حافظ محمد عمران عثمانی
لیڈز اور لارڈز بھول جائیں، ایج باسٹن کی وہ تاریخ جو بابر الیون کے لیے سب سے بڑا ڈراؤنا خواب ہوگی۔
نہ تو اب یہ لیڈز ہے اور نہ ہی لارڈز، اب جو منزل ہے وہ اور بھی کٹھن ہے۔ کرکٹ کے تازہ ترین آرٹیکلز میں سے ایک یہ کرکٹ بریکنگ نیوز بھی ہے اور کرکٹ کی تازہ ترین خبریں بھی، جس نے اس وقت کرکٹ کے حلقوں میں ہلچل مچا رکھی ہے۔ پاکستان کرکٹ اس وقت جس نہج پر پہنچ چکی ہے، وہاں ہر گزرتا دن ایک نیا بحران اور نئی کہانی لے کر آتا ہے۔ پاکستان اور انگلینڈ کے درمیان جاری موجودہ ٹیسٹ سیریز اپنے اختتام کی طرف بڑھ رہی ہے اور آج ایج باسٹن، برمنگھم میں وائٹ بال فارمیٹ کے نئے ہیڈ کوچ مائیک ہیسن نے پریس کانفرنس کرتے ہوئے باقاعدہ اپنا تعارف کروایا اور مستقبل کا مشن واضح کیا۔
انہوں نے پریس کانفرنس میں پاکستان کرکٹ بورڈ (پی سی بی) کے کچھ متنازع اور غلط فیصلوں کا دفاع کرنے کی کوشش کی تو کچھ معاملات پر مبہم انداز اختیار کیا، آخر انہیں بھی تو یہاں اپنی نوکری کرنی ہے۔ دوسری طرف، سابق ہیڈ کوچ جیسن گلیسپی جیسے اسی موقع کے انتظار میں بیٹھے تھے۔ جس طرح انہیں عہدے سے ہٹایا گیا اور پسِ پردہ مبینہ طور پر عاقب جاوید کا ہاتھ بتایا گیا، گلیسپی نے آج سارا ملبہ عاقب جاوید پر ڈالتے ہوئے انتہائی سخت باتیں کی ہیں۔ اگر غیر جانبدار ہو کر دیکھا جائے تو گلیسپی کی بات میں وزن ہے۔ اس وقت پی سی بی میں فیصلہ سازی کا تمام تر اختیار عاقب جاوید اینڈ کمپنی کے پاس ہے، جو جب چاہیں پچ کا حلیہ بگاڑ کر اسپنرز کھلا دیں اور جب ہوم گراؤنڈ پر ایشیا میں چیمپئنز ٹرافی جیسا بڑا ایونٹ سر پر ہو، تو اسکواڈ میں ایک بھی کوالٹی اسپنر شامل نہ کریں۔ سمجھ سے باہر ہے کہ یہ مینجمنٹ کس مشن پر تھی اور ٹیم کو کہاں سے کہاں پہنچا دیا۔ یہی وجہ ہے کہ آج ہمیں یہ کڑوا سچ سننا پڑ رہا ہے کہ 50 سالہ کرکٹ تاریخ کی کمزور ترین پاکستانی ٹیم انگلینڈ آئی ہے، اور ستم ظریفی یہ ہے کہ اس وقت پاکستان کرکٹ تاریخ کی سب سے کمزور ترین پی سی بی ایڈمنسٹریشن کا سامنا کر رہی ہے۔
خیر، اب رخ کرتے ہیں برمنگھم کا، جہاں پاکستانی ٹیم دو صفر کے خسارے کے ساتھ ایجباسٹن ٹیسٹ میں وائٹ واش کے شدید خطرے تلے میدان میں اترنے والی ہے۔
یہ نہ تو لیڈز کا میدان ہے جہاں 1987 میں پاکستان نے سنہری فتح سمیٹی تھی، اور نہ ہی یہ لارڈز کرکٹ گراؤنڈ ہے جہاں گزشتہ میچ سے پہلے پاکستان کا ریکارڈ انگلینڈ پر بھاری تھا اور ہم چار کے مقابلے میں پانچ فتوحات کے ساتھ برتری لیے ہوئے تھے۔ یہ ایجباسٹن برمنگھم کا وہ میدان ہے جو پاکستان کرکٹ کے لیے ہمیشہ ایک بھیانک خواب ثابت ہوا ہے، جہاں ہم تاریخ میں آج تک کوئی ٹیسٹ میچ جیت ہی نہیں سکے۔ پاکستان نے یہاں 1962 میں پہلا اور 2016 میں آخری ٹیسٹ دیکھا، لیکن اتنے طویل عرصے میں ایک بھی کامیابی نصیب نہ ہوئی۔ اس گراؤنڈ پر دونوں ٹیموں کے درمیان اب تک 8 ٹیسٹ میچز کھیلے جا چکے ہیں، جن میں سے انگلینڈ نے 5 میچز جیتے اور پاکستان صرف 3 میچز ڈرا کرنے میں کامیاب رہا۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ یہ ڈرا میچز بھی پاکستان کرکٹ کے اس سنہرے دور میں ہوئے جب ہماری ٹیم جیتنا جانتی تھی۔ ایک میچ 1987 میں عمران خان کی قیادت میں ڈرا ہوا اور دوسرا 1992 میں جاوید میانداد کی کپتانی میں، اور یہ دونوں ہی سیریز پاکستان جیتی تھی۔ ایجباسٹن پر تاریخ پر نظر ڈالیں تو 1962 میں پاکستان پہلا ٹیسٹ اننگز اور 24 رنز سے ہارا۔ جون 1971 کا دوسرا ٹیسٹ ڈرا ہوا، جس میں ظہیر عباس نے 274 رنز کی وہ یادگار اننگز کھیلی تھی جو موجودہ بیٹرز کے لیے اب محض ایک خواب دکھائی دیتی ہے۔ اس کے بعد 1978 میں انگلینڈ اننگز اور 57 رنز سے جیتا، جبکہ 1982 میں پاکستان کو 113 رنز سے شکست کا سامنا کرنا پڑا۔ طویل عرصے بعد 2010 میں پاکستان یہاں 9 وکٹوں سے ہارا، اور اب سے ٹھیک دس برس قبل اگست 2016 میں کھیلے گئے آخری ٹیسٹ میں ہمیں 141 رنز سے عبرتناک شکست ہوئی۔ 8 میچز، 5 شکستیں اور 3 ڈرا
یہ ہے ایج باسٹن کا وہ ریکارڈ جو ہماری کمزور تاریخ اور حالیہ غلط فیصلوں کا منہ بولتا ثبوت ہے۔
جب ایج باسٹن برمنگھم سے پاکستان کی کوئی اچھی یاد وابستہ ہی نہیں ہے، تو کرکٹ فینز اس ٹیم سے بھلا کیا امیدیں وابستہ کریں؟ ایک ایسی ٹیم جس کی اپنی امیدیں سات سینئر کھلاڑیوں کو باہر نکال کر اور دو کوچز کو ہٹا کر پہلے ہی دم توڑ چکی ہیں۔ میچ سے قبل جب کھلاڑیوں کو دیکھا گیا تو ان کے چہرے اترے ہوئے تھے، کندھے جھکے ہوئے تھے اور ہوائیاں اڑی ہوئی تھیں، جیسے وہ کسی بہت بڑی مصیبت کا سامنا کرنے جا رہے ہو۔ دوسری طرف انگلینڈ کا ہدف واضح ہے کہ وہ اس تاریخ کی کمزور ترین پاکستانی ٹیم کو 3-0 سے کلین اسویپ کرے۔ نئے وائٹ بال ہیڈ کوچ مائیک ہیسن بھی انگلینڈ پہنچ چکے ہیں، لیکن ان کی گفتگو میں وہی روایتی باتیں تھیں کہ “میں ٹیم کو اکٹھا کرنے کی کوشش کروں گا”، جس میں کوئی نیا یا مثبت پہلو نظر نہیں آیا۔ پاکستان اور انگلینڈ کے درمیان یہ تیسرا ٹیسٹ میچ 9 ستمبر سے ایج باسٹن برمنگھم میں شروع ہو رہا ہے۔ لیڈز اور لارڈز میں ہار کے بعد سیریز تو ہاتھ سے جا چکی ہے، اب مشن صرف کلین سویپ سے بچنا ہے، لیکن کیا پاکستان اس شکست کو ٹال سکے گا؟ کیا برمنگھم کی بارش پاکستان کی لاج رکھے گی؟ اور اگر ایسا نہ ہوا، تو کیا اس عبرتناک ہار کے بعد باقی ماندہ اسکواڈ کو پاکستان آنے دیا جائے گا یا انہیں انگلینڈ سے ہی معطل کر کے گھر بھیج دیا جائے گا؟ اگر ایسی کوئی خبر آتی ہے تو پاکستان کرکٹ کا جو تماشا لگا ہوا ہے، شاید اس کا کلائمیکس بھی سامنے آ جائے۔
انجام اور نتائج سب کے سامنے ہیں، ٹیم زوال کا شکار ہے، کپتان شدید دباؤ میں ہے اور اس وقت اسکواڈ میں کوئی ایسا ورلڈ کلاس کھلاڑی دکھائی نہیں دیتا جس پر فینز بھروسہ کر سکیں۔
اندرونی خلفشار یا ، ایجبسٹن میں پاکستانی کھلاڑیوں کی مرجھائی باڈی لینگویج ، سوالات
اب سب سے بڑا سوال یہ ہے کہ اگر پاکستان یہ ٹیسٹ میچ بھی ہار گیا تو آگے کیا ہوگا؟ کیا بابر اعظم کی کپتانی برقرار رہ سکے گی؟ کیا مائیک ہیسن کو بھی عارضی پالیسی کی نذر کرتے ہوئے عہدے سے ہٹا دیا جائے گا؟ آگے کا منظرنامہ انتہائی مصروف اور چیلنجنگ ہے کیونکہ سری لنکا کے خلاف ہوم ٹیسٹ سیریز بالکل سر پر کھڑی ہے۔ اگرچہ درمیان میں کچھ ٹی ٹونٹی میچز اور ایک سہ فریقی ون ڈے سیریز بھی شیڈول ہے، لیکن پی سی بی کے پاس تجربات کے لیے وقت بالکل نہیں ہے۔ پاکستان کرکٹ کو ان عارضی اور جلد بازی میں کیے گئے فیصلوں سے بچانے کے لیے ضروری ہے کہ ٹیم کی باگ ڈور اور مینجمنٹ مستقل بنیادوں پر مخلص اور بہتر لوگوں کے ہاتھ میں دی جائے، سلیکٹرز اور کوچز باصلاحیت ہوں اور کھلاڑیوں کو بغیر کسی خوف کے بھرپور اعتماد دیا جائے، کیونکہ نتائج تب ہی نکلتے ہیں۔ انہی خیالات کا اظہار انگلینڈ کے سابق کپتان ناصر حسین، مائیکل ایتھرٹن اور پاکستان کے سابق کپتان رمیز راجہ سمیت کئی سابق کرکٹرز کر رہے ہیں۔ اب گیند پی سی بی کے کورٹ میں ہے، لیکن سب سے بڑا سوال یہ ہے کہ چیئرمین پی سی بی محسن نقوی کا دعویٰ ہے کہ وہ تنقید سے نہیں گھبراتے۔ اب انہیں کون سمجھائے کہ کرکٹ حلقوں کی طرف سے ہونے والی یہ تنقید دشمنی میں نہیں بلکہ ‘تنقید برائے اصلاح’ ہے، اسے محض عام تنقید سمجھ کر نظر انداز کرنا پاکستان کرکٹ کو مزید اندھیروں میں دھکیل دے گا۔
