لندن۔کرک اگین رپورٹ ۔
کرکٹ بریکنگ نیوز یہ ہے کہ پاکستان کرکٹ ٹیم کے سابق ہیڈ کوچ جیسن گلیسپی پاکستان کرکٹ بورڈاور موجودہ عاقب جاوید پر بری طرح برس پڑے ہیں۔ ان کی حالیہ تنقید اس قدر شدید اور غیر معمولی ہے کہ ماضی میں کسی بھی سابق سلیکٹر یا کوچ نے پاکستانی بورڈ کو اس انداز میں نشانہ نہیں بنایا۔
گلیسپی نے پی سی بی کے چیئرمین، پوری انتظامیہ اور عاقب جاوید کو کڑی تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے سنسنی خیز انکشاف کیا ہے کہ کرکٹ بورڈ اب بھی ان کا ہزاروں ڈالرز کا مقروض ہے۔ انہوں نے واضح طور پر خبردار کیا ہے کہ اگر عاقب جاوید نے ان کے خلاف بولنا بند نہ کیا، تو وہ ان کے خلاف قانونی کارروائی کرنے سے بھی گریز نہیں کریں گے۔
کرکٹ کی تازہ ترین خبریں بتاتی ہیں کہ غیر ملکی میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے، اپریل 2024 سے دسمبر 2024 تک صرف آٹھ ماہ پاکستان کی ریڈ بال ٹیم کے ہیڈ کوچ رہنے والے آسٹریلوی اسٹرائیکر نے بہت سے پردے اٹھائے ہیں۔ جیسن گلیسپی کا کہنا ہے کہ مجھے پاکستان آنے سے پہلے ہی خبردار کیا گیا تھا کہ وہاں کرکٹ کے معاملات میں ہمیشہ ایسا ہی ہوتا ہے، لیکن مجھے پاکستان کی کرکٹ، اس کی تاریخ اور یہاں کے فاسٹ بولرز سے گہرا لگاؤ تھا۔اسی لیے میں نے اسے ایک بڑے چیلنج کے طور پر قبول کیا۔ تاہم، اس دوران اچانک عاقب جاوید کی آمد ہوئی اور انہوں نے ٹیم کے معاملات میں اس طرح مداخلت شروع کر دی جیسے کوئی بڑا باس یا چیف کام چلاتا ہے۔ گلیسپی کے مطابق، وہ پاکستان میں تیز گیند بازوں کا ایک نیا لاٹ اگے لانا چاہتے تھے لیکن عاقب جاوید نے آ کر ان کے تمام منصوبے لپیٹ کر رکھ دیے، جہاں نہ کپتان کو کوئی اختیار تھا اور نہ ہی کوچ کو۔ ہر چیز میں حد سے زیادہ دخل اندازی دیکھ کر وہ اسی وقت سمجھ گئے تھے کہ یہ نظام انہیں کام نہیں کرنے دے گا۔
ہمارے کرکٹ کے تازہ ترین آرٹیکلز میں اس بات کا بھی تفصیلی تذکرہ ملتا ہے کہ آسٹریلیا کے سابق مایہ ناز فاسٹ بولر نے یہ انکشاف بھی کیا کہ انہوں نے حالات سے تنگ آ کر خود استعفیٰ دیا تھا، جس کے کچھ ہی دنوں بعد وائٹ بال فارمیٹ کے کوچ گیری کرسٹن نے بھی اپنا عہدہ چھوڑ دیا کیونکہ وہ دونوں دیکھ رہے تھے کہ پردے کے پیچھے کیا کھچڑی پک رہی ہے۔ اس تمام افر تفری کے پیچھے عاقب جاوید کا ہاتھ تھا۔ گلیسپی نے شکوہ کیا کہ انگلینڈ کے خلاف ہوم سیریز کے پہلے میچ میں شکست کے بعد جب عاقب جاوید آئے تو انہوں نے پچز تبدیل کر دیں، جس سے کوچ کی حیثیت سے ان کی ساکھ کو شدید نقصان پہنچا۔ سابق کوچ نے انتہائی مایوسی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ اس پورے تجربے نے انہیں ذہنی طور پر بری طرح متاثر کیا، ان کی بے عزتی کی گئی اور وہ خود پر شک کرنے لگے کہ کیا انہیں اب اس کھیل کا حصہ رہنا بھی چاہیے یا نہیں۔
لیڈز اور لارڈز بھول جائیں,ایج باسٹن کی تاریخ بابر الیون کےسب سے بڑا ڈراؤنا خواب
اس کرکٹ اپڈیٹ کے مطابق انگلینڈ کے خلاف محض پندرہ دنوں کے اندر ملنے والی دو پے درپے شکستوں، دو اہم کوچز کی برطرفی اور سات سینیئر کھلاڑیوں کو ٹیم سے نکالے جانے کے بعد پاکستان کرکٹ میں اس وقت ایک شدید بحران اور افر تفری کا سماں ہے۔ اس گڑبڑ پر ہر کرکٹ ماہر اپنی رائے دے رہا ہے، لیکن گلیسپی کا بیان سب سے زیادہ اہمیت کا حامل ہے۔ انہوں نے موجودہ ہیڈ کوچ محمد حسنین کو مخلصانہ مشورہ دیا ہے کہ وہ پی سی بی کے سامنے محض ایک ‘یس مین بننے کے بجائے اپنی پوری طاقت، اختیار اور عادات کے مطابق کام کریں۔ گلیسپی نے آخر میں انتہائی دل گرفتہ انداز میں کہا کہ پاکستان کرکٹ کی یہ حالت دیکھ کر ان کا دل خون کے آنسو روتا ہے، یہ پورا نظام ایک گڑبڑ کا شکار ہو چکا ہے جس کی اصل جڑ عاقب جاوید ہیں اور جب تک وہ اس نظام کا حصہ ہیں، پاکستان کرکٹ آگے بڑھنے کے بجائے ہمیشہ پیچھے کی طرف ہی جاتی رہے گی۔
