لندن ۔کرک اگین رپورٹ
لارڈز ٹیسٹ،رضوان کھیلیں گے یا نہیں،بابر اعظم کی پریس کانفرنس سے کئی جواب۔کرکٹ بریکنگ نیوز۔تازہ ترین نیوز
پاکستان کرکٹ ٹیم کے کپتان بابر اعظم نے ہوم آف کرکٹ لارڈز میں انگلینڈ کے خلاف ہونے والی سیریز کے دوسرے ٹیسٹ میچ سے قبل پریس کانفرنس کرتے ہوئے کئی بڑی اور اہم باتیں کر دی ہیں۔
ہوم آف کرکٹ پر نئی پچ کا راز، کیا لارڈز ڈراؤنا خواب بھلا پائے گا
پاکستان اور انگلینڈ کے درمیان جاری سیریز کا یہ دوسرا ٹیسٹ میچ جمعرات سے شروع ہونے جا رہا ہے، جہاں پاکستان پہلے ہی ایک میچ ہار کر سیریز میں خسارے کا شکار ہے۔ اس نازک صورتحال میں لارڈز کا حالیہ ریکارڈ پاکستان کے حق میں ہے اور انجری کے بعد ٹیم میں بابر اعظم کی بطور کپتان واپسی ایک مضبوط سائن مانی جا رہی ہے۔ پریس کانفرنس کے دوران کپتان سے ٹیم کمبینیشن، پچ کی صورتحال اور کھلاڑیوں کی شمولیت کے حوالے سے متعدد سوالات ہوئے جن کا انہوں نے تفصیلی جواب دیا۔ ان کی گفتگو سے یہ اشارے بھی مل رہے ہیں کہ وکٹ کیپر محمد رضوان میچ کھیلیں گے یا نہیں، کیونکہ بابر اعظم نے رضوان کے حوالے سے پوچھے گئے سوال کا بہت خوبصورتی سے جواب دیتے ہوئے ان کا بھرپور دفاع کیا ہے۔
انہوں نے واضح کیا کہ بطور سینیئر ہر ایک پر پرفارم کرنے کی ذمہ داری عائد ہوتی ہے، لیکن ہمارے کئی سینیئر کھلاڑی ایک طویل عرصے سے پرفارم کر رہے ہیں، اس لیے ہم کسی ایک کھلاڑی پر ناکامی کا ملبہ نہیں ڈال سکتے اور نہ ہی کسی ایک کو ذمہ دار قرار دے سکتے ہیں۔ انہوں نے دوٹوک انداز میں کہا کہ شکست کے ذمہ دار میدان میں اترنے والے تمام کھلاڑی ہوتے ہیں، کوئی ایک نہیں ہوتا۔ سینیئرز کو آگے بڑھ کر اپنی ذمہ داری اٹھانی پڑے گی، تاہم ہم کل پوزیشن، سچویشن اور پچ کی حتمی صورتحال دیکھ کر ہی اپنا فائنل کمبینیشن طے کریں گے۔
لارڈز کی پچ اور بولنگ کے شعبے پر بات کرتے ہوئے بابر اعظم نے بتایا کہ وکٹ پر ابھی گھاس نظر آ رہی ہے۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ یہ گھاس میچ کے دن بھی برقرار رہتی ہے یا نہیں، جس کے بعد ہی یہ فیصلہ کیا جائے گا کہ ٹیم میں دو اسپنرز جائیں گے یا صرف ایک۔ اسپن آپشنز کے حوالے سے انہوں نے واضح کیا کہ سلمان علی آغا بھی ہمارے بہترین اسپنر ہیں، اس لیے الیون کا فیصلہ کنڈیشنز کے مطابق ہوگا۔ کپتان نے فی الحال اپنی پلینگ الیون بتانے سے انکار کیا، تاہم بیٹنگ آرڈر پر بات کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ جو پلیئر جس نمبر پر جا کر کھیلنا چاہتا ہے یا جس نمبر پر وہ سیٹ ہے، اس کو اسی نمبر پر کھیلنا زیادہ بہتر ہے اور ہم اس تسلسل کو برقرار رکھنے کی پوری کوشش کریں گے۔ اپنی فٹنس کے حوالے سے انہوں نے ایک بڑا انکشاف کیا کہ وہ اس وقت نوے فیصد فٹ ہیں، لیکن میچ کھیلنے کا حتمی فیصلہ بعد میں کیا جائے گا۔ بولرز کا دفاع کرتے ہوئے اور انگریزی میڈیا کی جانب سے کی جانے والی شدید ٹرولنگ کا جواب دیتے ہوئے بابر اعظم نے پراعتماد انداز میں کہا کہ جب بھی کوئی ہمیں ٹرول کرتا ہے، ہم ہمیشہ ایک ٹیم کے طور پر باؤنس بیک یعنی زبردست واپسی کرتے ہیں۔
انہوں نے مداحوں اور میڈیا سے اپیل کی کہ ہمیں اپنے کھلاڑیوں کی حمایت کرنے کی ضرورت ہے کیونکہ ہمارے پاس فی الحال یہی بہترین کھلاڑی موجود ہیں اور ہم انگلینڈ کے خلاف یہ میچ جیت کر سیریز میں کم کم بیک کرنے کے لیے پرعزم ہیں۔
دوسری جانب، اس پریس کانفرنس اور میچ سے قبل ٹیم انتظامیہ کے اندرونی اختلافات کی خبریں بھی سامنے آئی ہیں۔ اندرونی ذرائع اور حالیہ رپورٹس کے مطابق بہت سے لوگ یہ سوال پوچھ رہے تھے کہ نوجوان کھلاڑی اویس ظفر پلینگ الیون کا حصہ بنیں گے یا نہیں۔ اس حوالے سے سامنے آنے والی رپورٹس بتاتی ہیں کہ ٹیم انتظامیہ اویس ظفر کو کھلانے کے حق میں بالکل نہیں تھی، لیکن کپتان بابر اعظم نے ان کے لیے اسٹینڈ لیا اور ٹیم مینجمنٹ کے سامنے ڈٹ گئے۔ یاد رہے کہ بابر اعظم نے کپتانی کا عہدہ دوبارہ اسی وقت قبول کیا تھا جب انہیں مکمل اختیارات اور فیصلہ سازی کی یقین دہانی کرائی گئی تھی۔ اس حالیہ تنازع میں بابر اعظم نے کوچنگ پینل کے خلاف سلیکشن کا یہ کیس جیت لیا ہے اور اویس ظفر کے حق میں مضبوط فیصلہ کروایا ہے۔
اب دیکھنا یہ ہوگا کہ لارڈز کے تاریخی میدان پر کپتان بابر اعظم کا یہ جارحانہ مائنڈ سیٹ، کھلاڑیوں کا دفاع اور اندرونی فیصلے پاکستان کو انگلینڈ کے خلاف فتح دلا کر سیریز میں واپس لانے میں کتنے سودمند ثابت ہوتے ہیں۔
