لاہور ۔کرک اگین رپورٹ ۔ماضی کے 2 جادو گروں کو کس نے کروایا چپ،بڑا جادوگر کون نکلا۔کرکٹ کی تازہ ترین خبر اور بریکنگ نیوز ہے کہ
شاداب خان کو لے کر ثقلین مشتاق اور توصیف احمد، جو پاکستان کے ماضی کے دو مایہ ناز اسپنرز ہیں، اپنے اپنے وقت کے بادشاہ رہے ہیں، جن کے گلے میں شاندار میڈل اور ماتھے پہ شاندار کامیابیاں ہیں، پچھلے چوبیس گھنٹوں میں ایک دوسرے کے سامنے آ گئے۔ سوشل میڈیا پر ایک ایسی کرکٹ کی
جنگ بنی کہ سب دنگ رہ گئے، لیکن اب دونوں طرف بالکل خاموشی ہے۔ ہم آج آپ کو بتائیں گے کہ آخر ان دونوں کو خاموش کس نے کروایا ہے۔ لیکن اس سے پہلے آپ کو بتاتے ہیں کہ پورا ماجرا کیا تھا۔
توصیف احمد نے ایک شو میں یہ کہہ کر سب کو ہلا دیا کہ ثقلین مشتاق اپنے داماد یعنی شاداب خان کی سلیکشن کے لیے بہت زیادہ آگے بڑھتے ہیں، یہاں تک کہ ان کی سفارش کے لیے مجھ سے بھی رابطہ کیا گیا اور اس کا مکمل ریکارڈ میرے موبائل فون میں آج بھی موجود ہے۔
اب ظاہر ہے یہ اتنا بڑا چیلنج تھا ثقلین مشتاق کے لیے، جو اپنے وقت کے کوالٹی اسپنر رہے اور پاکستان ٹیم کی کوچنگ بھی کر چکے ہیں اور کرکٹ میں ایک ممتاز مقام رکھتے ہیں۔ انہوں نے اگلی ہی صبح سوشل میڈیا پر توصیف احمد کو کرارا جواب دیا کہ اگر تمہارے پاس یہ سارا کچھ موجود ہے تو اسے ریکارڈ پر لائیں اور پبلک کریں، کیونکہ ریکارڈ تو میرے پاس بھی سارا موجود ہے۔اس کے بعد دن بھر یہی خبر میڈیا کی ہیڈ لائنز بنی رہی اور ہر جگہ اسی کا چرچا رہا، لیکن پھر دوپہر کے وسط میں اچانک سب بدل گیا اور دونوں طرف سے سیز فائر ہو گیا۔
ہوا کچھ یوں کہ پاکستان کے ایک سابق کپتان نے ان دونوں سابق کرکٹرز سے رابطہ کیا اور انہیں خاموش رہنے کی تلقین کی۔ انہوں نے سمجھایا کہ پہلے ہی رضوان کو لے کر معاملات کافی خراب چل رہے ہیں، آپ لوگ کیوں ایک اور کھلاڑی کا کیریئر خراب کر رہے ہیں اور آپس کے تعلقات بھی داؤ پر لگا رہے ہیں۔ بس اسی سمجھانے کے بعد دونوں طرف سے یہ ٹکراؤ رک گیا۔ اب آپ سوچ رہے ہوں گے کہ اس سابق کرکٹر کا نام کیا تھا؟ تو ہم آپ کو بتا دیں کہ وہ پاکستان کے ممتاز کپتانوں میں سے ایک ہیں، کرکٹ مائنڈ رکھتے ہیں اور آج کل لاہور میں قیام پذیر ہیں۔
