کراچی۔کرک اگین رپورٹ ۔جاوید میانداد عمران خان کے لئے رو پڑے،مکمل تفصیلات۔
کرکٹ بریکنگ نیوز۔تازہ ترین کرکٹ آرٹیکلز میں سے ایک ہے۔
پاکستان کرکٹ ٹیم کے سابق کپتان اور عمران خان کے پرانے ساتھی جاوید میانداد ایک نجی ٹیلی ویژن پروگرام میں پھوٹ پھوٹ کر رو پڑے۔ یہ آنسو ایک ایسے وقت میں نکلے ہیں جب دنیا بھر کے نامور کپتانوں نے عمران خان کی حیثیت اور ان کی طبی سہولیات کی بحالی کے لیے عالمی سطح پر آواز بلند کی ہے۔ یہی نہیں، بلکہ کھیل کے گھر ‘لارڈز’ سے بھی عمران خان کے لیے مسلسل آوازیں اٹھ رہی ہیں اور وہاں ان کے بیٹوں کا انٹرویو بھی نشر ہوا ہے۔ ایسے ماحول میں جاوید میانداد نے رندھی ہوئی آواز میں ہاتھ اٹھا کر عمران خان کے لیے دعائیں مانگیں اور اربابِ اختیار سے سیدھا سوال کیا کہ “آخر کیا جرم کیا ہے اس نے؟ کیا کچھ اس نے اپنے ملک کو نہیں دیا کہ ہم اپنے ہیروز کے ساتھ یہ سلوک کر رہے ہیں۔
ایک سوال کے جواب میں جاوید میانداد نے کہا کہ جب ہم جیسے عام کرکٹ کے چاہنے والے اس ناانصافی پر آواز اٹھاتے ہیں، تو لوگ کہہ دیتے ہیں کہ “یار! تم کیوں جذباتی ہو رہے ہو؟ چھوڑو، تمہیں اس سے کیا فرق پڑتا ہے؟” لیکن کوئی ان سے پوچھے کہ ہم نے کوئی غلط بات یا چولی تو نہیں ماری نا! ہم نے تو صرف اس سچ کا ساتھ دیا ہے جو ہر پاکستانی کے دل کی آواز ہے۔ جاوید میانداد نے جواب دیا کہ جس کھلاڑی نے پاکستان کے لیے اپنا خون پسینہ ایک کیا، جس نے اپنی زندگی کا بہترین وقت اس ملک کے نام کر دیا، آج اسی کو دیوار سے لگایا جا رہا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ ماضی میں ابلاغ عامہ (میڈیا) نے ہمارے درمیان کراچی اور لاہور کی مخالفت کا ایک فرضی ڈرامہ بنا کر رکھا، کبھی کپتانی کی بحث چھیڑی تو کبھی حیدرآباد کے کسی واقعے کو اچھالا گیا، لیکن سچ یہ ہے کہ ہمارے درمیان کبھی کوئی ذاتی دشمنی تھی ہی نہیں۔ ہم نے 17 سال ساتھ کرکٹ کھیلی، چھ چھ مہینے انگلینڈ میں ساتھ کاؤنٹی کرکٹ گزاری، ہمارا اٹھنا بیٹھنا اور کھانا پینا ساتھ تھا۔ ہم نے عالمی کپ 1992 سمیت پاکستان کو بے شمار فتوحات دلوائیں کیونکہ میدان میں ہمارا مقصد صرف ایک تھا۔
پاکستان کی جیت۔ میں نے آج تک کسی انٹرویو میں گلہ نہیں کیا کہ میرے ساتھ کچھ غلط ہوا، کیونکہ میرا ایمان ہے کہ جو نصیب میں ہوتا ہے وہی ملتا ہے، اور اللہ نے مجھے بہت عزت دی ہے۔ وہ شخص کوئی کھانے پینے والا یا بدعنوان انسان نہیں تھا، اس نے جو کیا ملک کے لیے کیا۔ میری اللہ سے یہی دعا ہے کہ یہ مسئلہ حل ہو جائے، آمین۔ آخر میں، جاوید میانداد نے کہا کہ سچے تبصرے کا بہت بہت شکریہ، جس نے ہم جیسے لاکھوں مداحوں کے دل کی ترجمانی کی ہے۔
دوسری طرف، اسی لارڈز کے میدان میں شروع ہونے والے حالیہ ٹیسٹ میچ کے تناظر میں ہماری موجودہ کرکٹ ٹیم کی زبوں حالی پر جاوید میانداد نے ایک سوال کے جواب میں کہا کہ اس وقت کرکٹ بورڈ جس نہج پر چل رہا ہے، وہاں انہیں کوئی صحیح بات سمجھانے والا ہی موجود نہیں ہے۔ یہی وجہ ہے کہ پاکستان ٹیم مسلسل مسائل کا شکار ہے اور گراؤنڈ میں کارکردگی صفر ہے۔ جاوید میانداد نے جواب دیا کہ اگر ٹیم مسائل میں ہے، تو پہلے بیٹھ کر یہ تو پوچھو کہ اصل مسئلہ کیا ہے؟ مگر یہاں بنا سوچے سمجھے اوپر سے فیصلے مسلط کیے جا رہے ہیں اور یہی حال پاکستان کے ہر کھیل کا ہو چکا ہے۔ آج ہمارے کھلاڑی مسلسل ناکام ہو رہے ہیں، لیکن وہ خود بیٹھ کر یہ سوچنے کی زحمت نہیں کرتے کہ “میں کیوں آؤٹ ہو رہا ہوں؟ مجھ سے کہاں غلطی ہو رہی ہے؟” کرکٹ کا اصول ہے کہ جب آپ برے دور سے گزر رہے ہوں، تو اپنے سینئرز کے پاس جائیں، مگر ہماری کرکٹ میں اب یہ روایت ہی ختم ہو چکی ہے۔
۔
ایک اور سوال کے جواب میں جاوید میانداد نے کہا کہ لارڈز ٹیسٹ میں پاکستانی کھلاڑیوں کا انداز انتہائی مایوس کن ہے۔ ان کے جھکے ہوئے کندھے اور چہرے صاف بتا رہے ہیں کہ وہ میدان میں اترنے سے پہلے ہی ذہنی طور پر ہار چکے ہیں۔ جب آپ کے اندر کا خوف صاف نظر آ رہا ہو، تو حریف ٹیم نے آپ سے کیا ہارنا ہے؟ جاوید میانداد نے جواب دیا کہ میدان میں ڈرنے کی کوئی ضرورت نہیں ہوتی، جب آپ کھیلنے آ گئے ہیں تو پھر ڈر کیسا؟ لیکن افسوس کہ ہمارا وہ روایتی اعتماد اب کہیں کھو چکا ہے۔ ہم دن رات اپنا موازنہ بھارت سے کرتے ہیں، لیکن سچ یہ ہے کہ ہم خود کچھ کرنے کو تیار نہیں، صرف ایک دوسرے پر الزام تراشی کر رہے ہیں۔ کرکٹ ایک ایسا کھیل ہے جہاں اگر آپ ایک دو بار مسلسل آؤٹ ہو جائیں، تو دباؤ سے نکلنا بڑا مشکل ہوتا ہے۔ اس کا حل یہی ہے کہ کھلاڑی خود محنت کریں، اپنی جسمانی فٹنس اور تکنیک درست کریں اور اللہ سے دعا کر کے میدان میں جان لڑائیں، ورنہ اس ڈرپوک انداز کے ساتھ آپ کرکٹ سے اتنی جلدی باہر ہو جائیں گے کہ آپ کو خود سمجھ نہیں آئے گی۔انٹرویو کے آخر میں جاوید میانداد نے ارباب اختیار سے عاجزانہ گزارش کی کہ خدارا! اب مل بیٹھ کر اس مسئلے کا کوئی باعزت حل نکالیں، کیونکہ حل ہمیشہ مل بیٹھنے سے ہی نکلتا ہے۔ ہم سب ایک ہی رنگ، یعنی ‘سبز رنگ’ کے سائے تلے جمع ہیں اور جب ہم پاکستان کا ہرا جھنڈا اٹھا لیتے ہیں تو پھر پیچھے تمام اختلافات، نفرتیں اور دوریاں ختم ہو جانی چاہئیں۔ اگر ماضی میں کوئی بھی اونچ نیچ یا غلطی ہوئی ہے، تو ہماری روایتی زبان میں کہتے ہیں نا کہ “یار! اب مٹی پاؤ اور بات ختم کرو۔” اس بات کو اس نہج پر لے جانا کہ دنیا ہنسے، بالکل درست نہیں۔ وہ شخص پاکستان کا وزیراعظم رہا ہے، اس پر کوئی چوری کا الزام نہیں ہے۔ اب آگے کیا ہوگا؟ یہ تو اللہ ہی بہتر جانتا ہے، اور وہی سب کے لیے بہتر کرے گا۔ ہم تو بس یہی کہہ سکتے ہیں کہ جو وقت ہم نے دیکھا اور جو سنہرا دور گزارا، اس کی یادیں جب دل میں آتی ہیں تو سچ مچ آنکھوں سے آنسو نکل آتے ہیں۔ یہ آنسو کسی کمزوری کے نہیں، بلکہ اس عظیم کھلاڑی کی بے پناہ عزت، احترام اور محبت کے ہیں۔
