لندن۔کرک اگین رپورٹ ۔عمران عثمانی
پاکستان کرکٹ کا تماشہ اب سرِعام لگ چکا ہے، اور وہ پرانا جملہ کہ “کرکٹ کا جنازہ ذرا دھوم سے نکلے” اب سننے میں بھی عجیب لگتا ہے۔ وجہ یہ ہے کہ پچھلے دو عشروں سے ہم یہی ایک راگ سن سن کر تھک چکے ہیں۔ کرکٹ تازہ ترین آرٹیکلز میں سے ایک اب تو شائقین کو اس زوال سے آگے کی کوئی چیز درکار ہے کیونکہ بات بورڈ کی بدانتظامی سے بڑھ کر دنیا بھر میں جگ ہنسائی تک جا پہنچی ہے۔ پاکستان کرکٹ بورڈ (پی سی بی) کے حالیہ فیصلوں اور دورہ انگلینڈ کے دوران جو کچھ ہوا، اس نے دنیا بھر میں پاکستان کرکٹ کا مذاق بنا دیا ہے۔ اب اس میں صرف مقامی ہی نہیں، بلکہ دنیا بھر کے سابق کرکٹرز اور کرکٹ پنڈت بھی کود پڑے ہیں۔
پاکستان کرکٹ ٹیم کے سابق ہیڈ کوچ مکی آرتھر نے تو جیسے دل کی بات کہہ دی ہے۔ انہوں نے کہانی وہیں سے شروع کی جہاں سے ہمیشہ خرابی پیدا ہوتی ہے۔ آرتھر کا کہنا ہے کہ یہ سب پاکستان کرکٹ بورڈ کے رات کے اندھیرے یا صبح کے اجالے میں ہونے والے جلد بازی کے فیصلوں کا نتیجہ ہے۔ کبھی کپتان بدل دو، کبھی کوچز بدل دو، کبھی اس کو ہٹا دو اور کبھی اس کو لگا دو۔ بورڈ کی اسی عجلت پسندی کی وجہ سے آج پاکستان کرکٹ کا یہ انجام ہوا ہے۔ا
نگلینڈ میں موجود پاکستان کے سابق کپتان رمیز راجہ نے بھی اس صورتحال پر شدید حیرانگی کا اظہار کیا ہے۔ صرف پاکستانی ہی نہیں، بلکہ انگلش مبصرین بھی بورڈ کے ان اقدامات کو سمجھنے سے قاصر ہیں۔
انگلینڈ کے سابق کپتان ناصر حسین کے مطابق پاکستان کرکٹ بورڈ نے جو فیصلے کیے ہیں، وہ خاصے حیران کن اور سمجھ سے باہر ہیں۔ اسی طرح انگلینڈ کے ایک اور سابق کپتان مائیکل ایتھرٹن کا کہنا ہے کہ یہ پاکستان بورڈ کا بے شک اندرونی معاملہ ہو سکتا ہے، لیکن اتنے کم وقت میں اتنی بڑی تبدیلیاں ٹیم کے لیے انتہائی نقصان دہ ثابت ہوں گی۔
معروف بھارتی کمنٹیٹر ہرشا بھوگلے نے بھی اس صورتحال پر چٹکی لیتے ہوئے کہا کہ ایسی غیر متوقع اور ناقابلِ یقین باتوں کی توقع صرف پاکستان کرکٹ سے ہی کی جا سکتی ہے۔ انہوں نے تعجب کا اظہار کیا کہ پہلے ٹیسٹ کے کپتان سلمان علی آغا کو دوسرے ٹیسٹ سے ڈراپ کر دیا گیا اور تیسرے ٹیسٹ سے قبل ہی گھر بھیج دیا گیا! سیریز کے دوران ہی ہیڈ کوچ اور باؤلنگ کوچ رخصت ہو گئے۔ سینئر وکٹ کیپر کو اچانک واپس بھیج دیا گیا۔ حد تو یہ ہے کہ متبادل کھلاڑیوں کو ابھی بروقت ویزے ملنے کی امید لگی ہوئی ہے، ٹیسٹ میچ کے لیے تیار ہونا تو دور کی بات ہے۔ ہمیشہ کی طرح، پاکستان کرکٹ میں میدان کے اندر سے زیادہ میدان سے باہر ہلچل مچی ہوئی ہے۔
اس بدانتظامی پر پاکستان کے سابق کپتان شاہد خان آفریدی بھی شدید برہم دکھائی دیے۔ حالانکہ انہیں موجودہ کرکٹ نظام کے بہت قریب سمجھا جاتا ہے، لیکن وہ بھی پی سی بی کی پالیسیوں پر چپ نہ رہ سکے۔ انہوں نے بورڈ کی منطق کو آڑے ہاتھوں لیتے ہوئے کہا کہ انہیں سمجھ نہیں آتا کہ ان فیصلوں کے پیچھے آخر کیا سوچ کارفرما ہے! ان کے مطابق، ٹیم سے نکالے گئے کھلاڑیوں کے متبادل کا انتخاب بھی عقل سے بالکل بالاتر ہے۔ انگلینڈ جیسی مشکل کنڈیشنز میں کھیلے جانے والے ٹیسٹ میچ کے لیے ٹی ٹوئنٹی کے کھلاڑیوں کو اسکواڈ میں شامل کر لیا گیا۔ یہ کیسی حکمت عملی ہے؟ انہوں نے کوچ کو ہٹانے پر بھی سخت سوال اٹھایا کہ محض 5 ٹیسٹ میچوں کے بعد کسی کوچ کو اس طرح فارغ کیسے کیا جا سکتا ہے۔
دوسری طرف، پاکستان کرکٹ ٹیم کے سابق کپتان راشد لطیف نے بورڈ کے برتاؤ پر سخت احتجاج کیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ کھلاڑیوں کو “پہلی دستیاب فلائٹ سے واپس بھیجنے” کا جو انداز اختیار کیا گیا، وہ سراسر کھلاڑیوں کی تذلیل اور بے عزتی کے مترادف ہے۔ اس تضحیک آمیز رویے سے کھلاڑیوں کا بچا کھچا اعتماد بھی بالکل ختم ہو جائے گا۔ بورڈ کو یہ طریقہ کار کسی صورت نہیں اپنانا چاہیے تھا۔
کوچز،آدھے درجن کھلاڑی فارغ،وہ ہو گیا جو پہلے نہیں ہوا تھا،پاکستان کرکٹ زلزلے کی اندرونی کہانی
حیرت کی بات یہ ہے کہ اس پورے دورے میں کھیل سے زیادہ پچ سے باہر کی کہانیاں میڈیا کی سرخیاں بنی رہیں۔ اسکواڈ سلیکشن سے شروع ہونے والا تنازعہ لارڈز ٹیسٹ تک پہنچا، جہاں سابق کپتان عمران خان کے بیٹوں کا ایک انٹرویو سامنے آیا، جس نے جلتی پر تیل کا کام کیا اور پی سی بی کی سیاست کو انٹرنیشنل میڈیا میں اچھال دیا۔ رہی سہی کسر میدان کے اندر ٹیم کی عبرتناک شکست نے پوری کر دی۔ اس شرمناک ہار کے بعد کرکٹ بورڈ نے وہ قدم اٹھایا جو شاید پاکستان کرکٹ کی تاریخ میں پہلے کبھی نہیں دیکھا گیا۔ سات کھلاڑیوں کو ہنگامی طور پر کہا گیا کہ وہ پہلی دستیاب فلائٹ پکڑیں اور فوراً وطن واپس لوٹ جائیں۔ کھیل کو بہتر کرنے کے بجائے عجلت میں کیے گئے یہ فیصلے بتاتے ہیں کہ پاکستان کرکٹ اس وقت کسی وژن کے تحت نہیں، بلکہ محض حادثاتی طور پر چل رہی ہے۔
پاکستان ٹیسٹ میچز کی سیریز دو صفر سے ہار چکا ہے۔ تیسرا ٹیسٹ 9 ستمبر سے ایج باسٹن میں ہوگا۔
