سڈنی۔کرک اگین رپورٹ۔
انگلینڈ کے خلاف اہم سیریز کے لیے آسٹریلیا کےسکواڈ کا اعلان
کمنز، ہیزل ووڈ اور اسٹارک باہر۔کرکٹ بریکنگ نیوز ہے یہ کہ نئے چہروں کی شمولیت۔
آسٹریلوی کرکٹ سلیکٹرز نے انگلینڈ کے خلاف ہوم سیریز کے لیے ون ڈے اور ٹی ٹوئنٹی اسکواڈز کا اعلان کر دیا ہے، جس میں کئی حیران کن فیصلے اور مستقبل کے کھلاڑیوں کو سامنے لانے کی جھلک نظر آتی ہے۔
اگلے ماہ نیوزی لینڈ کے خلاف شروع ہونے والی اہم ٹیسٹ سیریز کو مدنظر رکھتے ہوئے آسٹریلیا نے اپنے تین بڑے فاسٹ باؤلرز پیٹ کمنز، جوش ہیزل ووڈ اور مچل اسٹارک کو انگلینڈ کے خلاف ون ڈے اور ٹی ٹوئنٹی میچوں سے مکمل آرام دینے کا فیصلہ کیا ہے۔ اس کے ساتھ ہی فاسٹ بولر ناتھن ایلس بھی انجری کے باعث ون ڈے سیریز کے لیے دستیاب نہیں ہوں گے۔
ان سینئر باؤلرز کی عدم موجودگی میں مغربی آسٹریلیا کے نوجوان اور انتہائی باصلاحیت تیز گیند باز مہلی بیرڈمین کے لیے بین الاقوامی کرکٹ کے دروازے کھل گئے ہیں۔ حال ہی میں انڈیا ‘اے’ کے ٹاپ آرڈر کو اپنی تباہ کن بولنگ سے تہس نہس کرنے والے بیرڈمین اس ماہ انگلینڈ کے خلاف اپنا ون ڈے ڈیبیو کرنے کے لیے مکمل تیار ہیں۔
سلیکشن کے حوالے سے سب سے دلچسپ فیصلہ ٹم ڈیوڈ کا رہا۔ 2027 کے ون ڈے ورلڈ کپ میں بطور فنشر جگہ بنانے کا عزم لیے حال ہی میں تسمانیہ کی جانب سے ‘لسٹ اے’ کرکٹ میں واپسی کرنے والے ٹم ڈیوڈ کو ون ڈے اسکواڈ میں شامل نہیں کیا گیا، البتہ وہ ٹی ٹوئنٹی اسکواڈ کا حصہ ہیں۔ دوسری جانب، ستمبر کے دوروں سے ڈراپ ہونے والے آل راؤنڈر لیام اسکاٹ کی اسکواڈ میں واپسی ہوئی ہے، جبکہ جنوبی افریقہ کے دورے پر متبادل کے طور پر آنے والے جیک ایڈورڈز اپنی جگہ برقرار رکھنے میں کامیاب رہے ہیں۔
ٹی ٹوئنٹی اسکواڈ میں آسٹریلیا نے نئے تجربات کا فیصلہ کیا ہے، جہاں سیم ہارپر اور لاکلان شا کو پہلی بار قومی ٹیم میں شامل کیا گیا ہے، جبکہ جارح مزاج بیٹر جیک فریزر-میک گرک اور مچل اوون کی واپسی ہوئی ہے۔ ٹیسٹ میچز کھیلنے والے بیٹرز کو ٹی ٹوئنٹی سیریز سے دور رکھا گیا ہے، جبکہ مچل اسٹارک پہلے ہی اس فارمیٹ سے ریٹائر ہو چکے ہیں۔
آسٹریلیا اور انگلینڈ کے درمیان تین ون ڈے میچوں کی یہ سیریز 13، 15 اور 18 نومبر کو بالترتیب پرتھ، ایڈیلیڈ اور ہوبارٹ میں کھیلی جائے گی۔ آسٹریلوی کرکٹ بورڈ کے مطابق سینیئر بولرز کے لیے نومبر کا یہ مہینہ ایک ‘ورک لوڈ مینجمنٹ’ کا حصہ ہے تاکہ وہ نیوزی لینڈ کے خلاف 9 دسمبر سے شروع ہونے والے پہلے ٹیسٹ کے لیے مکمل فٹ اور تازہ دم رہ سکیں۔
