دبئی/ ناگویا۔کرک اگین رپورٹ ۔ ایشین گیمز کرکٹ اور ٹرافی تنازعہ،محسن نقوی جاپان جارہے یا نہیں،بھارت خوف میں۔کرکٹ بریکنگ نیوز ہے کہ
کرکٹ کی دنیا میں اس وقت ایک نیا اور انوکھا تنازع سر اٹھا رہا ہے۔ ایک طرف جہاں ایشیا کپ ٹرافیز کا معاملہ شدت اختیار کر چکا ہے اور یہ خبریں گرم ہیں کہ دونوں ٹرافیاں دبئی کے بجائے پاکستان میں موجود ہیں، جس کی وجہ سے بھارتی ٹیم کو جلد ٹرافی ملنے کی امیدیں دم توڑتی نظر آ رہی ہیں۔ تازہ ترین کرکٹ ارٹیکلز کے مطابق دوسری جانب اب ایشین گیمز میں کرکٹ کے تمغوں کی تقسیم پر بھی ایک نیا مدعا سامنے آ گیا ہے۔
جاپان میں ہونے والی ان گیمز میں اکتوبر کے آغاز میں خواتین اور مردوں کے کرکٹ کے فائنل مقابلے کھیلے جانے ہیں، جہاں بھارتی ٹیمیں فائنل جیتنے کی مضبوط امیدوار تصور کی جا رہی ہیں۔
کیا محسن نقوی جاپان میں بھارتی کھلاڑیوں کو انعامات دیں گے؟
اصل بحث اس سوال پر ہو رہی ہے کہ کیا جاپان میں ہونے والی ایشین گیمز کے جو منتظمین ہیں، کیا وہ ایشین کرکٹ کونسل کے صدر محسن نقوی کو دعوت دیں گے کہ وہ وہاں انعامات اور تمغے تقسیم کریں؟ اگر ایسا ہوتا ہے، تو کیا بھارتی ٹیم جو فائنل جیتنے کی مضبوط امیدوار ہے،وہ پھر ایک دفعہ بائیکاٹ کرے گی اور تمغے نہیں لے گی؟ اگر بھارت نے ایسا کیا تو پھر ایک دفعہ بین الاقوامی سطح پر رسوائی ہوگی۔ اس حوالے سے یہ ایک تازہ ترین کرکٹ بریکنگ نیوز (اہم ترین خبر) سامنے آئی ہے۔
پاکستان اور بھارت کا میچ نہ ہونے کا امکان اور جاپان سے سفارتی تعلقات
اس ٹورنامنٹ کی اہم بات یہ ہے کہ ہندوستان اور پاکستان کی ٹیمیں مرد اور خواتین دونو صرف تمغے کے مقابلے میں ہی ایک دوسرے کے مدمقابل ہوں گی، یعنی یا تو سونے (گولڈ میڈل) کے لیے یا پھر کانسی (برونز میڈل) کے تمغے کے لیے۔ اس بات کا بھی پورا امکان ہے کہ جاپان میں پاکستان اور بھارت کا کوئی میچ سرے سے ہو ہی نہ پائے۔
یہاں یہ بات بھی اہم ہے کہ جاپان کے ساتھ ہندوستان کے مضبوط سفارتی تعلقات ہونے کی وجہ سے دبئی کا منظر نامہ ناگویا (جاپان) میں دہرائے جانے کا امکان نہیں ہے۔ دونوں ممالک نے حال ہی میں اپنی دوستی کے 75 سال مکمل ہونے کی یاد میں خصوصی اقدامات کا اعلان کیا ہے۔ اس دوستی کے ایک حصے کے طور پر، ہندوستان، جو کہ دنیا کی نمبر 1 ٹیم ہے، جاپان سے کھیلنے پر رضامند ہو گیا۔
عالمی چیمپئنز کا جاپان کے خلاف میچ تیار کرنے کا پس منظر
موجودہ عالمی چیمپئنز (بھارت) کے لیے 41ویں نمبر پر موجود ایک ایسوسی ایٹ (معاون) ملک (جاپان) سے مقابلہ کرنا کوئی معمولی اشارہ نہیں ہے۔ اس میچ کو تیار کرنے اور فائنل کرنے کے لیے دونوں ممالک کی حکومتوں کے علاوہ، بورڈ آف کنٹرول فار کرکٹ ان انڈیا (بھارتی کرکٹ بورڈ) اور جاپان کرکٹ ایسوسی ایشن نے مل کر پورا کردار ادا کیا۔
ہندوستان کے لیے کسی شرمندگی کا کوئی امکان نہیں
جاپان کے ہندوستان کے ساتھ مضبوط تعلقات کو دیکھتے ہوئے اس بات کا کوئی امکان نہیں ہے کہ یہ میزبان ملک ہندوستانی فریق کے لیے کسی قسم کی شرمندگی یا سبکی کی اجازت دے گا۔ اس پورے معاملے میں محسن نقوی کی زیرِ قیادت کام کرنے والی ایشین کرکٹ کونسل کو بہت ہی کم بولنے یا مداخلت کا موقع ملے گا۔
میڈل ایونٹ (تمغے دینے کی تقریب) کے لیے مہمانِ خصوصی کا فیصلہ یقیناً اولمپک کونسل آف ایشیا کا بنیادی اختیار ہوگا، لیکن جاپانی اولمپک کمیٹی اور ایچی ناگویا ایشین گیمز آرگنائزنگ کمیٹی (انتظامی کمیٹی) کا اس معاملے میں بہت بڑا اور فیصلہ کن کردار ہوگا۔
محسن نقوی کے جاپان جانے کا سسپنس اور خطرے کا اظہار
ایونٹ کے دوران بھارتی کرکٹ بورڈ کے اعلیٰ عہدیدار بھارت سے جاپان میں موجود ہوں گے، جن میں سیکرٹری بھارتی کرکٹ بورڈ اور دیگر حکام شامل ہیں۔ دوسری جانب پاکستان کرکٹ بورڈ کی جانب سے اب تک اس حوالے سے کوئی باضابطہ ایڈوائزری (ہدایت نامہ) یا بیان جاری نہیں کیا گیا ہے۔ (غیر ملکی) ویب سائٹ نے انکشاف کیا ہے کہ جب انہوں نے پاکستان کرکٹ بورڈ کے ترجمان سے رابطہ کیا، تو انہوں نے بتایا کہ محسن نقوی کا جاپان جانا ابھی مشکوک ہے اور ان کا فی الحال ایسا کوئی شیڈول نہیں بنا۔ تاہم، اسی ویب سائٹ نے یہ بڑا دعویٰ بھی کیا ہے کہ محسن نقوی اپنے آخری لمحات (اختتامی اوقات) میں اچانک چونکا دینے والے فیصلے کرنے کے لیے مشہور ہیں۔ اسی وجہ سے یہ خطرہ برقرار ہے کہ وہ آخری وقت پر جاپان پہنچ کر تقریب کا حصہ بن سکتے ہیں، جس سے یہ معاملہ ایک بار پھر پاک بھارت کرکٹ سیاست میں سنسنی پیدا کر رہا ہے۔
