عمران عثمانی
ورلڈکپ کی 10 ٹیمیں کنفرم،سابق چیمپئن ویسٹ انڈیز باہر،ہیٹ ٹرک۔کرکٹ بریکنگ نیوز،تازہ ترین کرکٹ مضامین میں سے ایک یہ ہے
ویسٹ انڈیز کرکٹ ٹیم نے ایک ایسی ہیٹ ٹرک مکمل کر لی ہے جس پر ان کے مداح خوشی کے بجائے صرف افسوس ہی کر سکتے ہیں۔ یہ ہیٹ ٹرک ہے آئی سی سی ون ڈے ورلڈ کپ 2027 کے کوالیفائر راؤنڈ میں کھیلنے کی۔ دنیائے کرکٹ پر طویل عرصے تک راج کرنے والی یہ ٹیم ایک بار پھر میگا ایونٹ کے لیے براہ راست کوالیفائی کرنے میں ناکام رہی، جو کہ کیریبین کرکٹ کے مسلسل زوال کی ایک اور واضح کہانی بیان کرتا ہے۔ سال 2019 کے بعد سے یہ مسلسل تیسرا موقع ہے جب ویسٹ انڈیز کو مین راؤنڈ میں جگہ بنانے کے لیے کوالیفائر کے مشکل اور اعصاب شکن مرحلے سے گزرنا پڑ رہا ہے۔ تاریخ گواہ ہے کہ ماضی کی یہ عظیم ٹیم گزشتہ بار، یعنی 2023 کے ورلڈ کپ کوالیفائر میں بدترین شکست کا سامنا کرنے کے بعد تاریخ میں پہلی بار ون ڈے ورلڈ کپ کی دوڑ سے ہی باہر ہو گئی تھی۔ اس شرمناک شکست کا زخم ابھی تازہ تھا کہ اب 2027 کے ورلڈ کپ کے لیے بھی وہی پرانا خطرہ ان کے سر پر منڈلانے لگا ہے۔ یہ انتہائی افسوسناک صورتحال اس ٹیم کے ساتھ پیش آ رہی ہے جو دو بار کی عالمی چیمپئن رہ چکی ہے۔ دنیائے کرکٹ کو کلائیو لائیڈ اور ویوین رچرڈز جیسے لیجنڈز دینے والا ویسٹ انڈیز، جو کبھی حریف ٹیموں کے لیے خوف کی علامت ہوا کرتا تھا، آج عالمی کرکٹ میں اپنی ساکھ بچانے کی جنگ لڑ رہا ہے۔
موجودہ آئی سی سی ون ڈے رینکنگ پر نظر ڈالیں تو ویسٹ انڈیز اس وقت دسویں نمبر پر دکھائی دیتی ہے۔ المیہ یہ ہے کہ آئی سی سی کی طرف سے عالمی کپ 2027 میں براہ راست انٹری کے لیے ستمبر 2026 کی تاریخ مقرر کی گئی ہے، جس کے آنے میں اب محض چند ہفتے ہی باقی رہ گئے ہیں۔ کیریبین ٹیم کو اس کٹ آف تاریخ سے قبل صرف دو ون ڈے میچز کھیلنے ہیں، لیکن رینکنگ پوائنٹس کی ریاضی اتنی بے رحم ہے کہ اگر وہ یہ میچز جیت بھی جائیں، تب بھی انہیں براہ راست کوالیفائی کرنے کا کوئی فائدہ نہیں ملنے والا۔ وہ ٹاپ رینکنگ میں جگہ بنانے کی پوزیشن سے بہت دور ہو چکے ہیں۔ ویسٹ انڈیز کے لیے یہ حقیقت ایک گہرے جھٹکے کی طرح تب سامنے آئی جب افغانستان نے آئرلینڈ کے خلاف شاندار فتح سمیٹ کر ورلڈ کپ 2027 کے لیے اپنی براہ راست انٹری پکی کر لی۔ افغانستان کی اس کامیابی نے کیریبین ٹیم کے لیے براہ راست کوالیفائی کرنے کے تمام راستے بند کر دیے۔ اب میگا ایونٹ کا نقشہ ستمبر کی ڈیڈ لائن سے پہلے ہی واضح ہو چکا ہے، جہاں دفاعی چیمپئن آسٹریلیا، بھارت، نیوزی لینڈ، پاکستان، سری لنکا، انگلینڈ، بنگلہ دیش، اور جنوبی افریقہ کے ساتھ ساتھ افغانستان اور زمبابوے (جو بطور میزبان شامل ہیں) سمیت 10 ٹیمیں پہلے ہی اپنی جگہ محفوظ کر چکی ہیں۔ ان ناموں کے فائنل ہوتے ہی ویسٹ انڈیز کا سفر باقاعدہ طور پر ایک بار پھر کوالیفائر کے کٹھن راستے کی طرف موڑ دیا گیا ہے۔
راشد خان کی دھمال،افغانستان ورلڈ کپ 2027 میں براہِ راست پہنچ گیا،کون خطرے میں
کیریبین کرکٹ کے لیے نقصان کا یہ سلسلہ صرف ورلڈ کپ تک محدود نہیں رہا۔ 2023 کے ورلڈ کپ سے باہر ہونے کا خمیازہ ویسٹ انڈیز کو اس طرح بھی بھگتنا پڑا کہ وہ آئی سی سی چیمپئنز ٹرافی 2025 کی دوڑ سے بھی باہر ہو گئے، جو ان کے کرکٹ بورڈ اور کھلاڑیوں کے لیے ایک بہت بڑا مالی اور نفسیاتی دھچکا تھا۔ گزشتہ ورلڈ کپ کوالیفائر ایونٹ میں ویسٹ انڈیز کی کارکردگی اس حد تک مایوس کن تھی کہ وہ پوائنٹس ٹیبل پر پانچویں نمبر پر آئے۔ اب تاریخ ایک بار پھر خود کو دہرا رہی ہے اور انہیں دوبارہ کوالیفائر کے اسی کٹھن دائرے میں دھکیل دیا گیا ہے، جس کے میزبان ملک کا فیصلہ ہونا ابھی باقی ہے۔ اگر ورلڈ کپ 2027 کے فارمیٹ پر نظر ڈالیں تو یہ گزشتہ ٹورنامنٹس سے کافی مختلف اور پیچیدہ ہے۔ کوالیفائر ایونٹ کی جو ٹیم چیمپئن بنے گی، وہ تو براہ راست آئی سی سی ورلڈ کپ کے مین راؤنڈ میں پہنچ جائے گی۔ لیکن کہانی یہاں ختم نہیں ہوتی؛ اس کے بعد اگلی تین پوزیشنز پر آنے والی ٹیمیں ورلڈ کپ کے پہلے مرحلے یعنی ‘سپر سیریز’ کے لیے کوالیفائی کریں گی۔ اس سپر سیریز میں شامل ٹیموں کے درمیان کڑا مقابلہ ہوگا اور وہاں جو ٹیم ٹاپ پوزیشن حاصل کرے گی، اسے ورلڈ کپ کا ٹکٹ ملے گا۔ اس طویل فلٹریشن کے بعد، مین ٹورنامنٹ میں 12 ٹیموں کے دو گروپس بنائے جائیں گے، جس کے بعد ‘سپر سیون’ کا مرحلہ آئے گا اور پھر فائنل کا معرکہ سجے گا۔ ویسٹ انڈیز کے لیے یہ راستہ جتنا طویل ہے، اتنا ہی کٹھن بھی ہے، اور اگر اب بھی ٹیم نے اپنی غلطیوں سے سبق نہ سیکھا تو ایک اور ورلڈ کپ سے محرومی کا بڑا دھچکا انہیں لگ سکتا ہے۔
