سلہٹ ۔کرک اگین رپورٹ مسلسل ناکامیاں،شان مسعود مستعفی یا ،پریس کانفرنس کا نچوڑ ۔کرکٹ بریکنگ نیوز ہے کہ
پاکستان ٹیسٹ ٹیم کے ناکام ترین بلکہ دنیائے کرکٹ کے ناکام ترین کپتان شان مسعود نے بنگلہ دیش کے خلاف مسلسل دوسری ٹیسٹ سیریز اور مسلسل چوتھے ٹیسٹ میں شکست کے بعد پریس کانفرنس میں عجیب و غریب باتیں کر دی ہیں اور انہوں نے سوال کرنے والوں کو الجھا کے رکھ دیا۔ واضح الفاظ میں انہوں نے استعفیٰ دینے سے انکار کیا اور ساتھ یہ بھی خواہش ظاہر کی کہ وہ پاکستان ٹیسٹ کرکٹ کے ساتھ کسی نہ کسی رول میں ہر حال میں جڑا رہنا چاہتے ہیں۔ شکست کی ذمہ داری تنہا قبول کرنے سے انکاری ہیں۔ پوری ٹیم کے اوپر وہ ڈالنے پہ تلے ہوئے ہیں اور تنقید کو وہ جذباتی اندازو جذباتی باتیں کہتے ہیں ۔ وہ کہتے ہیں کہ سوال کرنے والے بھی اور فینز بھی یہ جذباتی ہوتے ہیں۔ ہم جذباتی نہیں ہوتے ۔ہم اپنی ٹیم کی اور اپنی کارکردگی کو جذباتی انداز میں نہیں دیکھتے اور ہم یہ بھی نہیں دیکھتے کون سے کھلاڑی نے صفر کیا ۔کون سے کھلاڑی نے 100 کیا ہے ۔کون سے کھلاڑی نے پانچ وکٹیں لیں۔ کون سے کھلاڑی کو ایک وکٹ ملی۔ ہم تو یہ دیکھتے ہیں کہ ٹیم نے کیا کیا ۔ہاری یا جیتی۔ کیوں ہاری ۔کیوں جیتی۔ ہمارا فلسفہ یہی ہے۔
ایک سوال کے جواب میں شان مسعود نے کہا مجھ سے میرے مستقبل کے بارے میں مت پوچھو۔ صرف ٹیسٹ سیریز کی بات کرو۔ ایک اور سوال کے بعد میں شان مسعود نے جواب دیا کہ فیصلہ تو پاکستان کرکٹ بورڈ ہی کرتا ہے لیکن میری ہمیشہ سے کوشش رہی ہے کہ میں ٹیسٹ کرکٹ کو ٹائم دوں اور اسے بہتر کروں۔ چاہے کپتان رہوں نہ رہوں۔ کسی بھی رول میں میں اس کے ساتھ جڑا رہنا چاہتا ہوں، تاکہ ٹیسٹ کرکٹ بہتر ہو۔ باقی انہوں نے کہا کہ پاکستان کی پرفارمنس بری رہی ہے۔ ہمیں کچھ اچھی شراکتیں نہیں ملیں۔ بنگلہ دیش نے اچھی کرکٹ کھیلی۔ ٹیسٹ میچز کے لیے پچز اچھی تھیں۔ ہم اپنی کرکٹ کو بہتر کر رہے ہیں۔ ہم آگے دیکھ رہے ہیں ۔ہم پیچھے دیکھ رہے ہیں۔ ہم اوپر دیکھ رہے ہیں۔
ایک اور سوال کے جواب میں شان مسعود نے کہا کہ ہماری اننگز میں کوئی ایک سنچری ہونی چاہیے تھی۔ انہوں نے نام تو نہیں لیا لیکن مایوسی کا اظہار ضرور کیا ہے۔ انہوں نے ٹیم سلیکشن، اپنی کپتانی، پی سی بی کے فیصلے، سپورٹنگ سٹاف سب کا بڑے آرام کے ساتھ دفاع کر دیا ہے ۔انہوں نے یہ ماننے سے انکار کیا ہے کہ بحیثیت ٹیم یا بحیثیت کپتان بہت بڑی ناکامی ہے یا وہ ناکام ہیں۔
شان مسعود نے دراصل یہ کہنے کی کوشش کی ہے کہ کچھ عرصہ پہلے پاکستان کرکٹ بورڈ نے انہیں ڈائریکٹر انٹرنیشنل کرکٹ بنایا تھا۔ ٹیسٹ کرکٹ کے حوالے سے وہ اس قسم کا رول پسند کریں گے۔ اگر پاکستان کرکٹ بورڈ کپتانی سے ہٹائے مگر ان کا کپتانی سے ہٹنے کا فی الحال کوئی ارادہ نہیں ہے۔
کرک اگین کے مطابق پاکستان کرکٹ بورڈ شان مسعود کا دفاع اور ان کے لیے فیصلے کر کے اب بری طرح پھنس چکا ہے اور شدید دباؤ کا شکار ہے ۔انہیں کپتانی سے ہٹانا پڑے گا اور اس کا تقریبا فیصلہ کیا جا چکا ہے۔ اب اعلان ہونا باقی ہے۔ چونکہ پاکستان کی سیریز میں ابھی کچھ وقفہ باقی ہے اس لیے آسٹریلیا کے خلاف ون ڈے سیریز کے بعد اس مشن پر کام ہوگا۔
