ڈارون ۔کرک اگین رپورٹ
بنگلہ دیشی کرکٹ ٹیم نے آسٹریلیا کو اسی کی ہوم گراؤنڈ پر پچھاڑ کر دنیائے کرکٹ کو حیران کر دیا ہے۔ اس تاریخی کامیابی کے بعد جہاں بنگلہ دیشی کیمپ میں جشن کا ماحول ہے، وہی آسٹریلوی کرکٹ حلقوں میں اس غیر متوقع ہار پر گہری تشویش پائی جا رہی ہے۔
یہ پہلا موقع ہے جب بنگلہ دیش نے آسٹریلیا کی سرزمیں پر کوئی ٹیسٹ میچ اپنے نام کیا ہو۔ ڈارون میں کھیلی جا رہی دو میچوں کی سیریز کے پہلے ہی ٹیسٹ میں مہمان ٹیم نے آسٹریلیا کو 9 وکٹوں کی عبرت ناک شکست سے دوچار کر دیا۔ بنگلہ دیش کو میچ جیتنے کے لیے محض 57 رنز کا معمولی ہدف ملا تھا، جسے انہوں نے چوتھے روز چائے کے وقفے سے قبل ہی صرف ایک وکٹ کے نقصان پر آسانی سے حاصل کر لیا۔ آسٹریلوی ٹیم نے اگرچہ میچ کو اننگز کی ہار سے تو بچا لیا، لیکن وہ اس بڑی ہزیمت کو ٹالنے میں ناکام رہی۔
کھیل کے چوتھے روز آسٹریلیا کی جانب سے کیمرون گرین نے شاندار مزاحمت کا مظاہرہ کرتے ہوئے 104 رنز کی سنچری اسکور کی اور اپنی ٹیم کا مجموعی اسکور 284 رنز تک پہنچایا۔ تاہم، بنگلہ دیشی اسپنر مہدی حسن کی جادوئی بولنگ کے سامنے آسٹریلیا کا لوئر آرڈر ریت کی دیوار ثابت ہوا۔ مہدی حسن نے
بنگلہ دیشی کرکٹ ٹیم نے آسٹریلیا کو اسی کی ہوم گراؤنڈ پر پچھاڑ کر دنیائے کرکٹ کو حیران کر دیا ہے۔ اس تاریخی کامیابی کے بعد جہاں بنگلہ دیشی کیمپ میں جشن کا ماحول ہے، وہی آسٹریلوی کرکٹ حلقوں میں اس غیر متوقع ہار پر گہری تشویش پائی جا رہی ہے۔ یہ پہلا موقع ہے جب بنگلہ دیش نے آسٹریلیا کی سرزمیں پر کوئی ٹیسٹ میچ اپنے نام کیا ہو۔ ڈارون میں کھیلی جا رہی دو میچوں کی سیریز کے پہلے ہی ٹیسٹ میں مہمان ٹیم نے آسٹریلیا کو 9 وکٹوں کی عبرت ناک شکست سے دوچار کر دیا۔ بنگلہ دیش کو میچ جیتنے کے لیے محض 57 رنز کا معمولی ہدف ملا تھا، جسے انہوں نے چوتھے روز چائے کے وقفے سے قبل ہی صرف ایک وکٹ کے نقصان پر آسانی سے حاصل کر لیا۔ آسٹریلوی ٹیم نے اگرچہ میچ کو اننگز کی ہار سے تو بچا لیا، لیکن وہ اس بڑی ہزیمت کو ٹالنے میں ناکام رہی۔
کھیل کے چوتھے روز آسٹریلیا کی جانب سے کیمرون گرین نے شاندار مزاحمت کا مظاہرہ کرتے ہوئے 104 رنز کی سنچری اسکور کی اور اپنی ٹیم کا مجموعی اسکور 284 رنز تک پہنچایا۔ تاہم، بنگلہ دیشی اسپنر مہدی حسن معراج کی جادوئی بولنگ کے سامنے آسٹریلیا کا لوئر آرڈر ریت کی دیوار ثابت ہوا۔ مہدی حسن نے چابکدستی سے بولنگ کرتے ہوئے 56 رنز کے عوض 5 اہم وکٹیں حاصل کیں اور آسٹریلیا کی دوسری اننگز کی کمر توڑ دی۔ پہلی اننگز کے بھاری خسارے کے باعث آسٹریلوی ٹیم بنگلہ دیش پر صرف 56 رنز کی معمولی برتری ہی حاصل کر سکی، جسے بنگلہ دیش نے چوتھے دن کے آخری سیشنز میں پراعتماد بیٹنگ کی بدولت ایک وکٹ کھو کر باآسانی پورا کر لیا۔
آسٹریلیا کی پہلی اننگز کی ناکامی اور بنگلہ دیش کا کرتب
میچ کا جائزہ لیا جائے تو آسٹریلیا کی تباہی کا آغاز پہلی اننگز سے ہی ہو گیا تھا جب میزبان ٹیم صرف 198 رنز پر ڈھیر ہو گئی۔ آسٹریلیا کی جانب سے اسٹار بیٹر اسٹیو اسمتھ نے 71 رنز کی مزاحمتی اننگز کھیلی، لیکن ان کے علاوہ کوئی اور کھلاڑی بنگلہ دیشی بولرز کا سامنا نہ کر سکا۔ جواب میں بنگلہ دیشی بیٹرز نے پچ کا بھرپور فائدہ اٹھایا اور پہلی اننگز میں 426 رنز کا پہاڑ جیسا اسکور کھڑا کر دیا۔ بنگلہ دیش کی پوزیشن مستحکم کرنے میں نوجوان اوپنر تنزید حسن نے شاندار بیٹنگ کرتے ہوئے اپنے کیریئر کی پہلی یادگار سنچری اسکور کی۔ آسٹریلوی پیسر جوش ہیزل ووڈ نے اگرچہ بہترین لائن اور لینتھ کے ساتھ بولنگ کرتے ہوئے 6 وکٹیں حاصل کیں، لیکن ان کی یہ انفرادی کارکردگی آسٹریلیا کو بھاری خسارے سے نہ بچا سکی۔ آسٹریلوی ٹیم پہلی اننگز کے اس دباؤ تلے ایسا دبی کہ دوسری اننگز میں بھی سنبھل نہ پائی اور پوری ٹیم 284 رنز بنا کر پویلین لوٹ گئی۔
بنگلہ دیش کو ٹیسٹ اسٹیٹس حاصل کیے ہوئے تقریباً 26 سال کا عرصہ بیت چکا ہے، اور بلاشبہ یہ ان کی ٹیسٹ تاریخ کی سب سے یادگار اور بڑی کامیابی کہی جا سکتی ہے۔ آسٹریلیا کی سرزمین پر یہ بنگلہ دیش کی 23 سال بعد کوئی پہلی ٹیسٹ سیریز ہے۔ اس سے قبل انہوں نے سال 2003 میں آسٹریلیا کا دورہ کیا تھا جہاں انہیں دو میچوں کی سیریز میں 0-2 سے یکطرفہ شکست کا سامنا کرنا پڑا تھا۔ مگر آج کا بنگلہ دیش ماضی سے یکسر مختلف اور کہیں زیادہ پراعتماد دکھائی دیتا ہے۔ ٹائیگرز کی اس بے مثال کارکردگی کی اہمیت کا اندازہ اس بات سے بھی لگایا جا سکتا ہے کہ آئی سی سی نے میچ ختم ہوتے ہی فوری طور پر ورلڈ ٹیسٹ چیمپئن شپ (ڈبلیو ٹی سی) کا پوائنٹس ٹیبل اور رینکنگ اپڈیٹ کر دی ہے، جس میں بنگلہ دیش نے اس یادگار جیت کی بدولت بڑی چھلانگ لگائی ہے۔
آئی سی سی پوائنٹس ٹیبل میں کھلبلی: بنگلہ دیش کی چوتھے نمبر پر چھلانگ
ڈارون ٹیسٹ میں آسٹریلیا کے خلاف تاریخی کامیابی نے بنگلہ دیش کو بلندیوں پر ہنچا دیا ہے، جس کا واضح اثر آئی سی سی کی تازہ ترین رینکنگ میں بھی دیکھنے کو مل رہا ہے۔ یہ کرکٹ کی تاریخ کا ایک ایسا نایاب اور بڑا الٹ پھیر ہے جہاں آئی سی سی ٹیسٹ رینکنگ کی نویں نمبر کی ٹیم (بنگلہ دیش) نے ورلڈ ٹیسٹ چیمپئن شپ کی نمبر ون پوزیشن پر براجمان مضبوط آسٹریلوی ٹیم کو چٹانی عزم کے ساتھ چت کر دیا۔ بنگلہ دیش کی اس شاندار جیت نے ناصرف کرکٹ پنڈتوں کو حیران کیا ۔
ڈارون ٹیسٹ،ٹائیگرز کا کینگروز کے گرد گھیرا تنگ
آئی سی سی کی نئی اپڈیٹ کے مطابق، آسٹریلیا کی ٹیم اس کراری ہار کے باوجود 77.78 فیصد پوائنٹس کی شرح کے ساتھ تاحال پہلے نمبر پر موجود ہے۔ تاہم، اب دیگر ٹیموں کے لیے ٹاپ پوزیشن حاصل کرنے کی راہ ہموار ہو گئی ہے۔ اس وقت جنوبی افریقہ 75 فیصد پوائنٹس کے ساتھ دوسرے اور نیوزی لینڈ 72.22 فیصد شرح کے ساتھ تیسرے نمبر پر براجمان ہے۔ آسٹریلیا کو دھول چٹانے کے بعد بنگلہ دیش 66.66 فیصد پوائنٹس کی شاندار شرح کے ساتھ چوتھے نمبر پر آ گیا ہے، جس سے اس کی فائنل میں پہنچنے کی امیدیں روشن ہو گئی ہیں۔ دوسری جانب روایتی حریف بھارت 48.15 فیصد کے ساتھ پانچویں نمبر پر کھسک گیا ہے، جس کے بعد بالترتیب سری لنکا اور انگلینڈ کا نمبر آتا ہے۔ پوائنٹس ٹیبل پر پاکستان آٹھویں جبکہ ویسٹ انڈیز نویں پوزیشن پر موجود ہے۔
