ڈھاکا۔کرک اگین سپیشل رپورٹ۔پاکستان ٹیسٹ کرکٹ نوجوانوں کے ہاتھ آتے ہی محفوظ اور فاسٹ،بنگلہ دیش کو کرارا جواب۔کرکٹ بریکنگ نیوز ہے کہ
پاکستان ٹیسٹ کرکٹ کا مستقبل عملی طور پر نوجوانوں کے ہاتھ آگیا۔ ڈیبیو کرنے والے کھلاڑیوں نے بنگلہ دیشی بولرز اور اس کے فیلڈرز کو تھکا مارا۔ یہی نہیں توقعات کے برعکس پاکستان نے بنگلہ دیش کے خلاف جوابی اننگ میں شاندار اور بااعتماد آغاز کیا ۔میر پور ڈھاکا میں 2 ٹیسٹ میچز کی سیریز کے پہلے ٹیسٹ کے دوسرے دن کے اختتام پر پاکستان نے اپنی پہلی اننگ میں ایک وکٹ پر 179 رنز بنالئے تھے اور اسے میزبان ٹیم کی پہلی اننگ کا سکور 413 رنز پورا کرنے کیلئے مزید 234 رنز درکار ہیں۔ڈیبیو کرنے والے آذان اویس اور عبداللہ فضل نے اپنی شروعات سے سب کو حیران کر کے رکھ دیا ہے۔اوپننگ پوزیشن پر کھیلنے والے آذان 85 اور ون ڈائون آنے والے عبداللہ فضل 37 پر ناقابل شکست ہیں۔دونوں میں دوسری وکٹ پر 73 رنز کی شراکت بن چکی ہے۔
اکیس سال اور 211 دن کی عمر میں ڈیبیو کرنے والے آذان اویس امام الحق کے ساتھ اوپنر آئے۔ دونوں نے شاندار بیٹنگ کا آغاز کیا اور ابتدائی اوورز میں پانچ سے زائد رنز کی اوسط سے بیٹنگ کر کے جدید ٹیسٹ کرکٹ کھیلنے کا گر بھی سینیئرز کو بتا دیا۔ امام الحق اور آذان اویس کے درمیان پہلی وکٹ کی شراکت میں 106 رنز بنے اور اس کے لیے دونوں نے 22 اوورز کھیلے ۔بدقسمت امام الحق تھے جو مہدی حسن مرزا کی گیند پر ایل بی ڈبلیو ہوئے۔ 45 رنز کیلئے انہوں نے 72 گیندیں کھیلیں۔6 چوکے لگائے لیکن آذان اویس کا راستہ پھر بھی نہ رکا۔ ان کو جوائن کرنے والے دوسرے ڈیبیو بیٹر عبداللہ فضل جن کی عمر 23 سال ہے انہوں نے شروع میں بہت محتاط بیٹنگ کی اور 18 گیندوں کے بعد پہلا رن لیا۔جس وقت میرپور ڈھاکہ میں دوسرے دن کا کھیل ختم ہوا تو پاکستان نے بنگلہ دیش کے خلاف پہلی اننگز میں ایک وکٹ کے نقصان پر 179 رنز بنا لیے تھے۔ آذان اویس 133 بالز پر 85 رنز کے ساتھ ناٹ آؤٹ تھے۔ انہوں نے 12 چوکے لگائے ،اگر وہ ڈیبیو پر سنچری کرگئے تو پاکستان کے13 ویں اور دنیا کے120 ویں بیٹر ہونگے۔عابد علی آخری بار پاکستان کیلئے 2019 میں ڈیبیو پر ٹیسٹ سنچری بناچکے ہیں۔جبکہ عبداللہ فضل 37 رنز کے ساتھ ناٹ آؤٹ تھے۔ انہوں نے 6 چوکے لگائے۔ پاکستان کی اننگز کے 46 اوورز ہوئے۔
بنگلہ دیش کی جانب سے مہدی حسن مرزا ہی واحد کامیاب بائولر تھے جنہوں نے 16 اوورز میں 37 رنز دے کے ایک وکٹ لی۔ تسکین احمد کو 8 اوورز میں 40 رنز پڑے اور کوئی وکٹ نہیں ملی۔ اسی طرح دیگر کھلاڑیوں جیسے ناہید رانا جن کا بڑا نام ہے وہ 9 اوورز میں 47 رنز دے گئے اور کوئی کھلاڑی آؤٹ نہیں کر سکے۔
آخری سیشن میں پاکستان نے 36 اوورز کھیلے ۔ایک وکٹ گنوائی اور 129 رنز بنائے۔ جدید ٹیسٹ کرکٹ میں یہ رن ریٹ شاندار رہا۔بنگلہ دیشی بولرز نے بھی 7 نو بالز کر دیے ہیں اب تک اگرچہ فاضل رنز انہوں نے 12 دیے ہیں لیکن 46 اوورز میں سات نو بالز ایک چونکا دینے والی بات ہے۔ اس سے قبل پاکستان نے بنگلہ دیش کی اننگ میں 37 فاضل رنگ دیے تھے جو اس کی اننگ کا چوتھا بڑا انفرادی سکور بنتا ہے۔ اس میں 9 نو بالز تھیں 20 بائی کے رنز تھے اور 8 لیگ بائی کے سکور تھے۔
میرپور ڈھاکہ میں پاکستان اور بنگلہ دیش کے درمیان پہلے کرکٹ ٹیسٹ میچ کے دوسرے دن جب ہفتے کی صبح کھیل شروع ہوا تو بنگلہ دیش 301 رنز چار وکٹ پر تھا ۔پاکستانی ٹیم نے اور اس کے باؤلرز نے انتھک محنت کر کے ابتدائی وکٹیں لیں لیکن یہ سب کچھ محمد عباس اکیلے کر رہے تھے۔ انہیں شروع میں کسی کی مدد حاصل نہیں ہوئی۔
دن کی پہلی اور اوور آل پانچویں کامیابی پاکستان کو 338 کے مجموعی سکور پر اس وقت ملی جب لٹن داس شاندار 33 رنز بنا کر متبادل فیلڈر عماد بٹ کے ہاتھوں قید ہوئے۔ باؤلر محمد عباس تھے۔ پاکستان کو اگلی وکٹ کے لیے 16 رنز کا انتظار کرنا پڑا جب 354 کے اسکور پہ مہدی حسن مرزا 10 رنز بنا کر محمد عباس کا شکار بنے اس بار فیلڈر امام الحق تھے اور بنگلہ دیش کو ساتواں نقصان 378 کے سکور پر ہوا جب تیج الاسلام بھی محمد عباس کا نشانہ بنے، ان کا کیچ وکٹ کیپر محمد رضوان نے لیا۔ انہوں نے 17 رنز کیے۔دو رنز کے اضافے سے سیٹ بیٹر تجربہ کار بنگلہ دیش کیلئے 101واں ٹیسٹ کھیلنے والے مشفق الرحیم شاہین شاہ آفریدی کی ایک شاندار بال پر کلین بولڈ ہوئے۔ انہوں نے 179 گیندیں کھیلیں ۔71 رنز بنائے اور 8 چوکے لگائے۔ بنگلہ دیش کا یہ اٹھواں نقصان 380 پر ہوا اور چار رنز کے اضافے سے عبادت حسین بھی محمد عباس کا شکار بنے وہ صفر پر گئے۔کیچ پکڑنے والے وکٹ کیپر محمد رضوان تھے۔ یہاں تسکین احمد نے ناہید رانا کے ساتھ مل کر اخری وکٹ کی شراکت میں قیمتی 29 رنز جوڑے جس میں 28 رنز تسکین احمد کے تھے ۔وہ آخر کار شاہین شاہ آفریدی کی گیند پر شکیل کے ہاتھوں کیچ ہوئے۔ انہوں نے صرف 19 بالز پر 28 رنز بنائے۔ بنگلہ دیش کی ٹیم 117.1 اوور میں 413 رنز بنا کر آؤٹ ہوئی۔ محمد عباس نے 34 اوورز میں 92 رنز دے کر پانچ وکٹیں لیں۔ شاہین شاہ آفریدی نے 113 رنز دے کر تین کھلاڑیوں کو آؤٹ کیا۔ حسن علی نے 75 رنز اور نعمان علی نے 80 رنز دے کر ایک ایک وکٹ لی۔
آئی سی سی ورلڈ ٹیسٹ چیمپئن شپ میں پاکستان کی یہ دوسری سیریز ہے اور اس کے پہلے میچ کا ٹاس شان مسعود نے جیتا تھا اور گرین پچ پر پہلے بولنگ کا فیصلہ کیا تھا ۔بابر اعظم گھٹنے کی انجری کی وجہ سے میچ نہیں کھیل سکے تھے۔ پاکستان نے دو کھلاڑیوں کو ٹیسٹ ڈبیو کرایا تھا۔
