عمران عثمانی
لارڈز کے تاریخی گھر کا نیا روپ، لانگ روم میں جیمز اینڈرسن اور براڈ کی تصویر، زیرِ زمین ڈریسنگ رومز اور تین مسلم ہیروز کا اعزاز۔کرکٹ بریکنگ نیوز ہے کہ پاکستان اور انگلینڈ کے درمیان لارڈز کے تاریخی میدان پر ٹیسٹ میچ شروع ہونے میں اب چند ہی گھنٹے باقی ہیں۔ جہاں دونوں ٹیمیں پہلے معرکے کے بعد لارڈز کی اس روایتی ڈھلوان پر ایک دوسرے کو پچھاڑنے کا ہنگامی پلان بنا رہی ہیں، وہاں لارڈز انتظامیہ کی طرف سے جاری کردہ نئی دفتری معلومات کے مطابق گراؤنڈ کے اندر کئی ایسی سنسنی خیز تبدیلیاں ہو رہی ہیں جو عام شائقین کی نظروں سے بالکل اوجھل ہیں۔
جیمز اینڈرسن اور اسٹیورٹ براڈ کی تاریخی تصویر
میچ کے آغاز سے پہلے لارڈز کا تاریخی ‘لانگ روم’ ایک ایسی یادگار تقریب کا گواہ بننے جا رہا ہے جو برطانوی کرکٹ کی تاریخ میں ہمیشہ کے لیے محفوظ ہو جائے گی۔ انگلینڈ کی تاریخ کی سب سے کامیاب اور خوفناک فاسٹ بولنگ جوڑی سر جیمز اینڈرسن اور اسٹیورٹ براڈ کا ایک عظیم مشترکہ پورٹریٹ یعنی تصویر لارڈز کے لانگ روم کی زینت بنایا جا رہا ہے۔ برطانوی مصور کی بنائی گئی اس تاریخی پینٹنگ کا عنوان ہے۔ لارڈز کی تاریخ میں یہ پہلا موقع ہے کہ کسی بولنگ جوڑی کو یہ شاہی اعزاز دیا گیا ہو، اور اس کی نقاب کشائی کے لیے یہ دونوں عظیم بولرز خود لارڈز پویلین میں شرکت کر رہے ہیں۔
سال 2030 کا مستقبل، زمین کے نیچے ڈریسنگ رومز
لارڈز گراؤنڈ کو جدید بنانے کے لیے پچھلے کئی مہینوں سے ایک بہت بڑا تعمیراتی کام چل رہا ہے۔ اگلے ہی ہفتے سے لارڈز کے تاریخی ‘ایلن اسٹینڈ’ پر دوبارہ بھاری کام شروع ہونے جا رہا ہے، جہاں تماشائیوں کے لیے پچ کے سامنے کھلنے والے جدید وی آئی پی بار بنائے جائیں گے اور اس اسٹینڈ کو پویلین سے جوڑنے والے روایتی پُل کی جگہ بدلی جائے گی۔لیکن اس سے بھی بڑا دھماکہ نومبر کے خصوصی اجلاس میں ہونے جا رہا ہے، جہاں لارڈز گراؤنڈ کا وہ نیا نقشہ منظور کیا جائے گا جو کرکٹ کی صدیوں پرانی روایات کو بدل دے گا۔ سال 2030 تک لارڈز گراؤنڈ کے اندر زمین کے نیچے ایک جدید ترین تہہ خانہ بنایا جائے گا، جس کے اندر پچ کے سامنے کھلنے والے دو نئے ڈریسنگ رومز تعمیر ہوں گے۔ یعنی مستقبل میں کھلاڑی پویلین کی روایتی سیڑھیوں اور بالکونی کے بجائے زمین کے اندر سے نکل کر لارڈز کے میدان پر قدم رکھیں گے۔
برٹش گراس روٹ پر تین مسلم ہیروز کا راج
اس آفیشل رپورٹ کا سب سے خوبصورت حصہ وہ ہے جس نے برطانوی دھرتی پر مسلم کمیونٹی کا سر فخر سے بلند کر دیا ہے۔ لارڈز کلب نے پورے برطانیہ میں مقامی سطح کی کرکٹ کی بے لوث خدمت کرنے والے گمنام ہیروز کی تلاش کے لیے ایک ملک گیر مہم چلائی تھی۔ اس سال منتخب ہونے والے الیون کمیونٹی ہیروز کو پاکستان بمقابلہ انگلینڈ لارڈز ٹیسٹ کے دوران لارڈز کے شاہی ہاسپیٹلٹی باکس میں وی آئی پی مہمان کے طور پر بلایا گیا ہے۔اس باوقار برٹش لسٹ میں تین ایسے مسلم نام چمک رہے ہیں جنہوں نے برطانیہ کے مقامی کلبوں میں کرکٹ کو زندہ رکھنے کے لیے اپنی زندگیاں وقف کر دیں۔ ان گمنام ہیروز میں عائشہ رؤف، محمد قمر اور زلیخا الٰہی شامل ہیں۔ لارڈز کا یہ تاریخی فیصلہ ثابت کرتا ہے کہ کرکٹ عائشہ، قمر اور زلیخا جیسے مخلص اور جینوئن لوگوں کی بدولت ہی گراس روٹ پر سانس لے رہا ہے۔
جہاں پاکستان کرکٹ ٹیم کو لارڈز کی پچ پر عبرت ناک شکست کا داغ دھونے اور اپنی ڈوبتی ہوئی ٹیسٹ بادشاہت کو بچانے کا کڑا چیلنج درپیش ہے، وہاں لارڈز کا تاریخی میدان اپنے روایتی رنگوں کو بدل کر مستقبل کے زیرِ زمین ڈریسنگ رومز اور مسلم ہیروز کی شکل میں ایک نئی تاریخ لکھ رہا ہے۔
