ملتان ۔عمران عثمانی
پورٹ آف اسپین ٹیسٹ کے دوسرے دن ویسٹ انڈیز کی ٹیم 344 رنز بنا کر آل آؤٹ تو ہو گئی ہے، لیکن اب اصل سوال یہ ہے کہ حریف ٹیم آؤٹ ہوئی ہے یا پاکستان خود اس میچ سے باہر ہو چکا ہے؟ پہلے ٹیسٹ میں محمد عباس کھیل رہے تھے تو ویسٹ انڈیز 311 رنز پر ڈھیر ہو گیا تھا۔ اب عباس کو باہر بٹھا کر جو رگڑا ہمیں لگنا تھا، وہ لگ گیا اور ہم نے اپنی ہی غلطیوں سے ہوم ٹیم کو 344 رنز تحفے میں دے دیے۔
بولنگ سائیڈ پر ساجد خان نے 4 وکٹیں ضرور لیں، جبکہ محمد علی، علی عثمان اور نئے لڑکے عبید شاہ نے 2، 2 کھلاڑیوں کو آؤٹ کیا، لیکن تب تک ویسٹ انڈیز اپنا کام تمام کر چکا تھا۔ اب جو بلنڈر ہونا تھا وہ تو ہو گیا، اب سارا دارومدار بابر اعظم اینڈ کمپنی کی بیٹنگ پر ہے۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ ہمارے بلے باز اپنی بیٹنگ کے ذریعے مینجمنٹ کی اس فاش غلطی کو کور کر پاتے ہیں یا نہیں۔
ایک بات بالکل طے ہے کہ اس سست پچ پر جو بھی ٹیم پہلی اننگز میں برتری حاصل کرے گی، وہی اس میچ کی ونر ہوگی۔ چوتھی اننگز میں یہاں بیٹنگ کرنا ناممکن ہو جائے گا، اس لیے پاکستان کو ہر حال میں ویسٹ انڈیز کے اسکور سے آگے نکلنا ہوگا۔ لیکن اگر ایمانداری سے بات کی جائے، تو موجودہ کنڈیشنز کو دیکھتے ہوئے ویسٹ انڈیز کی ٹیم پہلی اننگز کی برتری کے لیے فیورٹ نظر آ رہی ہے۔ اب اگر ہماری بیٹنگ لائن نے بھی مصلحت پسندی دکھائی، تو سیریز بچانے کا یہ آخری موقع بھی ہاتھ سے نکل جائے گا۔
