راولپنڈی۔کرک اگین رپورٹ۔ سلمان علی آغا کے بڑے طنز،اشارہ اور جواب کسے،کس کو کیا جواب دیئے۔کرکٹ بریکنگ نیوز
کرکٹ کی تازہ ترین خبریں یہ ہیں کہ راولپنڈی ون ڈے میں سری لنکا کے خلاف ایک ہاری ہوئی بازی کو سنچری بنا کر فتح میں بدلنے والے سلمان علی آغا نے میچ کے بعد پریس کانفرنس میں کچھ ایسے تہلکہ خیز اور معنی خیز انکشافات کیے ہیں، جنہوں نے پاکستان کرکٹ بورڈ اور سابق کرکٹرز کے ایوانوں میں کھلبلی مچا دی ہے۔ حالیہ دنوں میں ٹی 20 کپتانی سے اچانک ہٹائے جانے اور ٹیسٹ اسکواڈ سے بے دردی سے ڈراپ کیے جانے پر خاموش رہنے والے آغا سلمان نے بالآخر اپنا غصہ اور کرب پریس کانفرنس میں نکال دیا ہے۔
جب صحافیوں نے ان سے حالیہ ڈراپنگ اور ان کے بیٹنگ اسٹائل پر سوال کیا، تو سلمان علی آغا نے کرپٹ اور روایتی سوچ پر وار کرتے ہوئے کہا ہے کہ میری بیٹنگ تو ہر فارمیٹ میں ایک جیسی ہی ہوتی ہے، چاہے وہ ٹی 20 ہو، ون ڈے ہو یا ٹیسٹ کرکٹ۔ میں اپنے ایک ہی اسٹائل سے کھیلتا ہوں۔ ان کا یہ جملہ دراصل ان سلیکٹرز کے منہ پر ایک زوردار طمانچہ تھا جنہوں نے انہیں فارمیٹ کی بنیاد پر اسکواڈ سے باہر کیا تھا۔ جب ان سے پوچھا گیا کہ کیا یہ سنچری کے بعد اشارہ کسی کو پیغام دینے کے لیے تھا، تو انہوں نے انتہائی جارحانہ انداز میں جواب دیا کہ میرے پاس اتنا فالتو وقت نہیں ہے کہ میں کسی کو میسج کرتا پھروں یا خود کو صحیح اور دوسروں کو غلط ثابت کرنے کی کوشش کروں۔ مجھے اپنی کرکٹ، اپنی بیٹنگ اور اپنے ملک پاکستان سے پیار ہے۔ سنچری بنانے کے بعد جو میں نے اشارہ کیا۔وہ کسی تنقید کرنے والے کے لیے نہیں بلکہ میرا بیٹا ٹی وی دیکھتے ہوئے ایسا کرتا ہے، تو یہ جشن صرف اس کے لیے تھا۔
ٹرائی سیریز،پاکستان نے سری لنکا کو ہرادیا،سلمان علی آغا کا جواب
سلمان علی آغا نے ڈومیسٹک کرکٹ کا مذاق اڑانے والے سابق کرکٹرز اور میڈیا اینکرز کو بھی آڑے ہاتھوں لیا۔ انہوں نے غصے کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ سوشل میڈیا یا ٹی وی پر بیٹھ کر کوئی بھی سابق کرکٹر اٹھ کر کہہ دیتا ہے کہ اس نے تو صرف ڈومیسٹک میں رنز بنائے ہیں۔آغا نے سوال اٹھایا کہ کیا ڈومیسٹک کرکٹ کھیلنا اتنا آسان ہے؟ اگر آسان ہوتا تو ہر کوئی وہاں جا کر سنچریاں بنا رہا ہوتا۔ جس کی بھی فارم خراب ہوتی ہے، وہ وہیں جاتا ہے۔ مجھے بھی حالیہ ڈومیسٹک سیزن کھیلنے کا بہت فائدہ ہوا جس کا نتیجہ آج سب نے دیکھ لیا۔ انہوں نے مزید کہا کہ نوجوان سعد بیگ نے بھی آج ڈومیسٹک کی کارکردگی کی بنیاد پر ہی انٹرنیشنل کرکٹ میں اتنا شاندار آغاز کیا۔ میں خود 10 سال ڈومیسٹک میں رگڑا کھا کر یہاں پہنچا ہوں۔ صرف تین چار ٹیسٹ میچ برے تھے۔ انٹرنیشنل کرکٹ کا پریشر الگ ہوتا ہے اور ڈومیسٹک کو عزت دیے بغیر ہماری کرکٹ آگے نہیں بڑھ سکتی۔
