ملتان کرکٹ سٹیڈیم سے حافظ محمد عمران عثمانی۔چیمپئنز کپ:،پاکستان گرینز نے بلیوز کو 192 رنز کی عبرت ناک شکست دے دی،ٹیبل اور آخری میچ کی اہمیت۔کرکٹ کی تازہ ترین خبر یہ ہے کہ چیمپئنز کپ،پاکستان گرینز کی بڑی جیت،آخری میچ 3 ٹیموں کیلئے امید بن گیا،ٹیبل اور نیٹ رن ریٹ حالات
نیشنل چیمپئنز کپ کے پانچویں میچ میں پاکستان گرینز نے اپنی فتوحات کا سلسلہ برقرار رکھتے ہوئے پاکستان بلیوز کو 192 رنز کے ایک بہت بڑے مارجن سے چت کر دیا ہے۔ پاکستان گرینز نے ٹاس جیت کر پہلے بیٹنگ کا فیصلہ کیا اور مقررہ اوورز میں 302 رنز کا ایک پہاڑ جیسا مجموعہ بورڈ پر سجا کر بلیوز کو فتح کے لیے 303 رنز کا ہدف دیا، لیکن بلیوز کی پوری بیٹنگ لائن اس بڑے ہدف کے دباؤ تلے دب کر بری طرح بکھر گئی۔
پاکستان گرینز کی اننگز کی سب سے خاص بات محمد سلیمان کی شاندار اور کلاسیکی سنچری تھی۔ اسٹار اوپنر فخر زمان کی جگہ ٹیم میں شامل ہونے والے محمد سلیمان نے موقع کا بھرپور فائدہ اٹھایا اور کمال کی ذمہ داری دکھاتے ہوئے محض 102 گیندوں پر اپنی سنچری مکمل کی، جس نے گرینز کے ایک بڑے اسکور کی مضبوط بنیاد رکھی۔ ان کا بھرپور ساتھ سعد نے دیا جنہوں نے 77 رنز کی انتہائی عمدہ اننگز کھیلی، جس میں 5 دلکش چوکے اور 3 فلک شگاف چھکے شامل تھے۔ اوپر کے نمبر پر صاحبزادہ فرحان نے بھی لاٹھی چارج کرتے ہوئے برق رفتار 51 رنز جڑے، ان کی اننگز میں 4 چوکے اور 2 چھکے شامل تھے۔ دیگر بلے بازوں میں عمیر یوسف نے 5 چوکوں کی مدد سے 33 اور سمیر منہاس نے 3 چوکوں کی بدولت 17 رنز بنائے، جبکہ کپتان شاداب خان اس بار بڑی اننگز نہ کھیل سکے اور صرف 7 رنز بنا کر پویلین لوٹ گئے۔ پاکستان بلیوز کی جانب سے تجربہ کار حسن علی نے 2 کھلاڑیوں کو آؤٹ کیا، جبکہ سفیان مقیم، عرفات منہاس، احمد دانیال اور فائق نے ایک ایک وکٹ حاصل کی۔
303 رنز کے اس پہاڑ جیسے ہدف کے تعاقب میں جب پاکستان بلیوز میدان میں اتری تو ان کا آغاز کسی بھی طرح اچھے کاؤنٹر اٹیک کا پتا نہیں دے رہا تھا اور پوری بیٹنگ لائن تاش کے پتوں کی طرح بیٹھ گئی۔ صاحبزادہ فرحان 19، محسن صداقت صرف ایک، محمد فائق 18 اور طیب طاہر 14 رنز بنا کر ایک کے بعد ایک آؤٹ ہوتے چلے گئے۔ مڈل آرڈر میں عرفات منہاس نے کچھ مزاحمت دکھانے کی کوشش کی اور 38 رنز کی اننگز کھیلی، جس میں 3 چوکے اور 2 چھکے شامل تھے، لیکن وہ بھی ٹیم کو اس تاریخی ہار سے نہ بچا سکے۔ فاسٹ باؤلر حسن علی بلے بازی میں بھی بالکل ناکام رہے اور صرف 2 رنز بنا سکے جس سے بلیوز کی مشکلات مزید گہری ہو گئیں۔
پاکستان گرینز کے بیٹسمینوں کے بعد باؤلرز نے بھی حریف ٹیم پر قہر ڈھایا۔ فاتح ٹیم کی جانب سے آل راؤنڈر فہیم اشرف نے کمال کی باؤلنگ کی اور صرف 3 اوورز کے اسپیل میں محض 14 رنز دے کر 3 اہم وکٹیں اپنے نام کیں۔ ان کا ساتھ دیتے ہوئے سلمان مرزا نے 23 رنز کے عوض 2 کھلاڑیوں کو پویلین کی راہ دکھائی، جبکہ تیز گیند باز محمد حسنین نے بھی شاندار لائن اور لینتھ کا مظاہرہ کرتے ہوئے 24 رنز دے کر 2 بلے بازوں کو ٹھکانے لگایا۔ باؤلرز کی اس نپی تلی کارکردگی کی بدولت پاکستان گرینز نے 302 رنز کا کامیابی سے دفاع کیا اور پاکستان بلیوز کو 192 رنز کے بھاری مارجن سے ہرا کر ٹورنامنٹ میں اپنی دھاک بٹھا دی۔
چیمپئنز کپ پوائنٹس ٹیبل: میچ کے بعد کی تازہ ترین صورتحال اور دلچسپ مساوات
جیسا کہ ہم نے گزشتہ روز بھی آپ کو خبر دی تھی کہ پاکستان گرینز کی فائنل کنفرمیشن ہو چکی ہے، اور آج اس نے ناقابلِ شکست رہتے ہوئے اپنے تمام تینوں میچز جیت کر 6 پوائنٹس کے ساتھ فائنل میں اپنی جگہ کو مزید یادگار اور پکا کر لیا ہے۔ تاہم، اب دوسری فائنلسٹ ٹیم کے لیے صورتحال انتہائی دلچسپ اور سنسنی خیز مرحلے میں داخل ہو گئی ہے۔
پوائنٹس ٹیبل کی موجودہ حالت یہ ہے کہ پاکستان وائٹس کے دو میچوں میں دو پوائنٹس ہیں، جبکہ آج کی عبرت ناک ہار کے بعد پاکستان بلیوز کے تمام تین میچز مکمل ہو چکے ہیں اور اس کے پاس بھی صرف دو ہی پوائنٹس ہیں۔ دوسری طرف پاکستان گولڈ کی ٹیم دو میچ کھیل کر اب تک کوئی پوائنٹ حاصل نہیں کر سکی اور صفر پر موجود ہے۔ اب ٹورنامنٹ کا آخری لیگ میچ پاکستان گولڈ اور پاکستان وائٹس کے درمیان کھیلا جانا ہے۔
ورلڈ کپ کی تیاری ایسی، ون ڈے کپتان شاہین اور ان کی ٹیم ایونٹ سے باہر
اس میچ کے بعد فائنل میں پہنچنے کا پہلا فارمولا تو بالکل سیدھا اور سادہ ہے کہ پاکستان وائٹس یہ میچ جیت جائے اور 4 پوائنٹس کے ساتھ سیدھی گرینز کے ساتھ فائنل کھیلنے کا ٹکٹ کٹا لے۔ لیکن فرض کر لیں، اگر اب تک کی ناکام ترین ٹیم پاکستان گولڈ یہ آخری میچ جیت جاتی ہے تو کیا ہوگا؟ ایسی صورت میں ظاہری پوائنٹس ٹیبل پر تینوں ٹیموں یعنی پاکستان وائٹس, پاکستان بلیوز اور پاکستان گولڈ کے دو دو پوائنٹس برابر ہو جائیں گے۔
نیٹ رن ریٹ کا گھمبیر گورکھ دھندا
اگر پوائنٹس برابر ہونے پر نیٹ رن ریٹ کی صورتحال دیکھی جائے تو پاکستان وائٹس جو اس وقت پوائنٹس ٹیبل پر دوسرے نمبر پر موجود ہے، اس کا نیٹ رن ریٹ معمولی سا منفی میں ہے۔ جبکہ آج 192 رنز کی بھاری شکست کے بعد پاکستان بلیوز کا نیٹ رن ریٹ گر کر مائنس 1.09 ہو چکا ہے، اور سب سے گندا نیٹ رن ریٹ پاکستان گولڈ کا مائنس 1.7 ہے۔
اس حساب سے پاکستان گولڈ کو فائنل میں جانے کے لیے نہ صرف جیتنا ہوگا بلکہ ایک ناقابلِ یقین حد تک بہت بڑی کامیابی حاصل کرنی ہوگی اور رن ریٹ کا ایک بڑا پہاڑ عبور کرنا پڑے گا۔ پاکستان وائٹس کو آگے بڑھنے کے لیے صرف ایک سادہ سی فتح چاہیے ہوگی، لیکن یاد رہے کہ اگر پاکستان وائٹس کو اس میچ میں بہت بڑی شکست ہو جاتی ہے، تو اس کا نقصان یہ ہوگا کہ پاکستان گولڈ تو شاید فائنل میں نہ پہنچ پائے، لیکن پاکستان بلیوز کے لیے فائنل کا راستہ ضرور صاف ہو جائے گا۔ یہی وجہ ہے کہ ٹورنامنٹ کی تینوں ٹیموں کے امکانات ابھی تک ریاضیاتی طور پر زندہ ہیں، جس نے چیمپئنز کپ کی اس دوڑ کو بے حد دلچسپ بنا دیا ہے
