لندن۔کرک اگین رپورٹ ۔اضافی تجزیہ۔عمران عثمانی
لارڈز لارڈ کے نخرے اٹھاتا ہے، ڈرپوک اور بزدل کھلاڑیوں کے نہیں۔پاکستان کرکٹ کی بیٹنگ لائن کی تباہی کی نئی داستان اور انگلینڈ کی مجموعی برتری اس وقت کرکٹ کی بریکنگ نیوز ہے۔
کرکٹ کی تازہ ترین خبر یہ ہے کہ لارڈز کا وہ قلعہ پاکستان کے ہاتھ سے نکل رہا ہے اور دنیا دیکھ رہی ہے کہ لارڈز سے پاکستان کے ہاتھ سے کیا کچھ نکل رہا، لیکن اس مرتبہ پاکستان کا ماضی قریب کا شاندار ریکارڈ جا رہا ہے اور پاکستان کے حاضر رواں کی ساکھ شریف جا رہی ہے۔
جی ہاں۔انگلینڈ نے پاکستان کے خلاف دوسرے ٹیسٹ کے دوسرے دن کے اختتام پر مجموعی برتری 261 رنز کی کر لی ہے اور اس کی سات وکٹیں باقی ہیں۔ کرکٹ کی تازہ ترین نیوز یہ ہے کہ پاکستان کرکٹ تباہی کے دہانے پر پہنچ گئی ہے، دوسرے دن بھی بارش کی وجہ سے کچھ دیر کا کھیل ضائع ہوا، لارڈز ٹیسٹ کو شروع ہوئے ابھی دو دن ہوئے ہیں اور پاکستان اس وقت شکست کے دہانے پر کھڑا ہے۔دوسرا دن پہلے خراب روشنی کی وجہ سے کھیل روکا گیا اور اس کے فوری بعد کھیل ختم کر دیا گیا، جس کے اختتام پر انگلینڈ نے اپنی دوسری اننگز میں تین وکٹ پر 81 رنز بنا لیے تھے۔ انگلینڈ کا آغاز اچھا نہ تھا اور 13 رنز تک اس کے دو کھلاڑی بین ڈکٹ ایک رن اور جارڈن کوکس 11 رنز بنا کر پویلین لوٹ گئے تھے، جس کے بعد جو روٹ نے ایمیلیو گے کے ساتھ مل کر تیسری وکٹ تک اسکور 60 تک پہنچایا۔ یہاں جو روٹ ایک بار پھر ایل بی ڈبلیو ہوئے، انہیں اس مرتبہ محمد علی نے کیا اور وہ گزشتہ 12 اننگز میں 9 مرتبہ ایل بی ڈبلیو ہوئے ہیں جس سے ثابت ہوتا ہے کہ ان کی کمزوری پکڑی جا چکی ہے۔ جو روٹ 24 رنز بنا کے پویلین لوٹے تو یہاں پاکستان کے پاس موقع تھا کہ وہ دباؤ بڑھاتا لیکن اس کے بعد آنے والے ہیری بروک نے اپنی وکٹ نہیں گرنے دی اور 7 رنز پر ناٹ آؤٹ ہیں جبکہ ایمیلیو گے 30 رنز پر ناٹ آؤٹ ہیں۔ پاکستان کی جانب سے خرم شہزاد نے دو اور محمد علی نے ایک وکٹ حاصل کی۔
لارڈز ٹیسٹ کا پہلا دن،9 وکٹیں گر گئیں، 248 رنز بن گئے، دن آخر کس کے نام
اس سے پہلے کیا ہوا؟ پاکستان کی کرکٹ ٹیم انگلینڈ کے پہلی اننگز کے 290 رنز کے جواب میں صرف 110 رنز بنا کر آؤٹ ہو گئی اور پاکستان کے کھلاڑی محض 37.2 اوور ہی کھیل سکے۔ مزیدار بات یہ تھی کہ اذان اویس کے 46 رنز کے بعد دوسرا بڑا اسکور فاضل رنز کا 20 تھا، اور تیسرا اسکور سعود شکیل کے 16 رنز تھے، جبکہ اس کے علاوہ کوئی کھلاڑی ڈبل فیگر میں نہیں جا سکا۔ ٹیم کا حال یہ رہا کہ شان مسعود 1، عبداللہ شفیق 5، کپتان بابر اعظم 8 اور محمد رضوان 7 رنز ہی کر سکے، جبکہ علی عثمان ایک، خرم شہزاد ایک، محمد عباس 2 رنز بنا کر آؤٹ ہوئے اور محمد علی تین رنز پر ناٹ آؤٹ یعنی ناقابلِ شکست رہے، جبکہ امام الحق زخمی ہونے کی وجہ سے بیٹنگ کے لیے نہیں آ سکے جس کا پاکستان کو بہرحال نقصان ہوا۔ انگلینڈ کی جانب سے اولی رابنسن نے 13 اوور میں چھ میڈن کیے اور 11 رنز دے کے چار وکٹیں لیں، جوفرا آرچر نے بھی 11 اوورز میں 26 رنز دے کے تین کھلاڑیوں کو آؤٹ کیا اور جوش ٹونگ نے 27 رنز دے کے دو وکٹیں حاصل کیں۔
من جب کہ دوسرے دن کی شروعات میں انگلینڈ کی کرکٹ ٹیم پہلی اننگز میں 290 رنز بنا کر آؤٹ ہوئی تھی اور آخری وکٹ کی شراکت میں اچھے رنزوں کا اضافہ ہوا جس کے نتیجے میں محمد عباس نے چار، محمد علی نے تین اور خرم شہزاد اور علی عثمان نے ایک ایک وکٹ حاصل کی تھی، اور اب کہا جا سکتا ہے کہ میچ کا تیسرا دن فیصلہ کن ہو سکتا ہے۔
