لندن۔کرک اگین رپورٹ۔تجزیہ،عمران عثمانی
لارڈز ٹیسٹ بارش، انگلینڈ مستحکم مگر بورڈ نقصان میں، عمران خان کا تذکرہ اور موسم کی نئی پیشگوئی۔ کرکٹ تازہ ترین آرٹیکلز
لارڈز ٹیسٹ،انگلینڈ کی پوزیشن مستحکم، بارش نے کرکٹ بورڈ کو نقصان پہنچایا جبکہ بی بی سی کمنٹری باکس میں عمران خان کا تذکرہ چھا گیا۔ہوم آف کرکٹ لارڈز سے کرکٹ کی بریکنگ نیوز یہ ہے کہ دوسرے ٹیسٹ کا تیسرا روز کافی حد تک بارش کی نذر ہونے اور کھیل کا بڑا حصہ ضائع ہونے
کے باوجود میزبان انگلینڈ نے پاکستان کے خلاف میچ پر اپنی گرفت انتہائی مضبوط کر لی ہے اور اس کی مجموعی برتری 357 رنز تک پہنچ چکی ہے۔ انگلش ٹیم نے پہلی اننگز میں 280 رنز کی بھاری سبقت حاصل کی تھی، جس کے بعد تیسرے دن کھیل کے اختتام تک انہوں نے اپنی دوسری اننگز میں 7 وکٹوں کے نقصان پر 177 رنز بنا لیے ہیں اور 3 وکٹیں باقی ہیں۔
قدرت نے ایک بار پھر قومی ٹیم کو میچ میں واپسی اور سنبھلنے کا نادر موقع فراہم کیا ہے، لیکن اب یہ کھلاڑیوں پر منحصر ہے کہ وہ اس موقع سے کس طرح فائدہ اٹھاتے ہیں اور اپنے حق میں راہیں ہموار کرتے ہیں۔ ہفتے کے روز ہونے والی مسلسل بارش کے باعث میچ شدید متاثر ہوا اور دن بھر میں صرف 24 اوورز اور چند گیندوں کا کھیل ہی ممکن ہو سکا، جس نے شاید پاکستان کی ممکنہ شکست کو کچھ گھنٹوں کے لیے ٹال دیا ہے۔
لارڈز سے سامنے آنے والی اس اہم ترین کرکٹ اپڈیٹ کے مطابق انگلینڈ نے تیسرے دن کا آغاز 81 رنز 3 کھلاڑی آؤٹ سے کیا تھا، لیکن پاکستانی بولرز نے دباؤ برقرار رکھا۔ اننگز کی سب سے نمایاں خصوصیت ڈین لارنس کی ذمہ دارانہ بیٹنگ تھی، جنہوں نے ایک اور بہترین نصف سنچری اسکور کی اور وہ 50 رنز پر ناٹ آؤٹ ہیں۔ ان کے علاوہ ہیری بروک نے 34 رنز بنائے، جبکہ اسٹار بلے باز جو روٹ ایک بار پھر بڑی اننگز کھیلنے میں ناکام رہے اور 24 رنز پر ایل بی ڈبلیو آؤٹ ہو گئے۔ پاکستان کی جانب سے محمد عباس نے نپی تلی بولنگ کرتے ہوئے 3 کھلاڑیوں کو آؤٹ کیا، جبکہ خرم شہزاد اور محمد علی نے دو دو وکٹیں حاصل کیں۔
میچ میں اب بھی دو دن کا کھیل باقی ہے، جس کی وجہ سے یہ ٹیسٹ ایک سنسنی خیز رخ اختیار کر گیا ہے۔اس دوران ایک دلچسپ اور تلخ صورتحال انگلینڈ کرکٹ بورڈ کے مالیاتی شعبے کو دیکھنی پڑی۔ ہوم آف کرکٹ لارڈز کے اپنے بنائے ہوئے قوانین کے مطابق، اگر کسی بھی دن ایک سیشن جتنا کھیل یعنی کم از کم 30 اوورز کی کرکٹ ممکن نہ ہو، تو انتظامیہ اسٹیڈیم میں موجود شائقین کو اس دن کی ٹکٹ کا ریفنڈ کرتی ہے۔ ہفتے کے روز لارڈز میں صرف 23.5 اوورز کا کھیل ہی ممکن ہو سکا، جو کہ ہدف سے محض 6.1 اوورز کم تھا۔ اس معمولی برسات اور وقت کی کمی کی وجہ سے انگلینڈ کرکٹ بورڈ کو قواعد کے تحت ٹکٹوں کی رقم واپس کرنا پڑے گی، جس سے انہیں آج خاصے مالیاتی نقصان اور خسارے کا سامنا کرنا پڑا ہے۔
دوسری طرف کمنٹری باکس میں پاکستان کے سابق کپتان عمران خان کا تذکرہ زبان زدِ عام رہا اور یہ کھیل کی تازہ ترین خبریں جاننے والے مداحوں کی توجہ کا مرکز بن گیا۔ بی بی سی ریڈیو اور دیگر سروسز کے لیے کمنٹری اور تبصرہ کرنے والے رمِیز راجہ بھی وہاں موجود تھے، جنہوں نے آج کمنٹری کے دوران عمران خان کا ذکر بہت کیا جو اب سوشل میڈیا پر وائرل ہو رہا ہے۔ انہوں نے یادگار واقعات سنائے کہ کیسے عمران خان ٹیلنٹ کو حاصل کرتے تھے اور پھر اپنی گہری نظر سے ان ہیروں کو تراشتے تھے۔ رمِیز راجہ نے نامور کھلاڑیوں کی مثالیں دیں اور واضح کیا کہ ان کھلاڑیوں نے بھی موقع سے بھرپور فائدہ اٹھایا۔
میچ کے بقیہ دو دنوں کے حوالے سے لندن میں محکمہ موسمیات کی پیشگوئی انتہائی اہمیت اختیار کر گئی ہے۔ اتوار کو میچ کے چوتھے روز برطانوی دارالحکومت میں کچھ مقامات پر گرج چمک کے ساتھ تیز بارش اور بوندا باندی کا امکان ظاہر کیا گیا ہے، جس کی وجہ سے کھیل میں ایک بار پھر خلل پڑ سکتا ہے۔ تاہم، پیر کو میچ کے پانچویں اور آخری روز موسم قدرے بہتر رہنے کی توقع ہے، جہاں بادلوں کے ساتھ دھوپ کی آنکھ مچولی کا سلسلہ رہے گا اور کھیل مکمل ہونے کے روشن امکانات ہوں گے۔ موسم کے اس تغیر اور انگلینڈ کی 357 رنز کی بھاری برتری کو دیکھتے ہوئے چوتھے دن کا پہلا سیشن انتہائی اہم ہوگا جہاں پاکستان کو میچ میں بقا کے لیے نہ صرف انگلینڈ کی بقیہ 3 وکٹیں جلد گرانی ہوں گی بلکہ آنے والے دنوں میں ایک غیر معمولی بلے بازی کا مظاہرہ بھی کرنا ہوگا۔
