کرکٹ تجزیہ کار عمران عثمانی۔پاکستان کرکٹ،کپتانوں کی تبدیلی،ڈراپ،سلیکٹ،پالیسی،فیصلہ سازی،ٹائٹل کتاب الحمقا۔دنیائے کرکٹ کی جو بڑی ٹیمیں ورلڈ کپ جیتیں یا ورلڈ چیمپئن کے اعزاز کو برقرار رکھا۔ ان کے فیصلوں اور ان کی پرفارمنس میں تسلسل نظر آیا ۔ان کے کرکٹ بورڈز اور ان کے کھلاڑی اور ان کے کپتان تمام ایک پیج پر دکھائی دیئے۔ انگلینڈ کی کرکٹ ٹیم ہمیشہ ناکام ہوتی تھی لیکن 2015 کے آسٹریلیا اور نیوزی لینڈ میں ہونے والے ورلڈ کپ سے ابتدائی راؤنڈ سے باہر ہونے کے بعد انہوں نے 2016 سے جو اپنی رفتار پکڑی، کھلاڑی تبدیل کیے اور کپتان بدلا اور اس کے بعد تسلسل کے ساتھ اس پر برقرار رہے ۔نتیجے میں وہ 2019 کا ورلڈ کپ جیت گئے ۔اسٹریلیا اور بھارت بھی ایسے ہی تسلسل کے ساتھ چلتے ہیں ۔نیوزی لینڈ میں بھی تسلسل ہے ۔ان کی قسمت ہمیشہ آڑے آئی ہے ۔جنوبی افریقہ بھی تسلسل سے چلتا ہے، وہ بھی چوکرز رہے ہیں ۔پاکستان جیسے ملک میں کیا ہوتا ہے۔ ایک اکتوبر 2024 میں ایک کپتان بنایا جاتا ہے اور اگلے اکتوبر میں اسے ہٹا دیا جاتا ہے۔ اسی طرح ایک ایسے کھلاڑی کو کپتان بنایا جاتا ہے جن کی ٹیم میں جگہ نہیں بنتی۔ نتائج پھر وہی ہوتے ہیں جو سامنے آتے ہیں۔ اب آسٹریلیا کے خلاف شروع ہونے والے ون ڈے سیریز میں شاہین آفریدی اگرچہ کپتان ہیں مگر کارکردگی کیا ہے ۔ٹیم میں جگہ بنتی ہے یا وہ اتنے پراثر ہیں کہ اپنی کارکردگی سے اتنا اثر ڈالیں کہ دیگر کھلاڑی بھی ان کی تقلید کرتے نظر آئیں۔اعداد و شمار اس کے الٹ ہیں۔ کبھی بابراعظم ڈراپ ہیں، کبھی ہماری ہیڈ لائنز یہ ہوتی ہیں کہ بابراعظم کی واپسی ۔سینیئر کی واپسی۔ اب یہ ہو جائے گا۔ وہ ہو جائے گا ،جسے ڈراپ کیا گیا اسے ہم بھول جاتے ہیں ۔حالیہ سیریز کے لیے محمد رضوان کو ڈراپ کیا گیا ہے۔ سوال بنتا ہے کہ ان کا قصور کیا ہے اور ان کی کارکردگی خراب ہے کیا؟
ہم جائزہ لیتے ہیں
ورلڈکپ 2023 کی ناکامی کے بعد پاکستانی کپتان بابر اعظم کی فراغت سے اب تک پاکستان نے 29 انٹرنیشنل ون ڈے میچز کھیلے ہیں۔15 جیتے ہیں اور 14 ہارے ہیں۔
پاکستان کی جانب سے ٹاپ سکوررز میں سلمان علی آغا واحد کھلاڑی ہیں جنہوں نے ایک ہزار سے زائد رنز بنائے۔29 میچزکی 25 اننگز میں 47.77 کی اوسط سے انہوں نے1051 رنزکئے۔3 سنچریاں اور5 ہاف سنچریز ہیں۔134 ان کا بڑا انفرادی سکور رہا۔دوسرا نمبر پاکستان کے وکٹ کیپر محمد رضوان کا ہے۔انہوں نے 29 میچز کی 27 اننگز میں 42.42 اوسط سے 891 رنزبنائے۔1 سنچری اور 6 ہاف سنچریز ہیں۔بابر اعظم 23 میچزکی 23 اننگز میں38.7 کی اوسط سے 772 رنزکرکے تیسرے نمبر پر ہیں۔انہوں نے ایک سنچری اور 5 نصف سنچریز کی ہیں۔صائم ایوب نے 17 میچز میں46.93 کی اوسط سے 751 رنزبنائے۔ان کے علاوہ کوئی بیٹر 400 سے زائد سکور کر نہیں سکا۔عبدا للہ شفیق کو 15 اور فخرزمان کو 10 ون ڈے میچز ملے۔اس سے یہ سمجھ میں آیا کہ 2023 ون ڈے ورلڈکپ میں ناکامی کے بعد ساری نفرت کپتان بابر اعظم کیلئے تھی۔پی سی بی کی کتاب میں اگلے ورلڈکپ کا لانگ ٹرم پلان نہیں تھا۔اگر ہوتا تو آپ کو تسلسل کے ساتھ اوپنرز،مڈل آرڈرز میں ایسے کھلاڑی دکھائی دیتے جو 29 مٰں سے کم سے کم 20 میچز کھیل چکے ہوتے۔کامیابی ہونا نہ ہونا ان پلیئرز کی قسمت ہوتی لیکن یہ کیا۔پی سی بی کی کتاب میں کوئی پلیئر اس قابل نہ تھا کہ اسے کھلایا جاتا۔
رضوان کو ون ڈے سکواڈ سے نکال دیا گیا،پاکستان ٹیم کا اعلان
اپ بولنگ کے حالات دیکھیں ۔2023 ون ڈے ورلڈ کپ میں شاہین شاہ آفریدی ان بولرز میں شامل تھے جو پاکستان کے لیے ناکام تھے۔ مایوس کن تھے ،لیکن اس کے باوجود آج وہ ایک روزہ فارمیٹ کے کپتان ہیں۔ انہوں نے گزشتہ ورلڈ کپ 2023 کے بعد سے اب تک 21 ون ڈے میچز میں پاکستان کی نمائندگی کی۔ 35 وکٹیں حاصل کیں۔ 28.5 کی بھاری اوسط، ایکانومی ریٹ یعنی فی اوور 5.83.مہنگے بولر تھے. وہ ایک دفعہ بھی پانچ وکٹیں نہیں لے سکے. 47 رنز کے عوض چار وکٹیں بہترین بولنگ اور دو بار وہ چار وکٹیں لے سکے ہیں۔ دوسرا نمبر ہر حارث رؤف کا ہے ۔19 میچز میں 822 رنز کے عوض 24.17 کی اوسط سے 34 وکٹیں ہیں اور ان کا ایکانومی ریٹ بھی 5.59 زیادہ ہے .ان کی بہترین بولنگ 29 رنز کے عوض پانچ وکٹیں ہے۔ انہوں نے ایک بار پانچ اور ایک بار چار وکٹیں لیں۔ تیسرا نمبر اسپنر ابرار احمد کا ہے ۔16 میچز میں 656 رنز دیے ۔28 وکٹیں لیں اور 22.2 کی ایوریج تھی۔ بہتر ہے۔ 4.55 اکانومی ریٹ یہ بھی بہتر ہے۔ 27 رنز کے عوض چار وکٹیں بہترین بولنگ ۔دو بار وہ چار وکٹیں لے سکے ۔اب آپ نسیم شاہ کو دیکھیں۔ ان کو 20 میچز کھیلنے کو ملے اور انہوں نے ایک ہزار 12 رنز دیے ہیں اور 28 وکٹیں لیں۔ بہترین بولنگ تین وکٹیں 37 رنز کے عوض اور 36.14 کی ایوریج ہے۔ اور 6.3 کا اکانومی ریٹ ہے ۔کسی طرح بھی بہتر بولر نہیں رہے ۔سلمان علی آغا نے 15 میچز میں 624 رنز دے کے 15 وکٹیں لیں۔ 41.6 کی ایوریج اور چھ کے قریب اکانومی ریٹ تھا ۔باقی ہم کسی کی کیا بات کریں ،کیونکہ کسی کی 10 وکٹیں ہی نہیں ہیں تو یہ پاکستان کا بولنگ اٹیک ہے ۔
تو 2023 ورلڈ کپ والی کارروائی ہے اور اعدادوشمار آپ کے سامنے ہیں۔ یہاں سے بھی لگتا ہے کہ پاکستان کرکٹ بورڈ نے گزشتہ ورلڈ کپ کے بعد کچھ نہیں سیکھا تھا۔ کچھ کام نہیں کیا۔ چل چلائی کا نام گاڑی ہے۔ ذاتی لڑائی تھی۔ ذاتی پسند ،ناپسند تھی اور اب بھی انہی پر انحصار کیا جا رہا ہے۔
اب پی سی بی کی سلیکشن کا تضاد دیکھیں
۔شاداب خان کی سلیکشن کس بنیاد پر ہوئی ہے۔ 2023 کے ون ڈے ورلڈ کپ کے پانچ میچز میں ان کی صرف دو وکٹیں تھیں ۔یہی پرفارمنس ان کے لیے قصہ پارینہ بننا کافی ہوتا اور ہمیں لگا جب پاکستان کرکٹ بورڈ نے انہیں اس کے بعد ون ڈے سکواڈ میں شامل نہیں کیا۔ اب جب کہ ورلڈ کپ 18 ماہ کی دوری پر ہے تو ایسے میں پاکستان کے سکواڈ سے ٹاپ سکورر محمد رضوان کو تو ڈراپ کیا جاتا ہے لیکن ایک بھی ون ڈے نہ کھیلنے والے شاداب خان کو سلیکٹ کر لیا جاتا ہے ۔سوال ہو سکتا ہے کہ ہو سکتا ہے کہ انہوں نے ڈومیسٹک کرکٹ،لسٹ اے کرکٹ میں کچھ اچھا کیا ہو۔ ہم نے جب یہ چھانا تو بڑی عجب حیرت ہوئی کہ انہوں نے لسٹ اے کرکٹ میں صرف 9 وکٹیں لیں۔45 کی اوسط تھی تو شاداب خان کی سلیکشن کس بنیاد پر ہے اور کیوں ہے ،اگر پی ایس ایل کی بنیاد پر ہے تو کیا ٹی ٹونٹی ورلڈ کپ ہونے والا ہے ۔سوال تو بنتا ہے اب اس کی کوئی بھی دلیل دی جائے ۔ناکافی ہو گی۔اس لیے کہ اگر شاداب خان نام ہی کافی ہے تو محمد رضوان ان سے بڑا نام ہے۔
اب آتے ہیں اس بات کی طرف کہ ینگ بلڈ ،نئی سلیکشن۔ تو آپ نے نئے نام سلیکٹ کر لیے تو سعد مسعود کا کیا قصور ہے ،جنہیں ایک میچ کھلا کر باہر بٹھا دیا گیا وہ بھی تو ینگ بلڈ تھا۔ انہوں نے38 رنزبنائے تھے۔کیا کم تھے یا ناکافی تھے؟اس کا بھی تو ڈومیسٹک کرکٹ کا ایک ریکارڈ تھا، جس کی وجہ سے وہ سلیکٹ ہوئے۔ ایک میچ کے بعد وہ کیسے ڈراپ ہو سکتے ہیں۔ ہر طرف تضاد ہے ۔اب یہ تو ہیں آسان سے الفاظ لیکن اگر ہم اس مضمون کے سیاق و سباق کو سامنے رکھ کر بات کریں تو شاداب خان کی سلیکشن ،سعد مسعود کا ڈراپ ہونا، رضوان کا نکالے جانا ۔یہ حماقت نہیں تو اور کیا ہے۔ یہ بے وقوفی نہیں تو اور کیا ہے۔ یہ من پسند فیصلے نہیں تو اور کیا ہے۔ اسے کیا کہیں ۔کتاب الحمقا کہیں۔ اسے احمقوں کی دنیا کہیں ۔جو بھی کہیں اور جتنا بھی کہیں اس سے تسلی نہیں ہوتی ہے۔
رضوان بطور کپتان
اکتوبر 2024 سے 20 اکتوبر 2025 تک کا سفر۔20 میچز میں کپتانی کی۔11 ہارے اور 9 جیتے۔جنوبی افریقا،آسٹریلیا اور زمبابوے میں ون ڈے سیریز جیتی ہیں لیکن ویسٹ انڈیز اور نیوزی لینڈ میں ہارے۔یہی نہیں پاکستان میں ٹرائی سیریز اور چیمپئزن ٹرافی ان کی کپتانی میں پاکستان ہارگیا۔محمد رضوان نے 41.66 کی اوسط سے625 رنزبنائے،سلمان علی آغا کے 4 رنز زیادہ ہیں لیکن ان کی اوسطکم ہوکر 39.31 بنتی ہے۔
خلاصہ
پاکستان پیس اٹیک دنیا کے 8 ممالک کے پیس اٹیک سے زیادہ برا اور مہنگا ہوگیا۔یہ اعدادوشمار اکتوبر 2023 سے اب تک کے ہیں۔اسپنرز کوالٹی کے نہیں ہیں۔بیٹرز کے حالات سامنے ہیں۔فاسٹ بائولرز کی نرسری کہلانے والا پاکستان ایسے ہی بانجھ ہوا جیسے کالی آندھی دیو قامت پیسرز کے جانے کے بعد چھٹ گئی۔ہمارے پاس کوئی میچ ونر نہیں۔ہم بائولنگ میں اپنی پہچان بھلا بیٹھے اور تاریخ کو دھول چٹوارہے ہیں۔بیٹنگ میں مذاق بنوارہے ہیں اور فیصلہ سازی میں احمق الحمقا بک کا ٹائٹل لے چکے ہیں۔ٹیسٹ کرکٹ میں 8 ویں نمبر پر ہیں۔ون ڈے کرکٹ میں ٹاپ 4 سے 5 میں ہوتے ہیں تو کپتان بدل دیتے ہیں۔ٹی 20 میں جہاں بھی ہوں،کوئی عقل والا ایکشن نہیں لیتے۔ایسا لگتا ہے کہ ہم سب حمقا ہیں۔ہم پر احمق الحمقا آگئے ہیں۔ہمیں بھی سب ٹھیک لگتا ہے۔ہمیں بھی وہی نظر آتا ہے جو وہ دکھاتے ہیں۔
