لندن۔تجزیہ حافظ محمد عمران عثمانی کوچز،آدھے درجن کھلاڑی فارغ،وہ ہو گیا جو پہلے نہیں ہوا تھا،پاکستان کرکٹ زلزلے کی اندرونی کہانی ۔
لارڈز ٹیسٹ تو ختم ہو گیا ہے لیکن پاکستان کرکٹ سچ میں ایک بڑے زلزلے کی زد میں آ چکی ہے،کرکٹ بریکنگ نیوز یہ ہے کہ جہاں آدھی ٹیم کے قریب تبدیلیاں کر دی گئی ہیں اور پورا کوچنگ اسٹاف بھی اڑا دیا گیا ہے۔ گزشتہ 18 سے 20 گھنٹوں سے میڈیا اور کرکٹ حلقوں میں یہ قیاس آرائیاں اور خیال آرائیاں جاری تھیں کہ کچھ بہت بڑا ہونے جا رہا ہے، لیکن پاکستان کرکٹ بورڈ نے ٹیسٹ میچ میں شکست کے تقریباً 24 گھنٹے گزرنے کے بعد بالآخر باضابطہ طور پر اس خبر کی تصدیق کر دی ہے۔
پی سی بی کے آفیشل اعلان کے مطابق ریڈ بال کے ہیڈ کوچ سرفراز احمد اور بولنگ کوچ عمر گل کو ان کے عہدوں سے فارغ کر دیا گیا ہے، اور اب ان کی جگہ مائیک ہیسن اور ایشلے نوفکے کو بیک روم اسٹاف میں شامل کیا گیا ہے۔بات صرف کوچز تک محدود نہیں رہی بلکہ لارڈز ٹیسٹ کے بعد 7 کھلاڑیوں کو بھی ٹیسٹ اسکواڈ سے فارغ کر دیا گیا ہے۔ ان کھلاڑیوں میں وکٹ کیپر بلے باز محمد رضوان، اوپنر امام الحق، آل راؤنڈر سلمان علی آغا، علی عثمان، عامر جمال، محمد اویس ظفر اور فاسٹ بولر خرم شہزاد شامل ہیں۔
پاکستان یہ سیریز پہلے ہی 2-0 سے ہار چکا ہے اور اب 9 ستمبر میں شروع ہونے والا ایجبسٹن ٹیسٹ میچ آخری معرکہ ہے جو باقی بچا ہے۔ بورڈ نے ان سات کھلاڑیوں کے متبادل کے طور پر سات نئے ناموں کا اعلان کیا ہے، جن میں ٹیسٹ کی سطح پر پانچ ان کیپڈ کھلاڑی اور دو کیپڈ کھلاڑی شامل ہیں، جو انگلینڈ کے خلاف تیسرے ٹیسٹ سے قبل پاکستانی اسکواڈ کو جوائن کریں گے۔متبادل کے طور پر آنے والے کھلاڑیوں میں بلے باز صائم ایوب اور عبداللہ فضل بالترتیب آٹھ اور دو ٹیسٹ کھیل چکے ہیں، جبکہ بائیں ہاتھ کے اسپن باؤلنگ آل راؤنڈر عرفات منہاس نے تین ون ڈے اور چار ٹی ٹوئنٹی میچوں میں پاکستان کی نمائندگی کی ہے۔ باقی چار کھلاڑیوں میں بائیں ہاتھ کے فاسٹ باؤلر محمد عمران جونیئر، دائیں ہاتھ کے تیز باؤلنگ آل راؤنڈر محمد عمران (جنہیں عمران رندھاوا بھی کہا جاتا ہے)، رضا اللہ، اور وکٹ کیپر بلے باز سعد بیگ شامل ہیں جو قائد اعظم ٹرافی 2025-26 کے ٹورنامنٹ کے بہترین کھلاڑی رہے ہیں۔
اب سب سے بڑا سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا سیریز کے دوران کھلاڑیوں اور کوچز کے ساتھ اس قسم کا سلوک پہلی بار ہوا ہے یا پہلے بھی ایسا ہوتا رہا ہے؟ اگر پی سی بی کی تاریخ دیکھی جائے تو یہ کوئی نیا طریقہ کار نہیں ہے، بلکہ بورڈ اکثر بیرونی دوروں میں ناکامی پر پینک بٹن دباتا رہا ہے۔ کسی مستقل حکمتِ عملی کے بغیر چلتی سیریز کے بیچ میں اتنی بڑی اکھاڑ پچھاڑ کرنا اور نوجوان ڈومیسٹک کھلاڑیوں کو اچانک انگلینڈ کی مشکل کنڈیشنز میں جھونک دینا ایک بڑا رسک ثابت ہو سکتا ہے۔ پی سی بی کی اس آفیشل اسٹیٹمنٹ کا جائزہ لیا جائے تو صاف معلوم ہوتا ہے کہ شکست کا سارا ملبہ مینیجمنٹ اور کھلاڑیوں پر ڈال کر خود کو بچانے کی کوشش کی گئی ہے، لیکن کیا یہ وقتی تبدیلیاں برمنگھم ٹیسٹ میں کوئی درست علاج ثابت ہوں گی یا پاکستان کو مزید ہزیمت کا سامنا کرنا پڑے گا، اس کا فیصلہ ایجبسٹن کا میدان ہی کرے گا۔
لارڈز ٹیسٹ کے فوراً بعد پاکستان کرکٹ بورڈ کی جانب سے کی جانے والی اکھاڑ پچھاڑ نے کرکٹ شائقین کو شدید حیرت اور پریشانی میں مبتلا کر دیا ہے، کیونکہ پاکستان کرکٹ کی تاریخ میں ایسا پہلے کبھی نہیں ہوا کہ کسی چلتی سیریز کے بیچ میں پورا کوچنگ اسٹاف فارغ کر دیا جائے اور آدھی ٹیم بدل دی جائے۔ شائقین کا یہ سوال بالکل بجا ہے کہ آخر اتنی بڑی تبدیلیوں کے لیے آخری ٹیسٹ میچ کے ختم ہونے کا انتظار کیوں نہیں کیا گیا؟
پاکستان کی اگلی ٹیسٹ سیریز نومبر میں سری لنکا کے خلاف طے ہے، جس کا مطلب ہے کہ بورڈ کے پاس ہوم گراؤنڈ پر واپسی کے بعد سوچ سمجھ کر فیصلے کرنے کے لیے دو مہینے کا طویل وقت موجود تھا، لہذا کسی جلد بازی کی کوئی ضرورت نہیں تھی۔ ایسے میں سیریز کے ادھورے سفر کے دوران پینک بٹن دبانا ظاہر کرتا ہے کہ عوامی دباؤ کا رخ ٹیم کی طرف موڑنے کے لیے یہ جلد بازی دکھائی گئی۔اس ہنگامی فیصلے کے پیچھے پاکستان کرکٹ بورڈ اور انگلینڈ اینڈ ویلز کرکٹ بورڈ کے درمیان پسِ پردہ ہونے والے کچھ اہم رابطے بھی سامنے آ رہے ہیں جن کا آغاز لارڈز ٹیسٹ کے دوران ہی ہو چکا تھا۔
کرکٹ حلقوں میں یہ سوال زور پکڑ رہا ہے کہ کیا ہیڈ کوچ سرفراز احمد کو لارڈز ٹیسٹ کی پریس کانفرنس کی وجہ سے نشانہ بنایا گیا؟ دراصل لارڈز ٹیسٹ کے پہلے دن اسکائی اسپورٹس پر سابق وزیر اعظم عمران خان کے بیٹوں کا ایک انٹرویو نشر کیا گیا تھا جس پر پاکستان کرکٹ بورڈ نے شدید تحفظات کا اظہار کیا۔ پی سی بی نے اس معاملے پر انگلینڈ کرکٹ بورڈ کے ساتھ پسِ پردہ سخت رابطہ کیا اور میچ کے بائیکاٹ تک کی دھمکی دی تھی۔ لیکن جب پریس کانفرنس میں سرفراز احمد سے برطانوی میڈیا نے اس حساس سفارتی اور سیاسی تنازع پر سوال پوچھا، تو انہوں نے انتہائی محتاط اور مصنوعی انداز میں جواب دیتے ہوئے کہا کہ ٹیم کو اس معاملے کا کوئی علم نہیں تھا اور وہ لنچ کر رہے تھے۔ یہ جواب پاکستان کرکٹ بورڈ کے سخت موقف کے برعکس ایک روایتی اور ہلکا جواب لگا، جس نے بورڈ کے اعلیٰ حکام کو شدید ناراض کر دیا۔
دوسری طرف، محمد رضوان کے حوالے سے بھی اندرونی کہانیاں سامنے آ رہی ہیں۔ رضوان طویل عرصے سے بیٹنگ فارم کے بحران سے گزر رہے تھے اور لارڈز میں ان کا غیر ذمہ دارانہ انداز میں آؤٹ ہونا بورڈ کو کارروائی کا موقع دے گیا۔ تاہم ماہرین کا ماننا ہے کہ پی سی بی اور رضوان کے درمیان کچھ عرصے سے مختلف انتظامی معاملات پر سرد جنگ چل رہی تھی، اور لارڈز کی شکست کو بنیاد بنا کر ان کے ٹیسٹ کیریئر پر ہمیشہ کے لیے سوالیہ نشان لگا دیا گیا ہے۔ امام الحق کی انجری ڈرامہ سمجھی گئی یا حقیقت تھی۔ فیلڈ پر پریکٹس کرنے کے معاملے نے بھی جلتی پر تیل کا کام کیا، جس پر برطانوی میڈیا میں شدید تنقید کی گئی اور انگلینڈ بورڈ کے حلقوں میں بھی اس کا نوٹس لیا گیا۔ان تمام حقائق کو دیکھا جائے تو ایسا لگتا ہے کہ لارڈز میں انگلینڈ کے ہاتھوں مسلسل دوسری بدترین شکست کے بعد عوامی اور میڈیا کا غصہ عروج پر تھا اور بورڈ پر استعفوں کے لیے دباؤ بڑھ رہا تھا۔
پاکستان کرکٹ بورڈ نے روایت کے تحت اپنی پوزیشن بچانے کے لیے توپوں کا رخ کہیں سرفراز احمد، محمد رضوان اور دیگر سینیئر کھلاڑیوں کی طرف تو نہیں موڑ دیا۔ انگلینڈ کرکٹ بورڈ کے ساتھ ہونے والے رابطوں، پریس کانفرنس کے سیاسی رنگ اور اپنی ناکامی کو چھپانے کے لیے اس تاریخی جلد بازی کا سہارا لیا گیا، جس نے کرکٹ فینز کو مایوس اور کنفیوز کر کے رکھ دیا ہے۔
