ملتان کرکٹ اسٹیڈیم سے حافظ محمد عمران عثمانی
ہے کہ ملتان کی شدید گرمی میں چیمپئنز کپ کا آغاز، پاکستان وائٹس کا گرینز کو 277 رنز کا ہدف، اوورز میں تاخیر نے سوالات اٹھا دیئے ۔کرکٹ بریکنگ نیوز
آئی سی سی ون ڈے ورلڈ کپ 2027 کی تیاریوں کے سلسلے میں نئے ڈومیسٹک ایونٹ نیشنل چیمپئنز کپ کا ملتان کرکٹ اسٹیڈیم میں باقاعدہ آغاز ہو گیا ہے۔ ٹورنامنٹ کے پہلے میچ میں پاکستان وائٹس کے کپتان نے پاکستان گرینز کے خلاف ٹاس جیت کر پہلے خود بیٹنگ کرنے کا فیصلہ کیا۔ ملتان کرکٹ اسٹیڈیم کی پچ بیٹنگ کے لیے بہت زیادہ سازگار دکھائی نہیں دے رہی تھی، لیکن اس کے ساتھ ہی اس میں اسپنرز کے لیے بھی کوئی خاص مدد موجود نہ تھی، جس کی وجہ سے بیٹرز کو رنز بنانے کے لیے سخت محنت کرنا پڑی۔پیسرز کے لیے بہرحال بہت کچھ تھا۔
اس پچ پر میچ کے آغاز سے ہی کھلاڑیوں کو ملتان کے شدید گرم اور حبس زدہ موسم کا سامنا کرنا پڑا، جس نے ان کی فٹنس اور سٹیمنا کا کڑا امتحان لیا۔ طویل عرصے بعد 50 اوورز کے فارمیٹ میں واپسی اور ٹی ٹوئنٹی کے مزاج کے عادی کھلاڑیوں کے لیے اس حبس میں فیلڈنگ اور بولنگ کرنا ایک بڑا چیلنج ثابت ہوا۔ گرمی کا عالم یہ تھا کہ میچ مقررہ وقت پر شروع ہونے کے باوجود بولرز وقت کو مینیج نہ کر سکے اور ائی سی سی کے ضوابط کے مطابق ساڑھے تین گھنٹے میں ختم ہونے والی پہلی اننگز 40 منٹ کی طویل تاخیر کے ساتھ شام سات بج کر دس منٹ پر مکمل ہوئی۔ یہ سلو اوور ریٹ مستقبل میں پاکستان کرکٹ ٹیم کے لیے ایک بڑا خطرہ بن سکتا ہے کیونکہ انٹرنیشنل میچز میں اس پر بھاری جرمانے اور ٹیسٹ کرکٹ میں پوائنٹس کی کٹوتی ہوتی ہے۔ ایک موقع پر جب 36 اوورز مکمل ہوئے تو فیلڈ کرنے والی پوری ٹیم گراؤنڈ میں یوں بیٹھ گئی جیسے ایتھلیٹکس کی لمبی ریس سے لوٹ کر آئی ہو۔
پاکستان وائٹس کا آغاز کچھ خاص نہ رہا۔ کپتان صائم ایوب کریز پر زیادہ دیر نہ ٹک سکے اور 18 گیندوں پر 14 رنز بنا کر فرحان یوسف کا شکار بنے۔ دوسرے اوپنر کا ساتھ دینے آنے والے محمد ریاض بھی بدقسمت رہے اور محض 3 گیندوں کا سامنا کر کے 1 رن بنا کر آؤٹ ہو گئے۔ صرف دو وکٹیں جلدی گرنے کے بعد عثمان خان کریز پر آئے اور انہوں نے اوپنر شاہزیب خان کے ساتھ مل کر اننگز کو سنبھالا۔ دونوں بیٹرز نے تیسری وکٹ کے لیے 78 رنز کی انتہائی ذمہ دارانہ شراکت داری قائم کی اور ٹیم کا مجموعی اسکور 118 رنز تک پہنچایا۔ اس موقع پر عثمان خان 52 گیندوں پر ایک چھکے کی مدد سے 34 رنز بنا کر آؤٹ ہو گئے۔
عثمان خان کے جانے کے بعد حسن نواز نے شاہزیب خان کا بھرپور ساتھ دیا۔ دونوں نے مل کر اسکور بورڈ کو آگے بڑھایا اور 31 اوورز میں مجموعی اسکور 164 رنز تک پہنچا دیا۔ اس موقع پر شاہزیب خان، جو کہ انتہائی شاندار بیٹنگ کر رہے تھے، 88 گیندوں پر 7 چوکوں کی مدد سے 76 رنز کی انفرادی باری کھیل کر نسیم شاہ کی ایک بہترین گیند پر کلین بولڈ ہو گئے۔ شاہزیب کے آؤٹ ہونے کے بعد حسن نواز نے اپنی عمدہ فارم برقرار رکھی اور خوشدل شاہ کے ساتھ مل کر پانچویں وکٹ کے لیے 76 رنز کی ایک اور اہم شراکت قائم کی۔ حسن نواز 61 گیندوں پر دو چھکوں کی مدد سے 56 رنز کی شاندار اننگز کھیل کر آؤٹ ہوئے تو پاکستان وائٹس کا اسکور 4 وکٹوں کے نقصان پر 241 رنز تک پہنچ چکا تھا۔ اننگز کے آخری لمحات میں خوشدل شاہ نے جارحانہ انداز اپنایا اور 3 چھکوں اور 2 چوکوں کی مدد سے 51 رنز کی برق رفتار اننگز کھیلی۔
ایک موقع پر ایسا لگ رہا تھا کہ پاکستان وائٹس کی ٹیم بڑے آرام سے 300 رنز کا ہندسہ عبور کر جائے گی، لیکن پاکستان گرینز کے بولرز نے شاندار کم بیک کیا۔ پاکستان گرینز کے کپتان نے مجموعی طور پر 7 بولرز کا استعمال کیا، تاہم شدید موسم کے باعث وہ اپنے کسی بھی بولر سے 10 اوورز کا کوٹہ مکمل نہ کروا سکے۔ پاکستان کے صف اول کے فاسٹ بولر نسیم شاہ نے شاندار بولنگ کا مظاہرہ کرتے ہوئے 9 اوورز میں 46 رنز دے کر 3 اہم وکٹیں حاصل کیں۔ فہیم اشرف بھی اپنے روایتی مزاج کے مطابق انتہائی متاثر کن رہے، انہوں نے 7 اوورز میں 35 رنز کے عوض 2 کھلاڑیوں کو آؤٹ کیا۔ مہران ممتاز نے 9 اوورز میں 61 رنز دے کر 1 وکٹ لی، جبکہ زمان مرزا نے 6 اوورز میں 31 رنز کے عوض 1 وکٹ حاصل کی۔ پارٹ ٹائم بولر فخر زمان سے بھی 4 اوورز کروائے گئے جنہوں نے صرف 11 رنز دیے لیکن انہیں دوبارہ بولنگ پر نہیں لایا گیا۔ دوسری طرف کپتان شاداب خان مہنگے ثابت ہوئے، انہوں نے 8 اوورز میں 55 رنز دیے اور کوئی وکٹ حاصل نہ کر سکے۔
چیمپینز کپ،ٹرافی،انعام اور لائیو سٹریمنگ کی تفصیلات
پاکستان گرینز کی اس نپی تلی بولنگ کی بدولت پاکستان وائٹس کی ٹیم مقررہ 50 اوورز میں 8 وکٹوں کے نقصان پر 276 رنز بنا سکی۔ پاکستان گرینز کو یہ میچ جیتنے کے لیے 277 رنز کا ہدف ملا ہے۔ اسٹیڈیم کی فلڈ لائٹس بہت پہلے سے آن کر دی گئی ہیں اور اب میچ کی دوسری اننگز مصنوعی روشنی میں کھیلی جائے گی، جہاں پاکستان گرینز کے بیٹرز کو اس ہدف کا تعاقب کرنا ہوگا۔
