لندن۔کرک اگین رپورٹ۔تجزیہ عمران عثمانی۔ لارڈز ٹیسٹ میں پاکستان کا برا انجام،سیریز بھی گئی،بابر کا مذاق،سعود شکیل بدقسمت ۔
سعود شکیل خوش قسمتی کے ساتھ بد قسمتی کی انتہا پر رہے۔
کرکٹ کے مقدس مقام لارڈز کے میدان سے پاکستانی شائقین کے لیے بریکنگ نیوز مگرانتہائی مایوس کن خبر سامنے آئی ہے جہاں پاکستان کرکٹ ٹیم ہوم آف کرکٹ لارڈز میں 16 سال کے بعد ٹیسٹ میچ ہار گئی ہے۔ تازہ ترین کرکٹ آرٹیکلز میں یہ بنے گا۔
انگلینڈ نے پاکستان کو اس میچ میں 194رنز سے شکست دے کر عبرتناک انجام سے دوچار کیا۔ اس دردناک ہار کے ساتھ ہی قومی ٹیم جاری تین ٹیسٹ میچوں کی سیریز بھی ہار گئی ہے اور میزبان انگلینڈ کو سیریز میں دو صفر سے ناقابل شکست برتری حاصل ہو گئی ہے، جس نے گرین کیپ کے حوصلے پست کر دیے ہیں۔ لندن کے تاریخی مقام لارڈز میں کھیلے گئے دوسرے کرکٹ ٹیسٹ کے چوتھے روز جب میچ کا آغاز ہوا تو کھیل میں سنسنی خیز موڑ دیکھنے کو ملے۔ انگلش ٹیم اپنی دوسری اننگز میں پاکستانی بولرز کے سامنے زیادہ دیر نہ ٹک سکی اور پوری ٹیم 208 رنز بنا کر آؤٹ ہو گئی۔ انگلینڈ کی دوسری اننگز کی سب سے خاص بات پاکستانی پیسر محمد عباس کی شاندار اور جادوئی بولنگ تھی، جنہوں نے انگریز بلے بازوں کو اپنی سوئنگ سے بے بس کر دیا۔ محمد عباس نے عمدہ کارکردگی کا مظاہرہ کرتے ہوئے دوسری اننگز میں 5 کھلاڑیوں کو پویلین کی راہ دکھائی اور ہسٹری میں پہلی بار لارڈز کے اونر بورڈ پہ اپنا نام سنہری حروف میں لکھوانے میں کامیاب ہوئے، جو کہ اس پورے میچ میں پاکستان کے لیے واحد سب سے بڑا اعزاز رہا۔ انہوں نے اس میچ میں مجموعی طور پہ کمال کی لائن اور لینتھ کا ظاہر کیا اور محض 130 رنز کے عوض 9 کھلاڑیوں کو آؤٹ کر کے اپنی کلاس ثابت کی۔
پاکستان کی کرکٹ ٹیم جسے میچ جیتنے کے لیے ایک بڑے ہدف 389 رنز کا تعاقب کرنا تھا، ابتدا سے ہی شدید مشکلات کا شکار نظر آئی۔ حسب سابق ٹیم کی بیٹنگ لائن ریت کی دیوار ثابت ہوئی اور ابتدائی تین وکٹیں محض 14 رنز کے مجموعی اسکور پر ہی گر گئیں۔ ان آؤٹ ہونے والے کھلاڑیوں میں اسٹار بیٹر بابر اعظم بھی شامل تھے، جو جوفرا آرچر کی گیند پر جس انداز میں آؤٹ ہوئے، اس پر سوشل میڈیا پر ان کا شدید مذاق اڑایا جا رہا ہے۔ کرکٹ شائقین کا کہنا ہے کہ دنیا کا صف اول کا بیٹر اتنے غلط انداز میں ایک بہترین بولر کا سامنا کرتے ہوئے اپنی وکٹ اس طرح نہیں گنوا سکتا۔ ان سے قبل اوپنر اذان اویس 6 رنز اور عبداللہ شفیق صفر پر پویلین لوٹ گئے تھے۔ بابر اعظم جب صرف 6 رنز بنا کر آؤٹ ہوئے تو پاکستان شدید بحران کا شکار ہو چکا تھا۔ اس نازک ترین موقع پر شان مسعود کے ساتھ سعود شکیل کریز پر جڑے اور دونوں نے مل کر مشکل وقت نکالا۔ میچ کے درمیان میں تیز بارش بھی ہوئی جس کی وجہ سے کچھ دیر کے لیے کھیل کو روکنا پڑا، لیکن بارش کے بعد جب کھیل دوبارہ شروع ہوا تو اننگز سیٹ دکھائی دے رہی تھی۔ تاہم، یہ پارٹنرشپ بھی زیادہ لمبی نہ چل سکی اور شان مسعود 111 رنز کے مجموعی اسکور پر آؤٹ ہو گئے۔ انہوں نے 72 گیندوں کا سامنا کرتے ہوئے 26 رنز بنائے۔ چوتھی وکٹ کے لیے ان دونوں کے درمیان 97 رنز کی شراکت داری قائم ہوئی تھی جو یہاں دم توڑ گئی۔کپتان کے آؤٹ ہونے کا نقصان پاکستان کو یہ ہوا کہ نئے آنے والے کھلاڑی محمد رضوان ٹیم کے اسکور میں صرف 4 رنز کا اضافہ کر سکے اور خود ایک رن بنا کر پویلین لوٹ گئے، جس سے پاکستان کا اسکور 115 رنز پر پانچ وکٹیں ہو گیا۔ اس کے بعد علی عثمان کریز پر آئے، انہوں نے سعود شکیل کا ساتھ دیا اور شراکت داری کو آگے بڑھاتے ہوئے ٹیم کا اسکور 146 رنز تک لے گئے۔ علی عثمان نے پراعتماد بیٹنگ کی لیکن وہ بھی 44 گیندوں کا سامنا کرتے ہوئے 16 رنز بنا کر آؤٹ ہو گئے۔ پاکستان کا اگلا اور سب سے بڑا نقصان 169 کے اسکور پر اس وقت ہوا جب سعود شکیل جوش ٹونگ کی گیند پر ہیری بروک کے ہاتھوں کیچ آؤٹ ہو گئے۔ سعود شکیل اس میچ میں خوش قسمت بھی رہے اور بدقسمت بھی۔ وہ خوش قسمت اس لیے رہے کہ انہوں نے گرتی ہوئی وکٹوں کے سامنے ہمت نہ ہاری اور تن تنہا پاکستان کی اننگز کی طرف سے جاندار فائٹ کی، لیکن بدقسمت یوں رہے کہ لارڈز جیسے کرکٹ کے مقدس مقام پر وہ محض تین رنز کی کمی سے اپنی شاندار سنچری مکمل نہ کر سکے اور 97 رنز پر ہمت ہار گئے۔ سعود شکیل کے آؤٹ ہوتے ہی پاکستان کی آخری امید بھی دم توڑ گئی۔ امام الحق انجری کی وجہ سے بیٹنگ کرنے نہیں آئے اور انہوں نے آنا بھی نہیں تھا، جس کے بعد پاکستان کی پوری ٹیم آؤٹ 194 رنز پر آؤٹ ہو گئی اور انگلینڈ نے یہ میچ 194 رنز سے جیت کر تین میچوں کی سیریز میں دو صفر کی ناقابل شکست برتری حاصل کر لی۔ انگلش بولر اولی رابنسن نے اس اننگز میں تباہ کن باؤلنگ کرتے ہوئے صرف 24 رنز دے کر چار وکٹیں حاصل کیں، جب کہ انہوں نے پہلی اننگز میں بھی چار کھلاڑیوں کو آؤٹ کیا تھا۔
اولی رابنسن میں آف دی میچ تھے۔