عمران عثمانی۔ پاکستان بمقابلہ ویسٹ انڈیز،ڈرا سیریز کا مقابلہ،زوال کی نئی داستان۔کرکٹ بریکنگ نیوز ہے کہ ایک اور ڈرا سیریز آنے کو ہے۔
پاکستان اور ویسٹ انڈیز کے درمیان آئی سی سی ورلڈ ٹیسٹ چیمپئن شپ کے سلسلے کی ایک اہم سیریز 25 جولائی سے شروع ہونے والی ہے۔ پاکستان کی کرکٹ ٹیم باہمی سیریز کے مقابلے کے لیے ویسٹ انڈیز کے دورے پر پہنچ چکی ہے، جہاں 25 جولائی کو پہلا ٹیسٹ میچ شروع ہوگا۔
پاکستان اپنے نئے کپتان لیکن سابق کپتان کی قیادت میں ہے۔ پہنچی وہیں پہ۔ کیا کہتے ہیں جہاں کی۔۔۔۔۔
یہ پاکستان کرکٹ ہے ۔یہاں سب کچھ ممکن ہے۔ یہ اس ملک میں ہی ایسا ہوتا ہے کہ ایک کپتان بار بار کپتان بنایا جاتا ہے اور ایک کھلاڑی بار بار آزمایا جاتا ہے۔ناکام کپتان کو بھی ساتھ رکھا جاتا ہے۔کہنے کو شان مسعود سابق کپتان ہیں لیکن وہ بابرعظم کی قیادت میں اس سکواڈ کا حصہ ہیں جو ویسٹ انڈیز میں موجود ہیں اور اس کے بعد اس نے انگلینڈ بھی جانا ہے جہاں تین ٹیسٹ میچوں کی اہم ترین سیریز کھیلی جانی ہے۔
ویسے تو شان مسعود نے جنوری 2025 میں گزشتہ آئی سی سی ورلڈ ٹیسٹ چیمپئن شپ سائیکل میں پاکستان کی مہم کے اختتام پر اپنے ملک کو نویں اور آخری نمبر پر پہنچا دیا تھا،مگر اس وقت انہیں لگا یہ کوئی بری بات نہیں ہے اور یہ کوئی قابل گرفت چیز بھی نہیں ہے اور کوئی قابل حیرت بات بھی نہیں ہے۔ انہوں نے بھی اپنے آپ کو اگے بڑھایا اور پاکستان کرکٹ بورڈ نے بھی انہیں اسی طرح تھپکی دی، جیسا کہ وہ دیتا ہے آ رہا ہے۔پھر وہ ہوا جو گزشتہ بار تو پوری سائیکل کھیل کر ہوا تھا اور اس بار شروع کی دو سیریز کھیل کر ہو گیا۔ پاکستان شان مسعود کی قیادت میں چار ٹیسٹ میچ کھیلنے کے بعد نویں اور آخری نمبر پر پہنچ گیا ۔نتیجے میں ،مجبوری میں، پریس کے بولنے پر، دباؤ پر، تنقید پر پاکستان کرکٹ بورڈ نے شان مسعود کو ہٹایا لیکن لایا کسے، اسے جسے ہٹا کر شان مسعود کو لایا گیا تھا اور شان مسعود آج کھیل رہے ہیں اسی امید پر کہ بابراعظم پھر ہٹائے جائیں گے وہ پھر لائے جائیں گے۔ یہ پاکستان کرکٹ ہے اور یہاں کھیل ہی کھیل ہے۔
اگر پاکستان نویں نمبر پر نہ ہوتا تو ویسٹ انڈیز ہوتا۔ دونوں ہی ایک دوسرے کا پرتو ہیں ۔ ایک دوسرے کا عکس ۔جب عروج تھا تو بھی ایک جیسے اور جب زوال ہے تو بھی یہاں مقابلہ ہے ۔ویسٹ انڈیز کی کرکٹ ٹیم نے حال ہی میں اپنے ملک میں سری لنکا خلاف ٹیسٹ سیریز جیت کر اپنی پوزیشن اور اپنی کارکردگی کو بہتر کیا ہے ۔پاکستان کے لیے بہرحال دباؤ تو ہوگا اور یوں بھی چیلنج ہوگا کہ اسے دو ممالک ویسٹ انڈیز اور انگلینڈ میں کھیلنا ہے اور ویسٹ انڈیز کی ٹیم اپنے ملک میں سری لنکا سے جیتی ہے جبکہ انگلینڈ کی ٹیم اپنے ہی ملک میں نیوزی لینڈ سے ہاری ہے تو متعدد مقام پر متعدد چیلنجز ہیں۔
پاکستان اور ویسٹ انڈیز کے درمیان اب تک کھیلے گئے 56 ٹیسٹ میچز میں مقابلہ قریب برابر ہی ہے۔ پاکستان نے 22 فتوحات حاصل کی ہیں ۔ویسٹ انڈیز 19 میں کامیاب ہوا ہے۔15 ٹیسٹ میچز ڈرا ہوئے۔دونوں ممالک کے درمیان اب تک 19 ٹیسٹ سیریز کھیلی جا چکی ہیں۔ پاکستان کو یہاں برتری ہے۔ اس نے 6 ٹیسٹ سیریز جیتی ہیں جبکہ ویسٹ انڈیز نے 5 ٹیسٹ سیریز ٹرافی اپنے نام کی ہیں ،جبکہ 8 ٹیسٹ سیریز دونوں ممالک کے درمیان ڈرا کھیلی گئی ہیں۔
ان سیریز کی کہانی بھی بڑی دلچسپ ہے ۔ 2000 میں ویسٹ انڈیز نے آخری بار پاکستان کے خلاف ٹیسٹ سیریز جیتی تھی۔ اس کے بعد پاکستان کی زیادہ فتوحات ہیں یا ٹیسٹ سیریز ڈرا ہیں ۔اس کا مطلب کیا ہوا۔ اس کا مطلب یہ ہوا، ایک ٹیم کے عروج سے زوال کی جانب اور دوسری ٹیم کے زوال سے زوال تر ہونے کی علامت ہے اور اب حالات یہ ہیں ان دونوں ممالک کی آخری ٹیسٹ سیریز کا جائزہ لیا جائے، چاہے وہ پاکستان میں کھیلی گئی ہوں یا ویسٹ انڈیز میں ،کوئی نہیں جیتا۔ ڈرا ۔ مطلب زوالی میں بھی برابری ہے۔پاکستان نے ویسٹ انڈیز میں آخری دو ٹیسٹ سیریز 2021 اور 2023 میں جو کھیلیں۔ وہ ڈرا ہوئیں اور ویسٹ انڈیز نے پاکستان میں جو آخری ٹیسٹ سیریز 2025 میں کھیلی وہ بھی ڈرا رہی۔مصباح الحق کی قیادت میں پاکستان نے 2017 میں ویسٹ انڈیز کی سرزمین پر ہسٹری میں پہلی اور اب تک کی آخری ٹیسٹ سیریز جیت رکھی ہے۔ اس کے علاوہ چار سیریز اپنے ملک اور متحدہ عرب امارات میں جیتی ہیں۔ویسٹ انڈیز پاکستان کے خلاف 26 سال سے کوئی ٹیسٹ سیریز نہیں جیت سکا ہے اور پاکستان نے بھی کمال یہ کی ہے کہ کچھ زیادہ اچھی پرفارمنس نہیں تھی اکثر سیریز ڈرا بھی کھیلی ہیں۔
