حافظ محمد عمران عثمانی
ہوم آف کرکٹ پر نئی پچ کا راز، کیا لارڈز ڈراؤنا خواب بھلا پائے گا
لارڈز ٹیسٹ،پچ کا خوف، ایم سی سی کی ساکھ اور پاکستان کا امتحان ۔کرکٹ کے تازہ ترین آرٹیکلز اور دنیا بھر کی کرکٹ بریکنگ نیوز اس وقت ایک ہی تاریخی گراؤنڈ پر مرکوز ہیں، کیونکہ لارڈز ہوم آف کرکٹ کل سے ایک بار پھر ہیڈ لائنز میں ہوگا۔
جی ہاں، پاکستان اور انگلینڈ کے درمیان دوسرا کرکٹ ٹیسٹ میچ 27 اگست جمعرات سے لارڈز کرکٹ گراؤنڈ لندن میں شروع ہو رہا ہے۔ اس وقت کرکٹ کی تازہ ترین خبر یہی ہے کہ یہ ٹیسٹ میچ ایم سی سی حکام، لارڈز کی انتظامیہ اور انگلینڈ کرکٹ بورڈ کے لیے بہت زیادہ اہمیت اختیار کر گیا ہے۔ اس کی وجہ پاکستان کی ٹیم نہیں ہے، اور نہ ہی یہ وجہ ہے کہ پاکستان نے یہاں اپنے آخری دو ٹیسٹ میچ جیت رکھے ہیں، بلکہ اصل وجہ یہ ہے کہ تین ماہ قبل ہوم آف کرکٹ لارڈز سے اپڈیٹ یہ آئی تھی کہ وہاں جو کچھ ہوا، وہ کہیں دوبارہ نہ ہو جائے۔ اب سوال یہ ہے کہ کیا اس کا مداوا یہ میچ کر سکے گا؟ اور خاص کر سامنے پاکستان کی وہ ٹیم ہو جو پہلے ہی اپنی بیٹنگ لائن میں مشکلات کا شکار ہے، تو کیا کوئی اچھی کرکٹ یہاں دیکھنے اور کھیلنے کو مل سکے گی؟ یہی وہ پریشانی ہے جو اس وقت ایم سی سی حکام اور لارڈز کرکٹ سے جڑے دوسرے لوگوں کو کھائے جا رہی ہے۔
لارڈز میں پاکستان کی بادشاہت داؤ پر، ایک شکست سےدو بڑے نقصانات کا خطرہ
وجہ بتانے سے قبل ہم آپ کو یہ بتاتے چلیں کہ تین ماہ قبل جون میں یہاں آخر ہوا کیا تھا۔ جون میں یہاں انگلینڈ اور نیوزی لینڈ کا ایک ٹیسٹ میچ کھیلا گیا تھا۔ اس میچ کے تیسرے دن تک کی نوبت ہی نہیں آئی اور ایک ایسی پچ سامنے آئی جس کو انگلش کپتان بین اسٹوکس سمیت سب نے شدید تنقید کا نشانہ بنایا۔ آئی سی سی نے اس پچ کو غیر تسلی بخش قرار دیا اور لارڈز کے کھاتے میں ایک ڈی میرٹ پوائنٹ بھی ڈال دیا۔ لارڈز کی 140 سالہ تاریخ میں یہ پہلی بار ہوا کہ اس تاریخی میدان کو پچ مانیٹرنگ کے تحت آفیشلی سزا کے طور پر ایک ڈی میرٹ پوائنٹ ملا۔ یہ کرکٹ انتظامیہ کے لیے کسی ڈراؤنے خواب سے کم نہیں تھا۔ پچ پر غیر معمولی اور حد سے زیادہ سوئنگ تھی، بیٹنگ کرنا عذاب بن چکا تھا اور گیندیں مسلسل نیچے رہ رہی تھیں۔ نتیجہ یہ نکلا کہ 166 اوورز سے بھی کم میں میچ کا فیصلہ ہو گیا۔ اس پچ پر صرف 996 گیندوں کے اندر 40 وکٹیں گر گئیں، جو 1888ء کے بعد انگلینڈ کی دھرتی پر تیز ترین وکٹیں گرنے کا ایک نیا ریکارڈ تھا۔ پہلے دن 16 اور دوسرے دن 17 وکٹیں گرنے پر کپتانوں کا غصہ عروج پر تھا، جس کے بعد ایم سی سی کو باقاعدہ معذرت کرنی پڑی۔
اب تین ماہ بعد ایم سی سی حکام اور لارڈز انتظامیہ ایک بہترین پچ کا دعویٰ کر رہی ہے۔ پچز اور میدانوں میں ایسے پرابلمز آتے رہتے ہیں، لیکن بات وہی ہے کہ لارڈز “ہوم آف کرکٹ” ہے، اس لیے اس کا معیار اور اس کی چیزیں دوسروں سے ممتاز ہونی ہی چاہئیں کیونکہ لوگوں کا اس پر ایک الگ اعتماد ہے۔ اب ان کی پوری کوشش ہے کہ ایک ایسا میچ دیکھنے کو ملے جس سے فینز پرانا میچ بھول جائیں۔ ایک ایسی سنسنی خیز پچ جو بیٹنگ اور بولنگ دونوں کے لیے سازگار ہو اور دونوں طرف کے کھلاڑیوں کو یکساں مدد دے۔ اب یہ ایک ایسی دلچسپ کھچڑی ہے جو لارڈز سے پک کر سامنے آ رہی ہے۔ دوسری طرف ٹکٹوں کی ریکارڈ فروخت نے بتا دیا ہے کہ کرکٹ فینز کی دلچسپی اور توجہ ابھی کم نہیں ہوئی۔ پہلے تین دن کے تمام ٹکٹ بک چکے ہیں اور چوتھے دن (اتوار) کے لیے بھی ٹکٹوں کی فروخت تیزی سے جاری ہے۔مگر یہاں اہم بات یہ ہے کہ پاکستان کی کرکٹ ٹیم اس میدان پر کیا پرفارمنس دکھاتی ہے؟ اور اس سے بھی اہم بات یہ ہے کہ لارڈز کی یہ نئی پچ، جو کل رونما ہونے والی ہے، اپنا کیا رنگ دکھاتی ہے؟ حالیہ عرصے میں ٹیسٹ میچز دو دو دن میں ختم ہونے لگے ہیں، جو ریڈ بال کرکٹ، کھلاڑیوں، انتظامیہ اور براڈکاسٹرز سب کے لیے نقصان دہ ہے۔ لارڈز کرکٹ گراؤنڈ میں پاکستان ٹیم کو ایک جاندار کارکردگی پیش کرنی پڑے گی، کیونکہ اگر وہ اپنی روایتی ناکامی کا شکار ہو کر جلدی آؤٹ ہو گئی تو شاید پچ کو قصوروار نہ ٹھہرایا جائے، لیکن ایک اور مختصر ٹیسٹ میچ لارڈز کی ساکھ کے لیے کسی صورت اچھا نہیں ہوگا۔
