تو وہاں خواتین کے کھیلوں میں حصہ لینے پر مکمل پابندی عائد کر دی گئی تھی، جس کے بعد جان بچانے کے لیے کئی نامور خواتین کرکٹرز کو اپنا وطن چھوڑنا پڑا۔ اب ان خواتین کرکٹرز نے سنگین الزام عائد کیا ہے کہ انگلینڈ کے ایلکس ہیلز، معین علی، ٹائیمل ملز، جو کلارک، اولی اسٹون، لیوک ووڈ، ٹام مورز اور کرس ووڈ سمیت اسکاٹ لینڈ کے جارج منسی اور آئرلینڈ کے کرٹس کیمفر جیسے اوورسیز کھلاڑیوں نے ڈرافٹ میں دستخط کر کے دنیا کو یہ دکھایا ہے کہ مشکلات کی ماری افغان خواتین کو آسانی سے نظر انداز کیا جا سکتا ہے۔ ڈیوڈ ملان اور جیمز ونس جیسے نامور برطانوی کھلاڑیوں نے بھی اس ڈرافٹ میں اپنے نام ڈالے ہیں، جنہیں ناہیدہ سپن کے مطابق شرکت سے انکار کر کے مظلوم افغان لڑکیوں کے ساتھ یکجہتی دکھانے کا ایک بہترین موقع گنوانا نہیں چاہیے تھا۔
دونوں خواتین کھلاڑیوں نے بی بی سی کو انٹرویو دیا ہے ۔
