عثمان طارق کا جمعہ سے نیا سفر،انگلینڈ میں بڑے خطرے سے آگاہ سپنر کاسخت جواب آگیا۔کرکٹ بریکنگ نیوز ہے کہ ان کے کریڈٹ پر کوئی بڑی کامیابی نہیں ہے۔ انٹرنیشنل کرکٹ میں حالیہ ٹی 20 ورلڈ کپ 2026 میں بھارت کے گروپ میں رہنے والی پاکستان کرکٹ ٹیم میں جب عثمان طارق شامل ہوئے تو دنیا بھر میں اپنے ایکشن کی وجہ سے وہ ڈسکس ہوئے اور ان کا خوف بھی حریف ملک پر طاری رہا ۔یہ الگ بات ہے کہ وہ اپنا وہ اثر نہ دکھا سکے جتنا وہ مشہور تھے ،لیکن اس کے باوجود ان کی مشہوری کم نہیں ہوئی۔
بات ہو رہی ہے عثمان طارق کی ۔وہ جمعہ 22 مئی سے انگلینڈ میں ٹی 20 بلاسٹ میں واروکشائر کے لیے اپنا پہلا میچ کھیل رہے ہیں جو گلوسٹر شائر میں کھیلا جائے گا۔
عثمان طارق کے لیے ایک خطرہ ہے۔ جس کا انہیں بتا دیا گیا ہے اور حیرت انگیز طور پر انہوں نے اس کا بھرپور جواب دیا ہے ۔نئے ملک انگلینڈ میں عثمان طارق کے لیے نئی جانچ پڑتال ہو سکتی ہے۔ عثمان طارق نے ٹی 20 بلاسٹ کے آغاز سے پہلے کہا کہ وہ اپنے ایکشن کے بارے میں کسی بھی ممکنہ سوال کا خیر مقدم کریں گے اور کسی بھی جانچ پڑتال یا ایکشن رپورٹ کو خوش دلی سے قبول کر کے سیدھا لیب میں جائیں گے۔دبئی میں ابتدائی کئی سال کار کمپنی کے ہرزہ جات فیکٹری میں گزارنے کے بعد انہوں نے انکشاف کیا کہ بھارت کے ایم ایس دھونے کی بائیو پک دیکھی تو اپنے کرکٹ خواب کو پورا کرنے کے لیے اپنے آپ کو تیار کیا۔
ایج باسٹن میں اپنے نئے گھر میں پہنچنے پر طارق کہتے ہیں۔ میں نے بہت سے ناگواری کا سامنا کیا ہے۔ میرے آس پاس کے لوگ مجھے کہتے تھے۔ عثمان ،برطانیہ میں مت جانا۔ وہاں آپ کو مشکل پیش آسکتی ہے، کیونکہ آپ کے لیے وہاں جا کر اپنے ایکشن کو درست کرنا بہت مشکل ہے۔ وہاں کے امپائرز بہت سخت ہیں۔ میں نے جواب میں کہا نہیں ۔میں اس کا سامنا کرنا چاہتا ہوں ۔اب دیکھتے ہیں کیا ہوتاہے ،اگر انہیں لگتا ہے کہ مجھے اپنے ایکشن سے کوئی مسئلہ ہے تو میں ٹیسٹنگ کے لیے لیب میں جانے کے لیے تیار ہوں ۔میں نے سری لنکا کے مرلی دھرن کی ایک فلم دیکھی تھی اور وہ بھی یہی کہتا تھا کہ میں مجھے چیک کر لو ۔میں غیر قانونی نہیں ہوں ۔عثمان طارق نے انکشاف کیا کہ میرا دو بار ٹیسٹ کیا گیا اور ایک ہفتے کے اندر کلیئر ہو گیا ۔
کیا ان کے بازو میں 2 کہنیاں ہیں۔یہ سوال اس لئے ہوتا ہے کہ ان کا ایکشن اس بات کی غمازی کرتا ہے کہ کچھ نہ کچھ تو ضرور ہے۔
عثمان طارق کے پاس 6 گیندوں میں چھ مختلف ڈلیوریاں ہیں۔ ایک ڈلیوری کو شیطانی کیرم کی گیند بھی کہا جاتا ہے ۔
کیرم کے نام سے انہوں نے بتایا کہ میں بچپن میں کیرم کی گیند سے بولنگ کرتا تھا۔ ہم کے پی کے میں ایک چھوٹے سے گھر میں رہتے تھے اور بازو گھمانے کے لیے وہاں جگہ نہیں تھی، ہم اس لیے گیند کو ادھر ادھر فلک کیا کرتے تھے ۔پھر میں نے ٹیپ بال کرکٹ میں بھی ایسا ہی کیا اور آہستہ آہستہ تمام ڈلیوریز سیکھ لیں۔
عثمان طارق نے 2024 میں پاکستان سپر لیگ کے لیے ڈیبیو کیا اور اس کے بعد انہیں فائدہ ہوا اور پاکستان کرکٹ ٹیم میں شامل کیا گیا. اب تک 9 ٹی 20 انٹرنیشنل میچز کھیل چکے ہیں۔اس کے باوجود ان کے راستے میں بولنگ ایکشن کے حوالے سے سرکاری طور پر جانچ کے دو راؤنڈ ہوئے اور وہ دونوں کلیئر کر گئے جو بلاشبہ ایک منفرد بات ہے۔
