ملتان انٹرنیشنل کرکٹ اسٹیڈیم سے حافظ محمد عمران عثمانی
شاہین کی گولڈن بائولنگ،ہیٹ ٹرک،7 وکٹیں،نیشنل چیمپئنز کپ پاکستان گولڈ نے جیت لیا۔کرکٹ بریکنگ نیوز یہ ہے کہ
ںشاہین شاہ آفریدی کی ہیٹ ٹرک۔گولڈن فتح۔ آئی سی سی چیمپینز ٹرافی کی تیاری کے لیے کھیلے گئے نیشنل چیمپئنز کپ فائنل میں شاہین شاہ آفریدی کی تباہ کن بولنگ کی بدولت پاکستان گولڈ نے پاکستان گرینز کو 101 سے رنز سے ہرادیا۔ٹرافی آچکا لی۔شاہین نے آخری تمام 7 وکٹیں اپنے نام کیں۔
ملتان کے انٹرنیشنل کرکٹ اسٹیڈیم میں کھیلے گئے چیمپئنز کپ فائنل کے دوران یہ سب ہوا، آئی سی سی ورلڈ کپ 2027 کی تیاریوں کا یہ حصہ تھا۔ شاہین شاہ آفریدی کی ٹیم پاکستان گولڈ نے ٹورنامنٹ کی ٹاپ اور ناقابل شکست رہنے والی ٹیم ‘پاکستان گرینز’ کو 101 رنز سے شکست دے کر ایک حیران کن اور یادگار جیت اپنے نام کر لی۔ پاکستان گولڈ کی فائنل تک رسائی بہت کٹھن تھی، کیونکہ یہ ٹیم گروپ مرحلے کا صرف آخری میچ جیتنے کے بعد بہترین رن ریٹ کی وجہ سے فائنل میں پہنچی تھی اور اس کے پاس محض دو پوائنٹس تھے۔
ملتان کرکٹ اسٹیڈیم میں کھیلے گئے فائنل میچ میں شاہین شاہ آفریدی نے شاندار کارکردگی دکھاتے ہوئے اپنے لسٹ اے اور ون ڈے کرکٹ کیریئر کی بہترین بولنگ کی اور پہلی ہیٹرک بھی مکمل کر لی۔ اس یادگار بولنگ کی بدولت ان کی ٹیم پاکستان گولڈ نے چیمپئنز کپ اپنے نام کر لیا، جو کہ آئی سی سی ورلڈ کپ 2027 کی تیاریوں کا حصہ تھا۔شاہین شاہ آفریدی کی اس سے قبل ون ڈے انٹرنیشنل کرکٹ میں بہترین بولنگ 2019 کے ورلڈ کپ میں بنگلہ دیش کے خلاف تھی، جہاں انہوں نے 35 رنز کے عوض 6 وکٹیں حاصل کی تھیں۔ یاد رہے کہ اس میچ سے پہلے شاہین شاہ آفریدی نے لسٹ اے یا انٹرنیشنل ون ڈے کرکٹ میں کبھی کوئی ہیٹرک نہیں کی تھی اور یہ ان کے کیریئر کا پہلا کارنامہ ہے۔
ملتان انٹرنیشنل کرکٹ اسٹیڈیم میں کھیلے گئے اس فائنل ٹاس کو پاکستان گولڈ نے جیتا اور پہلے بیٹنگ کرنے کا فیصلہ کیا۔ بلے بازوں نے اس فیصلے کو درست ثابت کیا اور ٹیم مقررہ 50 اوورز میں 340 رنز کا پہاڑ جیسا اسکور بنانے میں کامیاب ہو گئی۔ پاکستان گولڈ کی اس اننگز کی سب سے خاص بات دو بلے بازوں، شامل حسین اور سعد خان کی شاندار سنچریاں تھیں۔ اوپنر محمد اخلاق 31 رنز بنا کر آؤٹ ہوئے، لیکن شامل حسین نے حریف بولرز کا ڈٹ کر مقابلہ کیا اور 93 گیندوں پر 111 رنز کی اننگز کھیلی، جس میں چار چھکے اور گیارہ چوکے شامل تھے۔ کامران غلام صرف 10 رنز ہی بنا سکے، لیکن ان کے بعد آنے والے سعد خان نے چھوٹی شراکت داریوں کی مدد سے 112 گیندوں پر 102 رنز کی ناقابل شکست اننگز کھیلی۔ ان کے علاوہ عبدالصمد نے 25 اور مبشر خان نے 21 رنز کا حصہ ڈالا۔ پاکستان گرینز کی طرف سے نسیم شاہ نے 59 رنز دے کر دو وکٹیں لیں، فہیم اشرف نے 40 رنز کے عوض دو کھلاڑیوں کو آؤٹ کیا، جبکہ کپتان شاداب خان نے 45 رنز دے کر دو وکٹیں حاصل کیں۔341 رنز کے بڑے ہدف کے تعاقب میں پاکستان گرینز کی ٹیم اتری، جو کہ فخر زمان پر بہت زیادہ انحصار کر رہی تھی۔ فخر زمان کچھ دیر سیٹ ضرور ہوئے لیکن 31 رنز بنا کر آؤٹ ہو گئے۔ دوسرے اوپنر عمر یوسف نے 44 رنز کیے اور ون ڈاؤن پوزیشن پر آنے والے سعد بیگ نے 67 رنز بنائے۔ دونوں کھلاڑیوں نے دوسری وکٹ کے لیے 90 رنز کی شراکت قائم کی اور جب 20 اوورز اور چار گیندوں پر اسکور 143 رنز تک پہنچا تو گرینز کی صورتحال بہت بہتر لگ رہی تھی۔ یہاں میچ کا سب سے اہم موڑ عمر یوسف کی وکٹ تھی، جو 44 رنز بنا کر رضا اللہ کی گیند پر بولڈ ہو گئے۔ اس کے فوری بعد 67 رنز بنانے والے سعد بیگ کو فیصل اکرم نے ایل بی ڈبلیو آؤٹ کر دیا..
یہاں سے میچ نے نیا رخ اختیار کیا اور کپتان شاہین شاہ آفریدی کا کھیل شروع ہوا، جنہوں نے مڈل آرڈر کو تہس نہس کر دیا۔ شاہین نے تین اہم وکٹیں حاصل کیں جن میں محمد سلیمان (2 رنز)، فرحان یوسف (10 رنز) اور کپتان شاداب خان (6 رنز) شامل تھے۔ اس تباہ کن بولنگ کے بعد پاکستان گرینز کا اسکور یکدم ایک وکٹ پر 143 سے چھ وکٹوں کے نقصان پر 167 رنز ہو گیا۔ اس نازک موقع پر نسیم شاہ اور فہیم اشرف نے مل کر گرینز کی اننگز کو سنبھالا۔ دونوں نے بہترین کھیل کا مظاہرہ کرتے ہوئے ٹیم کے اسکور کو 167 سے 228 رنز تک پہنچایا۔ اس شراکت کے دوران گرینز کا رن ریٹ کافی بہتر دکھائی دے رہا تھا، لیکن 228 کے مجموعے پر نسیم شاہ بھی ہمت ہار گئے اور 31 رنز بنا کر شاہین شاہ آفریدی کا شکار بنے۔نسیم شاہ کے آؤٹ ہوتے ہی پاکستان گرینز کی وکٹیں گرنے کا سلسلہ مزید تیز ہو گیا۔ شاہین شاہ آفریدی نے حریف ٹیلینڈرز کو بھی اڑا کر رکھ دیا اور اننگز کے آخر میں ایک شاندار ہیٹ ٹرک بھی مکمل کی۔ شاہین کی اس جادوئی بولنگ کی بدولت پاکستان گرینز کی پوری ٹیم 37.2 اوورز میں محض 239 رنز بنا کر آؤٹ ہو گئی۔ شاہین شاہ آفریدی نے پورے میچ میں صرف 36 رنز دے کر 7 وکٹیں حاصل کیں، اور پاکستان گولڈ نے ایک بڑے مارجن سے یہ فائنل جیت کر چیمپئنز کی چمکتی ہوئی ٹرافی اپنے نام کر لی۔
ملتان سٹیڈیم میں فینز امڈ آئے،عمران خان انکلوژر سمیت کئی کھولنے پڑگئے
