پاکستان کرکٹ بورڈ کی کوچنگ میوزیکل چیئر،،26 سالوں میں 25 کوچز کا انوکھا ریکارڈ۔کرکٹ کا تازہ ترین آرٹیکل یہ ہے کہ
پاکستان کرکٹ بورڈ نے جس انداز میں ہیڈ کوچز کو تبدیل کرنے اور ہٹانے کا سلسلہ جاری رکھا ہوا ہے، اس کی مثال دنیا کے کسی بھی دوسرے ملک کے کرکٹ نظام میں نہیں ملتی۔
رواں صدی کی تاریخ پر نظر دوڑائی جائے تو یہ واضح ہو جاتا ہے کہ پاکستان کرکٹ میں کوچ کی کرسی کبھی بھی مستقل نہیں رہی۔ اگر ہم صرف حالیہ سالوں کا جائزہ لیں، یعنی عمران خان کی حکومت کے خاتمے سے لے کر اب تک کے محض چار سال کے مختصر عرصے کو دیکھیں، تو اس دوران 9 ہیڈ کوچز کے چہرے تبدیل کیے جا چکے ہیں۔ فیصلہ سازی میں اتنی جلدی اور اس بڑے پیمانے پر رد و بدل ایک ناقابل یقین اور حیران کن مثال ہے، جس نے ٹیم کے استحکام کو بری طرح متاثر کیا ہے۔
اگر سال 2000 سے لے کر اب تک کے گزشتہ 26 سالوں کی طویل تاریخ کو دیکھا جائے تو پاکستان کرکٹ بورڈ نے تقریباً 25 سے 26 بار کوچز کے چہرے بدلے ہیں۔ ان 26 سالوں میں صرف دو کوچز ایسے گزرے ہیں جنہوں نے اپنے عہدے کی مدت کو تین سال تک کامیابی سے برقرار رکھا جن میں ایک باب وولمر اور دوسرے مکی آرتھر تھے۔ ان دونوں کے علاوہ کسی بھی کوچ کو اتنا وقت ہی نہیں دیا گیا کہ وہ ٹیم کے ساتھ کوئی طویل المدتی منصوبہ بندی کر سکیں۔ ان حالات کو دیکھتے ہوئے اگر کوئی ماہر یا عام کرکٹ فین پاکستان کرکٹ بورڈ کے پورے سسٹم یا اس کی فیصلہ سازی کی صلاحیت پر سخت تنقید کرتا ہے تو وہ بالکل جائز معلوم ہوتی ہے۔ دنیا بھر میں شاید کپڑے اتنی تیزی سے نہیں بدلے جاتے جتنی جلدی پی سی بی اپنے ہیڈ کوچز کو تبدیل کر دیتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ پاکستان کرکٹ ٹیم میں کبھی بھی نظم و ضبط اور تسلسل نظر نہیں آیا، کیونکہ ہر نیا آنے والا کوچ اپنے ساتھ نیا مائنڈ سیٹ لاتا ہے اور اس سے پہلے کہ کھلاڑی اس کے انداز کو سمجھیں، بورڈ کوچ ہی بدل دیتا ہے۔ یہ غیر سنجیدہ رویہ دنیا بھر میں پاکستان کرکٹ کے امیج کو شدید نقصان پہنچا رہا ہے۔
اگر ہم سال 2000 سے لے کر اب تک کی پوری تاریخ کو ترتیب وار دیکھیں تو کوچز کی یہ آمد و رفت ایک تماشے سے کم نظر نہیں آتی۔ اس سلسلے کا آغاز جاوید میانداد سے ہوا جو سال 2000 سے 2001 تک ہیڈ کوچ رہے، جس کے بعد 2001 میں رچرڈ پائبس اور پھر 2001 سے 2002 تک مدثر نذر نے یہ ذمہ داری سنبھالی۔ سال 2002 سے 2003 کے دوران رچرڈ پائبس کو ایک بار پھر واپس لایا گیا، اور ان کے بعد 2003 سے 2004 تک جاوید میانداد نے دوبارہ یہ عہدہ سنبھالا۔ اس کے بعد پاکستان کرکٹ کی تاریخ کا ایک سنہرا دور شروع ہوا جب باب وولمر سال 2004 سے 2007 تک مسلسل تین سال ٹیم کے ساتھ رہے، لیکن ان کے جانے کے بعد دوبارہ وہی پرانا تماشا شروع ہو گیا۔ سال 2007 سے 2008 تک جیوف لاسن، 2008 سے 2010 تک انتخاب عالم، اور 2010 سے 2011 تک وقار یونس کوچ بنے۔ سال 2011 سے 2012 کے مختصر عرصے کے لیے محسن خان آئے، جن کے بعد 2012 سے 2014 تک ڈیو واٹمور نے کوچنگ سنبھالی۔ سال 2014 میں معین خان کو آزمایا گیا، اور پھر 2014 سے 2016 تک وقار یونس کو دوسری مرتبہ یہ ذمہ داری سونپی گئی۔ اس کے بعد مکی آرتھر کا کامیاب دور آیا جو 2016 سے 2019 تک تین سال برقرار رہا۔مکی آرتھر کے جانے کے بعد 2019 سے 2021 تک مصباح الحق، اور پھر 2021 سے 2023 تک ثقلین مشتاق ہیڈ کوچ رہے۔ سال 2023 تو جیسے کوچز تبدیل کرنے کا سال بن گیا، جہاں پہلے عبدالرحمن، پھر گرانٹ بریڈبرن اور سال کے آخر میں یعنی 2023 سے 2024 کے آغاز تک محمد حفیظ کو لایا گیا۔ سال 2024 میں پہلے اظہر محمود اور پھر آسٹریلیا کے جیسن گلیسپی آئے، لیکن وہ بھی زیادہ دیر نہ ٹک سکے اور 2024 سے 2025 کے دوران عاقب جاوید کو یہ عہدہ مل گیا۔ کہانی یہیں ختم نہیں ہوئی، سال 2025 سے 2026 کے درمیان ایک بار پھر اظہر محمود کی واپسی ہوئی، اور پھر سال 2026 کے دوران ہی پہلے سرفراز احمد اور اب مائیک ہیسن کو ہیڈ کوچ مقرر کیا گیا ہے۔ کوچز کی یہ طویل اور افر تفری سے بھرپور فہرست صاف ظاہر کرتی ہے کہ پاکستان کرکٹ میں مستقل مزاجی نام کی کوئی چیز موجود نہیں ہے۔
کوچز،آدھے درجن کھلاڑی فارغ،وہ ہو گیا جو پہلے نہیں ہوا تھا،پاکستان کرکٹ زلزلے کی اندرونی کہانی
