لاہور ۔کرک اگین رپورٹ ۔ محمد رضوان کی پریس کانفرنس،پی سی بی کا جواب،بریکنگ نیوز
پی سی بی اور محمد رضوان میں ڈیڈ لاک،کرکٹ بریکنگ نیوز ہے کہ موبائل فون ضبطگی اور آئی سی سی خط کا سچ عوام کے سامنے لانے کی کوششیں ناکام۔
پاکستان کرکٹ بورڈاور قومی ٹیم کے سینیئر کھلاڑی محمد رضوان کے مابین پسِ پردہ چلنے والی کشیدگی اب کھل کر سامنے آنے لگی ہے۔ لارڈز ٹیسٹ کے بعد پیدا ہونے والے حساس معاملات اور اپنے خلاف بننے والے ماحول پر محمد رضوان اب مزید خاموش رہنے کے موڈ میں نہیں ہیں، یہی وجہ ہے کہ انہوں نے بورڈ کے سامنے اپنا موقف رکھنے اور میڈیا سے کھل کر بات کرنے کی باقاعدہ خواہش ظاہر کی۔ تاہم، کرکٹ بورڈ کی انتظامیہ نے روایتی سخت رخ اپناتے ہوئے اسٹار بیٹر کو عوامی سطح پر لب کشائی کرنے سے روک دیا ہے۔
اطلاعات کے مطابق، رضوان نے ایک بار نہیں بلکہ دو الگ الگ مواقع پر پی سی بی سے پریس کانفرنس یا میڈیا ٹاک کرنے کی باضابطہ اجازت مانگی تھی، لیکن بورڈ نے دونوں ہی بار ان کی اس التجا کو یکسر مسترد کر دیا۔محمد رضوان کے قریبی حلقوں اور ذرائع کا کہنا ہے کہ وہ کسی قسم کی محاذ آرائی یا قانون شکنی نہیں کرنا چاہتے، بلکہ ان کا ارادہ تمام قانونی ضابطوں اور اخلاقی حدود کے اندر رہتے ہوئے حقائق کو پبلک کرنا تھا۔ رضوان اس پورے تنازع کا سچ کرکٹ فینز کے سامنے رکھنا چاہتے ہیں، جس میں لارڈز ٹیسٹ کے اختتام پر ان کا موبائل فون اچانک تحویل میں لیے جانے کا معاملہ، ان کی ذات پر لگائے جانے والے مختلف سنگین الزامات اور اس حوالے سے انٹرنیشنل کرکٹ کونسل کو لکھے گئے خط کی پسِ پردہ تفصیلات شامل ہیں۔ وہ چاہتے تھے کہ عوام افواہوں پر کان دھرنے کے بجائے براہِ راست ان کا موقف سنیں، مگر پی سی بی نے انہیں یہ موقع دینے سے صاف انکار کر دیا۔
تکنیکی اور قانونی لحاظ سے دیکھا جائے تو پی سی بی اس وقت کھلاڑیوں کے سینٹرل کنٹریکٹ کی شق نمبر 4.1 کا سہارا لے رہا ہے، جس کی رو سے کوئی بھی معاہدہ یافتہ کھلاڑی بورڈ کی پیشگی اجازت کے بغیر میڈیا یا سوشل میڈیا پر کسی بھی قسم کا کوئی آفیشل یا ان آفیشل بیان جاری نہیں کر سکتا۔ محمد رضوان نے بورڈ کے اس قانون کا پورا احترام کیا اور اسی لیے خود کوئی قدم اٹھانے کے بجائے اجازت طلب کی۔ ذرائع کے مطابق، رضوان اسی کنٹریکٹ کی شق نمبر 16 کا فائدہ اٹھانا چاہتے تھے، جو یہ واضح کرتی ہے کہ بورڈ اور کھلاڑی کے درمیان کسی بھی تصفیے یا معاملے میں دوطرفہ اور یکساں باہمی تعاون کا ہونا لازمی ہے۔ رضوان کا موقف ہے کہ جب کنٹریکٹ کے تحت کھلاڑی پر کچھ پابندیاں ہیں، تو اسی کنٹریکٹ کے تحت بورڈ پر بھی لازم ہے کہ وہ کھلاڑی کے تحفظ اور اس کا موقف سننے کے لیے تعاون کا ہاتھ بڑھائے، لیکن فی الحال پی سی بی اس معاملے کو یکطرفہ انداز میں ہی چلاتا ہوا دکھائی دے رہا ہے۔
