عمران عثمانی پ کستان نے ویسٹ انڈیز کے خلاف بابراعظم کی قیادت میں عزت بچا لی ۔عزت بنانے کی بات ابھی دیر کی ہے۔اس نے ویسٹ انڈیز کے خلاف پورٹ اف سپن میں کھیلے گئے دوسرے کرکٹ ٹیسٹ کے چوتھے روز 8 وکٹوں کی جیت کے ساتھ نہ صرف پچھلی شکست کا بدلہ چکایا بلکہ دو میچز کی سیریز ڈرا کھیل دی۔ یہ پاکستان اور ویسٹ انڈیز کے درمیان ڈرا سیریز کھیلنے کی ہیٹ ٹرک ہو گئی ہے۔
آٹھ سال میں دونوں کے درمیان کھیلی گئی تین سیریز جن میں سے دو ویسٹ انڈیز اور ایک پاکستان میں تھیں۔ ڈرا ہوئی ہیں۔پاکستان نے ویسٹ انڈیز کے خلاف 2017 میں اور ویسٹ انڈیز نے پاکستان کے خلاف آخری بار 2000 میں کوئی ٹیسٹ سیریز جیتی ہے ۔پاکستان اس جیت کے ساتھ اپنی عزت کو بچانے میں کامیاب ہوا لیکن ورلڈ ٹیسٹ چیمپئن شپ میں اس کا 8واں نمبر ہے۔
کھیل کے چوتھے روز ویسٹ انڈیز کی کرکٹ ٹیم کی تباہی کا سلسلہ وہیں سے شروع ہوا جہاں کھیل کے تیسرے روز ختم ہوا تھا ۔پوری ٹیم 46.1 اوور میں 117 رنز بنا کر آؤٹ ہو گئی ۔پاکستان نے چونکہ پہلی اننگ میں 43 رنز کی سبقت لی تھی۔ پاکستان کو مجموعی طور پر 75 رنز کا ہدف ملا۔ پاکستان نے اس سے پاتے ہوئے بھی دو وکٹیں گنوادیں۔امام الحق 9 اور آذان اویس 18 رنز بنا کر آؤٹ ہوئے۔ پاکستان کی جانب سے ساجد خان اور علی عثمان نے چار چار وکٹیں حاصل کیں۔ساجد خان نے میچ میں 8 وکٹیں حاصل کیں۔بابر اور عبداللہ دوسری اننگ میں 24،24 رنزکے ساتھ ناٹ آئوٹ رہے۔
پاکستان اس سیریز کے آغاز میں نویں نمبر پر تھا ۔پہلا ٹیسٹ میچ ہارنے کے بعد ویسٹ انڈیز نے اپنی پوزیشن مستحکم کی لیکن اب دونوں ٹیمیں سیریز ڈرا کھیل کر مختلف مقاما پر ہیں۔پاکستان 8 ویں اور یسٹ انڈیز 9 ویں نمبر پر ہے۔
